اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 129

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 129

  

غیاث الدین بلبن کی بادشاہت کے زمانے میں جلال الدین خلجی میر جامداری کے عہدے پر فائز تھا اور سمانہ کی جاگیر اس کے انصرام و انتظام میں تھی۔ ان دنوں اپنے زمانے کے مشہور شاعر سراج الدین سانی، سمانہ ہی میں رہتے تھے۔ قانون اور دستور کے مطابق جلال الدین خلجی نے ایک بار اس شاعر طرح دار سے علاقے کی مال گزاری طلب کی۔ سراجالدین سانی اس پر ناراض ہوگئے اور انہوں نے جلال الدین خلجی کی ہجو لکھی اور اس کا نام ’’خلجی نامہ‘‘ رکھا۔ (جب جلال الدین نے تخت شاہی سنبھالا تو ایکبار اس نے خود مجھے یہ ہجو دکھائی تھی) جلال الدین نے اس ہجو کو پڑھا اور سراج الدین سانی کو کچھ نہ کہا۔ جب وہ تخت شاہی پر براجمان ہوا تو سراجالدین سانی بہت پریشان ہوا کہ اب اس کی خیر نہیں ہے۔ شاعر خود ہی جلال الدین خلجی کے دربار میں حاضر ہوگیا۔ مجرموں کی طرھ پگڑی گلے میں لٹکی ہوئی تھی۔ اس وقت دربار میں مَیں بھی موجود تھا۔ میرا خیال تھا کہ جلال الدین خلجی اس کی گردن اڑانے کا حکم دے گا لیکن وہ تخت سے اٹھا۔ شاعر سراج الدین سانی کو گلے لگایا اور حکم دیا کہ اس کا وظیفہ مقرر کردیا جائے۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 128 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ان ہی دنوں مشہور بزرگ سیدی مولہ کی خانقاہ پر عوام کا ہجوم رہتا تھا۔ غیاث الدین بلبن کے عہد کے وہ تمام امیر جو تباہ حال ہوگئے تھے اور ہزار ہا بیکار سپاہی اور وہ بارہ ہزار حافظ قرآن جو روزانہ قرآن مجید ختم کرتے تھے، اسی خانقاہ میں پناہ گزین تھے۔ دہلی میں سیدی مولہ کی عظیم الشان خانقاہ میں ہزاروں بے یارومددگار مسلمانوں کی روٹی کپڑے سے مدد کی جاتی تھی۔ سیدی مولہ کا دستور تھا کہ وہ جمعہ کی نماز مسجد کے بجائے اپنی خانقاہ میں ادا کرتے تھے۔وہ اولیاء اللہ اور مشائخ عظام کی طرح جماعت کی پابندی نہ کرتے تھے لیکن ریاضت اور مجاہدہمیں اس وقت ان کا کوئی ثانی نہ تھا۔ ایک سفید بے داغ چادر کے سوا ان کے جسم پر کوئی اور کپڑا نہ ہوتا تھا۔ ان کی خانقاہ میں طرح طرح کے پکوان پکتے تھے مگر سیدی مولہ کا یہ عالم تھا کہ روٹی سادہ پانی میں بھگو کر کھاتے تھے۔ خدمت کے لئے کوئی نوکر، لونڈی یا منکوحہ عورت گھر پر نہ تھی۔ کبھی کوئی نذرانہ قبول نہ کرتے تھے، لیکن خیرات جی کھول کر کرتے تھے۔ یہاں تک کہ ان کی خیرات کو دیکھ کر ایک بار بادشاہ نے دربار میں اس خیال کا بھی اظہار کیا کہ سیدی مولہ سونا بنانے کا ہنر جانتے ہیں۔

سیدی مولہ جرجان سے جب اجودھن حضرت بابا فرید گنج شکرؒ کے حضور آئے تو انہوں نے سیدی مولہ کو ایک نصیحت کی تھی کہ دہلی پہنچ کر امیر اور حاکموں سے راہ و رسم پیدا نہ کرنا لیکن غیاث الدین بلن کے بعد جب کیقبار کا غفلت اور بے خبری کا دور آیا تو سیدی مولہ کے مخیرانہ مصروفیات میں اضافہ ہوگیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے حضرت بابا فرید گنج شکرؒ کی نصیحت کو بھی فراموش کردیا اور امراء سے تعلقات استوار کرلئے۔ ان کی جود و سخا کا یہ عالم تھا کہ ایک ایک حاجت مند کو دو دو سو ہزار اشرفیاں دے دیتے تھے۔ دستر خوان کی وسعت کی یہ کیفیت تھی کہ ایک دن میں ایک ہزار من میدہ، چالیس من شکر، پانچ سو من گوشت اور کئی من گھی۔۔۔ باورچی خانے میں صرف ہوتا تھا۔ ان کا یہ دستور تھا کہ جب کسی کو کچھ دینا ہوتا تھا تو اس سے کہتے ’’میاں فلاں بورئیے کو اٹھاؤ۔ اس کے نیچے سونا چاندی جو کچھ بھی ہے لے لو۔‘‘ جب اس بورئیے کو اٹھایا جاتا تو اس کے نیچے سے وہی کچھ نکلتا ہے جو سیدی مولہ کے منہ سے نکلا ہوتا تھا۔

جب جلال الدین خلجی تخت پر رونق افروز ہوا تو خانقاہ پر عقیدتمندوں کے ہجوم میں بے حد اضافہ ہوچکا تھا۔ بادشاہ کا بڑا بیٹا خان خاناں سیدی مولہ کا بڑا عقیدت مند تھا۔ یہاں تک کہ اس نے سیدی مولہ کو اپنا منہ بولا باپ کہہ رکھا تھا۔ خان خاناں کے علاوہ دربار شاہی کے دیگر امراء بھی سیدی مولہ کی خدمت میں اکثر حاضر ہوتے تھے۔ ان ہی دنوں ایک شرپسند امیر قاضی جلال الدین کاشانی نے سیدی مولہ سے تعلقات بڑھائے اور اپنی عیاری اور خوش گفتاری سے ان پر کچھ ایسا اثر ڈالا کہ وہ قاضی کاشانی کو اپنا بہترین دوست سمجھنے لگے۔ قاضی کاشانین ے سیدی مولہ کو بادشاہ بننے کی ترغیب دینی شروع کردی۔ اس نے کہا

’’خداوند کریم نے آپ کو یہ قدرت اس لئے عطا کی ہے کہ آپ بندوں سے رحم اور مہربانی سے پیش آئیں اور لوگوں کو دین کے مطابق زندگی بسر کرنے کا موقع دیں۔ اگر آپ نے اس فرض سے کنارہ کشی کی توقیامت کے دن خدا کو کیا جواب دیں گے؟‘‘

سیدی مولہ اس شاطر کی باتوں میں آگئے اور سلطنت حاصل کرنے کے اسباب فراہم کرنے میں لگ گئے۔ سید صاحب نے خفیہ طور پر اپنے مریدوں کو خطابات اور منصب سے بھی نوازنا شرو ع کردیا۔ یہ تقاضائے بشریت تھا۔ قاضی کا شانی کی سازش سے یہ طے پایا کہ سیدی مولہ کے دو مرید برنجن کوتوال اور نتھائی پہلوان جمعہ کے روز بادشاہ کی سواری تک پہنچ کر اس کا کام تمام کردیں اور سید صاحب کے دس ہزار مرید اسی وقت ان سے بیعت کرکے ان کی بادشاہت کا اعلان کردیں۔

لیکن سیدی مولہ کا آخری وقت آچکا تھا۔ کسی نے بادشاہ کو اس سازش سے آگاہ کردیا۔ بادشاہ نے سیدی مولہ اور قاضی کاشانی کو دربار میں طلب کیا اور سازش کی بابت پوچھا۔ جب بادشاہ کو جرم ثابت کرنے کے لئے کوئی معقول ثبوت نہ ملا تو بادشاہ نے حکم دیا

’’بہادر پور کے جنگل میں بہت بڑی آگ روشن کی جائے اور سیدی مولہ، کاشانی، برنجن کوتوال اور نتھائی پہلوان اس آگ پر سے ننگے پاؤں گزریں تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ وہ سچے ہیں کہ جھوٹے۔‘‘

شاہی حکم کی فوراً تعمیل کی گئی۔ بہادر پور کے جنگل میں آگ کا ایک بہت بڑا الاؤ روشن کردیا گیا۔ بادشاہ اپنے امراء اور لشکر کے سرداروں کے ہمراہ خیمے میں آکر ٹھہر گیا۔ میں بھی اس کے ہمراہ تھا۔ میرے لئے یہ ایک عجیب سی آزمائش تھی کیونکہ حقیقت عیاں تھی کہ آگ کا کام جلانا ہے وہ انسانوں کو جلا ڈالے گی۔ جب تمام ملزمان کلمہ شہادت پڑھ کر آگ میں کودنے لگے تو جلال الدین خلجی کو رحم آگیا۔ اس نے علماء سے مشورہ کیا۔ علماء نے جواب دیا کہ جلا ڈالنا آگ کی فطرت ہے۔ کوئی بھی شخص خواہ وہ سچا ہو یا جھوٹا، آگ میں گرے گا تو آگ اسے جلا ڈالے گی۔ اس قسم کا فیصلہ آگ کے ذریعے کرنے کی اسلام نے اجازت نہیں دی۔ میں خود بھی یہی چاہتا تھا۔ بادشاہ نے آگ سرد کرنے کا حکم دے دیا۔

جلال الدین خلجی نے قاضی کاشانی کو بدایوں کا قاضی مقرر کرکے دہلی سے باہر بھیج دیا۔ دونوں کوتوالوں کے سر قلم کروادئیے۔ بلبن امراء کو دیس نکالا دے دیا۔ بادشاہ سیدی مولہ کو لے کر شاہی محل میں آگیا اور ان سے کچھ سوالات کئے۔ جن کا جواب سیدی مولہ نے بڑی دلیری اور جرأت مندی سے دیا۔ سید صاحب پر شرع اور قانون کے لحاظ سے کوئی جرم ثابت نہ ہوسکا لیکن بادشاہ نے جشن سب کے موقع پر مجھے کہا کہ سیدی مولہ کا وجود اس کے لئے خطرے کا باعث ہے۔ بادشاہ نے شیخ ابوبکر طوسی حیدری اور دوسرے درویشوں کی طرف دیکھ کر کہا

’’تم دیکھ رہے ہو ناکہ اس درویش سیدی مولہ نے میرے ساتھ کیا سلوک کیا ہے اور میرے ملک میں بدامنی پھیلانے اور مجھے قتل کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ میں انصاف کو تم لوگوں کے ہاتھ میں دیتا ہوں۔ تم جو مناسب سمجھو فیصلہ کرو۔‘‘

بادشاہ کا یہ کہناتھا کہ سنجری نام کا ایک درویش اپنی جگہ سے اٹھا اور سید صاحب کے جسم پر کئی گھاؤ لگائے۔ اس پر سید صاحب نے بلند آواز سے کہا ’’میں اپنی موت سے ہراساں نہیں ہوں۔ مجھ کو جلد میری قیام گاہ پر پہنچادیا جائے۔‘‘

پھر انہوں نے بادشاہ کی طرف متوجہ ہوکر اعلان کیا ’’مجھے اپنے مرنے کا کوئی غم نہیں لیکن تم یاد رکھو، میرا لہو رائیگاں نہیں جائے گا۔ اس کا وبال تم پر اور تمہاری اولاد پر ضرور پڑے گا۔‘‘

جلال الدین سیدی مولہ کو قتل کرنا نہیں چاہتا تھا۔ بادشاہ کا چھوٹا بیٹا ارکلی آگے بڑھا۔ وہ اپنے بڑے بھائی خان خاناں کی ۔۔۔ سیدی مولہ سے عقیدت اور ان کا منہ بولا بیٹا بننے کی وجہ سے ناراض تھا۔ اس نے فیل بان کو اشارہ کیا۔ یہ اشارہ پاتے ہی فیل بان نے اپنے ہاتھی کو سیدی مولہ پر چھوڑ دیا۔ ہاتھی نے آن کی آن میں سیدی مولہ کو کچل کر رکھ دیا۔(جاری ہے)

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 130 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار