افغانستان ،بمباری ،طالبان کا حملہ 7پولیس اہلکاروں سمیت 28شہری جاں بحق ،5زخمی

افغانستان ،بمباری ،طالبان کا حملہ 7پولیس اہلکاروں سمیت 28شہری جاں بحق ،5زخمی

کوہاٹ؍کابل؍لشکر گاہ(این این آئی ؍آئی این پی) افغانستان کے جنوبی صوبہ ہلمند میں افغان و اتحادی افواج کی مبینہ بمباری کے نتیجے میں کم از کم (21) افغان شہری جاں بحق اور پانچ دیگر شدید زخمی ہوگئے جبکہ مغربی صوبہ فراہ میں طالبان نے پولیس چیک پوسٹ پر حملہ کر کے7پولیس اہلکاروں کو موت کے گھاٹ اْتار دیا۔ ہلمند میں افغان فوجی دستوں نے طالبان کے حراستی مرکز پر حملہ کر کے 7شہریوں کو رہا کر لیا۔ غیرملکی خبررساں ادارے‘کے مطابق افغان میڈیا اورافغان پارلیمنٹرین محمدہاشم الکوزئی کے حوالے سے یہاں موصولہ اطلاعات کے مطابق جمعہ کی شام جنوبی صوبہ ہلمند کے ضلع سنگین میں افغان و اتحادی افواج نے شدید بمباری کی جس کی زدمیں آکر 21 افغان شہری جاں بحق اور پانچ دیگر شدید زخمی ہوگئے۔ الکوزئی کے مطابق جاں بحق و زخمی افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔صوبہ ہلمند کے گورنر کے ترجمان عمرزواک نے واقعہ میں ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسندوں نے شہری علاقے سے افغان فورسز پر فائرنگ کی جس پر جوابی کاروائی کرتے ہوئے بمباری کی گئی تاہم ترجمان نے ہلاکتوں کی تعدادبتانے سے گریز گیا اور کہا کہ واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔ادھر گزشتہ روز مغربی صوبہ فراہ کے ضلع بالابولوک کی حدودمیں طالبان نے فراہ سے قندہار جانے والی شاہراہ پر واقع ایک پولیس چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں سات پولیس اہلکارہلاک ہو گئے۔صوبائی کونسل کے رکن داداللہ قانی نے بتایا ہے کہ اس حملے میں طالبان نے پولیس اہلکاروں سے اسلحہ بھی چھین لیا ہے جبکہ پولیس سربراہ نے واقعہ کی تفصیلات بتانے سے انکارکردیا تاہم طالبان ترجمان قاری یوسف احمدی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں سات پولیس اہلکاروں کو موت کے گھاٹ اْتاردیا گیا اور ان کے قبضہ سے11 ہتھیار بھی برآمدکرلئے۔دریں اثناء افغان فوجی دستوں نے افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند کے ضلع واشر میں طالبان کے حراستی مرکز پر حملہ کر کے7افراد کو رہا کرا دیا ہے۔رہا ہونے والے تمام افراد عام شہری تھے جنہیں مسلح انتہا پسندوں نے اغواء کر کے یہاں رکھا ہوا تھا۔اس کارروائی کے دوران ایک انتہا پسند ہلاک ہو گیا جبکہ موقع پر موجود ان کی ایک گاڑی بھی تباہ کر دی۔ایک ہفتے کے دوران طالبان کے خلاف کریک ڈاؤن کی مہم کے دوران طالبان کے حراستی مرکز پر یہ دوسرا حملہ تھا۔تاہم طالبان نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

مزید : صفحہ آخر