اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 92

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 92
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 92

  

ایک بزرگ کہتے ہیں کہ مَیں نے ایک عورت سے نکاح کیا۔ جب وہ عشاء کی نماز پڑھ چکتی تو عمدہ کپڑے پہنتی، خوشبو لگاتی اور دھونی لیتی پھرمجھ سے کہتی ’’کیا تجھے میری ضرورت ہے۔ اگر مَیں ہاں کہتا تو وہ میرے پاس رہتی اور اگر کہتا نہیں تو وہ کپڑے اتاردیتی اور صبح تک نماز میں کھڑی رہتی۔

***

ایک مرتبہ ایک درویش ملاں یوسف نے دحضرت بابا فرید الدینؒ کی خدمت میں عرض کیا ’’کہ جناب مولانا نظام الدینؒ دہلوی تو چند روز آپ کی خدمت میں رہے اور فیوض باطنی سے مالامال ہوکر چلے بھی گئے ایک مَیں ہوں کہ برسوں سے آپ کی خدمت میں پڑا ہوں مگر آپ کے فیوض باطنی سے یکسر محروم ہوں۔‘‘

یہ شکایت سن کر آپ نے ایک چھوٹے سے بچے کو بلایا اور اس سے کہا ’’بیٹھا! وہ سامنے جو اینٹیں پڑی ہوئی ہیں ان میں سے ہمارے لیے ایک اوینٹ لے آؤ۔‘‘

وہ بچہ گیا اور آپ کے لیے ایک عمدہ سی اینٹ لے آیا۔ پھر آپ نے اس سے کہا ’’اچھا اب ایک اینٹ مولانا نظام الدینؒ کے لیے بھی لے آؤ۔‘‘

وہ بچہ پھر گیا اور ایک عہدہ سی اینٹ اور لے آیا۔ اس کے بعد آپ نے پھر فرمایا ’’اچھا اب ایک اینٹ ملاں یوسف کے لیے بھی لے آؤ۔‘‘

وہ بچہ پھر گیا او رایک اینٹ اٹھالایا۔ مگر اب کے جو اینٹ لایا وہ اینٹ کا ایک بے ڈھنگا سا ٹکڑہ تھا۔

آپ نے ملاں یوسف سے فرمایا ’’اس میں میری کچھ کوتاہی نہیں۔ یہ تمہاری ناقابلیت کا نتیجہ ہے اور قسمت کی بات ہے۔ ورنہ میرے لیے تو سب برابر ہیں۔‘‘

***

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 91 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

حضرت بختیار کاکیؒ کی شان فقریہ تھی کہ ایک مرتبہ شاہی حاجب اختیار الدین ایبک آپ کی خدمت میں حاضر ہوا او رکئی گاؤں بطور نذر پیش کیے۔ آپ نے فرمایا ’’جس کا دل اللہ کی یاد سے آباد ہو وہ گاؤں لے کر کیا کرے گا۔‘‘ چنانچہ آئندہ کے لیے تنبیہہ کرکے انہیں واپس کردیا۔

***

حضرت مالک دینارؒ سے مروی ہے کہ وہ اپنے ایک قریب المرگ ہمسایہ کے پاس گئے۔ وہ شخص کہنے لگا

’’اے مالک! آگ کے پہاڑ میرے سامنے ہیں اور مَیں ان پر چڑھنے کی کوشش کررہا ہوں۔‘‘ حضرت مالک فرماتے ہیں کہ میں نے اس کے عزیزوں سے دریافت کیا کہ یہ شخص کیا کرتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے پاس دو پیمانے تھے۔ ایک سے خریدتا تھا اور ایک سے بیچتا تھا۔ 

(یعنی بڑے پیمانے سے خریدتا اور چھوٹے پیمانے سے فروخت کرتا تھا)

آپ نے وہ دونوں پیمانے منگواکر توڑ ڈالے پھر آپ نے اس سے دریافت کیا کہ اب کیا حال ہے۔‘‘

کہنے لگا ہ شدت زیادہ ہوتی جارہی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ کم تولنے والی کی نجات ممکن نہیں۔

***

ایک دفعہ کی بات ہے کہ دریائے نیل میں طغیانی آگئی۔ وہاں کے لوگوں نے اس وقت کے ولی اللہ حضرت شیخ ابو عمرو قریشیؒ کی جانب سے رجوع کیا۔ اور یہ درخواست کی کہ پانی کی سطح ذرا نیچی ہوجائے۔

آپ نے دریا کے کنارے بیٹھ کر وضو فرمایا۔ نماز پڑھی۔ آپ کے باطنی اثر سے پانی کی سطح نیچی ہوگئی اور جو خطرہ لاحق تھا ٹل گیا، آئندہ سال بھی طغیانی نہ آئی اور پانی کم ہی رہا۔ مصر کے باشندوں نے پھر درخواست کی کہ پانی کی سطح پہلے سے کچھ اونچی ہوجائے۔ آپ نے دریا کے کنارے وضو کیا۔ نماز پڑھی، اس سے پانی پھر سے بڑھنا شروع ہوگیا۔ آپ کی دعا اور برکت سے زراعت خوب ہوئی اور خوب منشا ہوئی۔

***

کسی وزیر نے حضرت شیخ محمدؒ المشہور میاں میرؒ سے عرض کیا کہ حضرت اپنے کسی خاص وقت میں جب آپ کا مزاج اور طبیعت نسبتاً بہتر ہو، اس نیاز مند کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ وقت کتنا منحوس ہوگا کہ جب یاد الہٰی سے غافل ہوکر کسی غیر کا دھیان میرے ذہن میں آئے گا۔‘‘(جاری ہے)

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 93پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے