خودکشی حرام ہے مگر وزیراعظم جھوٹ اور یوٹرن پرمعافی تو مانگیں: مریم اورنگزیب

خودکشی حرام ہے مگر وزیراعظم جھوٹ اور یوٹرن پرمعافی تو مانگیں: مریم اورنگزیب
خودکشی حرام ہے مگر وزیراعظم جھوٹ اور یوٹرن پرمعافی تو مانگیں: مریم اورنگزیب

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان طے پائے گئے پروگرام پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ (ن) لیگ نے مہنگائی کا بوجھ اتارنے اور معاشی استحکام لانے کیلئے 2015 میں آئی ایم ایف پروگرام ختم کردیاتھا، پہلے وزیراعظم ہیں جو کشکول لے کر خود آئی ایم ایف سے ملنے گئے۔

مریم اورنگزیب نے اپنے بیان میں وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا'عمران صاحب، ہم نہیں چاہتے آپ خودکشی کریں کیونکہ خودکشی حرام ہے مگر جھوٹ اور یوٹرن پر کم از کم معافی تو مانگیں'۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے (ن) لیگ کے دور حکومت کے دوران جلسے سے خطاب میں کہا تھا کہ وہ آئی ایم ایف میں جانے کے بجائے خودکشی کو ترجیح دیں گے۔

ترجمان (ن) لیگ نے سوال کیا کہ چوروں کی طرح آئی ایم ایف سے خفیہ شرائط طے کرنے کی بجائے پارلیمان کو آگاہ کیوں نہیں کیا جارہا۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ نااہل حکومت نے اپنی نااہلی کا سارا بوجھ عوام پر ڈال دیا ہے، جس ٹیم پر وزیراعظم کو خود اعتماد نہیں، اس پر عوام کیسے اعتماد کرے۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ آئی ایم ایف کی شرائط پر بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ کیا گیا، یوٹیلیٹی سٹور بند اور حج سبسڈیز ختم کردی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جھوٹی اور نالائق حکومت قوم کو دھوکہ دے رہی تھی، حکومت چور دروازے سے آئی ایم ایف سے پیکج ڈیل پہلے ہی فائنل کرچکی تھی،نالائق، عوام دشمن حکومت آئی ایم ایف سے طے پانے والی شرائط چھپا کیوں رہی ہے۔ترجمان مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ آئی ایم ایف پیکج سے عوام کےلئے مہنگائی کا نیا سونامی آنے والا ہے، قوم کو بتائیں کہ نئے آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکج میں گیس، بجلی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید کتنا اضافہ ہوگا۔

مریم اورنگزیب نے سوال کیا کہ عمران صاحب بتائیں، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے میں ایک کروڑ نوکریوں اور 50 لاکھ گھروں کی تعمیر پر کیا طے ہوا، روپے کی قدر میں مزید کمی، ڈالر کی قیمت میں اضافے اور اشیا کی قیمتیں بڑھنے سے معاشی قیامت کا منظر پیدا ہوجائے گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ قوم کو بتائیں نئے آئی ایم ایف پیکج سے افراط زر میں مزید کتنے فیصد اضافہ ہوگا اور جی ڈی پی گروتھ ریٹ کتنے فیصد بڑھے گا۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد