سانحہ ساہیوال: انصاف کی دہائی نہ دیں‘یہ اندھا ہوتا ہے

سانحہ ساہیوال: انصاف کی دہائی نہ دیں‘یہ اندھا ہوتا ہے
سانحہ ساہیوال: انصاف کی دہائی نہ دیں‘یہ اندھا ہوتا ہے

  

سانحہ ساہیوال تین روزمیں مجرموں کو لٹکانے سے شروع ہونے والی بات اب احتجاجوں اور بزدار کے استعفا کے مطالبے سے گزرتی ہوئی عدالتی کمیشن بنانے کی ہدایت تک آ پہنچی ہے۔

ہر آنے والے دن واقعے کے حقائق پر گرد پڑتی جارہی ہے۔ ایک رپورٹ آچکی کہ سی ٹی ڈی نے تو فائرنگ ہی نہیں کی۔ کل یہ بھی آجائے گا کہ یہ لوگ چند کلو میٹر پہلے پولیس پر فائرنگ کرکے آئے تھے۔ کوئی بھی ڈراما بنایا جاسکتا ہے اب وزیراعظم نے بظاہر برہمی اور سخت انداز کا مظاہرہ کیا ہے لیکن کیاواقعی وہ سنجیدہ ہیں۔ عمران خان تو ملک کے پولیس نظام کو سمجھ ہی نہیں سکتے اس ملک میں کبھی پیٹی بند بھائی کو گزند بھی نہیں پہنچنے دی جاتی۔

ایک پرانا واقعہ معصوم سسٹرز کا کراچی میں ہوا تھا۔ کوئی بتاسکتا ہے کہ اس واقعے کا مرکزی ملزم انسپکٹر شوکت حیات تنولی آج کل کہاں ہے۔۔ راؤ انوار کو تو سب دیکھ ہی رہے ہیں۔ چودھری اسلم، ذیشان کاظمی، بہادر علی وغیرہ کا کیا بگاڑ لیا گیا۔ یہاں تک کہ ان کی ضرورت نہ رہی تو پْر اسرار طریقے سے راستے سے ہٹادیا گیا لیکن پیٹی بند بھائی کو مجرم ثابت نہیں ہونے دیا گیا۔

ڈیرہ بگٹی میں لیڈی ڈاکٹر کی عزت تار تار کرنے والے کیپٹن حماد کو تو جنرل پرویز مشرف نے اسی وقت بے گناہ قرار دے کر پیٹی بھائی کو بچالیا تھا۔ آگے کیا ہوگا وہ واضح نظر آرہاہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ آنے اور اس کو مسترد کیے جانے کے بعد عدالتی کمیشن بننے اور اس کی کارروائی تک گواہ ادھر ادھر ہوچکے ہوں گے۔ ثبوت مٹانے کا عمل تو پہلے روز سے جاری ہے۔

کروڑ دو کروڑ کی کیا اوقات دو ننھے پھول ریاستی رٹ نے یتیم بنادیے۔ اب بناتے رہو کمیشن ،سانحہ ساہیوال کی جے آئی ٹی کے بعد تو یقین ہوگیا ہے کہ انصاف اندھا ہوتا ہے۔ دن دہاڑے قتل کے واقعے کے لیے کوئی جے آئی ٹی، کوئی شناختی پریڈ نہیں ہوتی۔ لیکن چار لوگ مار ڈالے۔ پھر ایڈیشنل سیکرٹری پنجاب نے جے آئی ٹی رپورٹ سے پہلے اعلان کردیا کہ ذیشان رپورٹ میں دہشت گرد ثابت ہوگا۔

لیجیے اندھے انصاف کو پتا ہی نہیں کہ حکومت نے فیصلہ سنادیا ہے۔ اب فیصلہ آگیا ہے کہ سی ٹی ڈی نے فائرنگ ہی نہیں کی، میڈیا کے ذریعے ذیشان کے نام کی تکرار کی جارہی ہے اس کا کسی نہ کسی طرح دہشت گردوں سے تعلق جوڑا جارہا ہے۔ ان پاگلوں سے کوئی یہ پوچھے کہ مسئلہ ذیشان ہے یا خلیل اور اس کے بیوی بچے۔ ذیشان اگر دہشت گردوں سے تعلقات رکھتا تھا یا کسی مقدمے میں ملوث تھا پھر بھی اس سے نمٹنے کا یہی طریقہ ہے۔ اتنی اْلٹی سیدھی باتیں کرکے لوگوں کے ذہنوں میں ابہام پیدا کردیا جائے گا پھر کوئی دوسرا واقعہ سب کچھ بدل دے گا۔ اور اس واقعے میں ریاست کی رٹ منوالی جائے گی، کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ کسی بھی جگہ بلوہ کرایا جاسکتا ہے، جے آئی ٹی، مقدمات کی طوالت اور میڈیا کے تعاون سے سی ٹی ڈی کو ایک بار پھر بچالیا جائے گا۔

ریاستی رٹ کا معاملہ ہے ناں۔ اور لاپتا لوگوں کا معاملہ تو اٹھایا ہی نہ جائے کیوں کہ یہ سب لاپتا لوگ دہشت گرد تھے جیسا کہ کوئٹہ سے لاپتا ہونے والے ڈاکٹر ابراہیم خلیل 48 روز بعد پانچ کروڑ تاوان دے کر واپس آگئے۔ اب بلوچستان کے وزیر داخلہ نے اس کیس کو بھی ساہیوال جے آئی ٹی بنانے کی کوشش کر ڈالی کہ ڈاکٹر کراچی سے نہیں چمن سے بازیاب ہوئے ہیں۔بہرحال حکومتی بیان درست ثابت کرکے رٹ قائم کردی جائے گی۔

ذیشان، خلیل، نقیب اللہ محسود، یا دیگر چار سو کے قتل کی تحقیقات یا مجرموں کو سزا دینے کا مطالبہ کرنے والے بھی رٹ تسلیم کرلیں۔ زیادہ انصاف انصاف کی دہائی نہ دیں۔۔۔ انصاف اندھا ہوتا ہے۔ اس سانحہ کے اصل زمہ داروں کی پردہ پوشی کر نیوالے آئی جی پولیس امجد جاوید سلیمی اور سی ٹی ڈی کے سربراہ رائے طاہر کوفوری ہٹاکر اگرپہلے ہی دن زمہ داروں کو گرفتار کر لیا جاتا تو اس سے فورس ہی نہیں حکومت نے بھی بد نام ہو نے سے بچ جانا تھااور مرنیوالوں کے لواحقین کو بھی سکون آ جانا یقینی تھا، جب تک حکومت آئی جی پولیس سمیت دیگر زمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں نہیں لاتی حکومت کے چہرے پر لگ جانیوالے سیاہ دھبے صاف ہوتے نظر نہیں آتے ۔

اتوار کے روزعمران خان کو دورہ لاہور کے دوران ہونے والے اجلاس میں سانحہ ساہیوال پر خصوصی بریفنگ کے دوران امجد جاوید سلیمی کو آئی جی پنجاب کے عہدہ سے ہٹانے کا آپشن بھی زیر غور آیا۔

آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی گورنر پنجاب چودھری محمد سرور گروپ کے حمایت یافتہ افسر ہیں تاہم پاکستان تحریک انصاف کے علیم خان گروپ امجد جاوید سلیمی سے ناخوش ہیں جب کہ پاکستان تحریک انصاف کے دیگر دھڑوں نے بھی آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی کی مخالفت میں رائے دی ہے۔

اس طرح کی وارداتوں سے ہوتا یہ ہے کہ متعلقہ اداروں کی اچھی اور پیشہ ورانہ کارکردگی پر بھی گرد پڑ جاتی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ ان اداروں کے بغیر گزارہ بھی نہیں۔

جب گزارہ نہیں تو پھر ایسی اصلاحات اور ڈھانچے کی تشکیل سے کیوں مجرمانہ غفلت برتی جا رہی ہے جن کے نتیجے میں تحقیق، تدارک اور خود احتسابی کے عمل کو جدیدیا کر کے ایسے واقعات کا تناسب کم سے کم کیا جا سکے؟جیسا کہ ہوتا ہے، بس ایک آدھ ہفتے ساہیوال سانحے کا مزید شور رہے گا اس کے بعد تو کون میں کون۔ مرنے والے پہلے والوں کی طرح صرف ہندسے بن کے رہ جائیں گے اور قاتل معطل یا جبری ریٹائر ہو جائیں گے۔

تحقیقاتی رپورٹ ضرور مرتب ہو گی، مگر تحقیق ہونا اور حقائق سامنے لانا دو الگ الگ باتیں ہیں۔ کچھ عرصے بعد مجھ جیسے ایک بار پھر ایسی ہی کسی اور واردات کا مرثیہ کہہ رہے ہوں گے۔

مزید : رائے /کالم