دہلی اسمبلی کے انتخاب میں بی جے پی کی شکست

دہلی اسمبلی کے انتخاب میں بی جے پی کی شکست

  

دہلی کی ستر رکنی اسمبلی کے سرکاری نتائج سے پہلے ہی مرکز میں حکمران جماعت……بی جے پی……نے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے کیونکہ ایگزٹ پولز میں عام آدمی پارٹی ہی جیت رہی ہے اور اسے پہلے کی طرح اسمبلی میں دوتہائی سے بھی زیادہ اکثریت حاصل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ بی جے پی اگرچہ دوسرے نمبر کی جماعت ہے تاہم اسے دس سے پندرہ نشستیں ہی مل سکیں گی، کانگرس محض ایک دو نشستوں تک محدود ہو جائے گی تاہم اس کی انتخابی مہم میں بہت سے سبق پوشیدہ ہیں کانگریس نے شائستگی کو پیش نظر رکھا اور کسی سیاسی جماعت یا فرد کے خلاف اخلاق سے گری ہوئی کوئی بات نہیں کی،مسائل کی نشاندہی کی اور ان کے حل پر زور دیا۔ اس میں ان سیاسی جماعتوں کے سیکھنے کے لئے بہت کچھ ہے جو اپنے مخالفوں کے خلاف غیر شائستہ جملے بازیوں کو معمول بنا چکی ہیں اور بعض سیاستدان تو اس سے آگے بڑھ کر ہتھ چھٹ بن کر سامنے آ رہے ہیں اور پھر اپنے اس عمل کا دفاع بھی ڈنکے کی چوٹ پر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہوں نے جو کیا، اس کا انہیں حق تھا۔

عام آدمی پارٹی ایک ریٹائرڈ بیورو کریٹ نے بنائی تھی اور اس جماعت نے منظرِ عام پر آتے ہی بھارتی دارالحکومت اور دہلی کی سیاست میں ہل چل مچا دی اور سالہا سال سے حکومت کرنے والوں کو شکست دے کر دہلی کا اقتدار سنبھال لیا اور صحیح معنوں میں عام آدمی کی حالت بہتر بنانے کے لئے عملی اقدامات کئے یہی وجہ ہے کہ اسے مسلسل کامیابی حاصل ہو رہی ہے۔ عام آدمی پارٹی نے لوگوں کے معمول کے روز مرہ مسائل کو انتخابی ایشو بنایا اور انہیں حل کرنے کی یقین دہانی کرائی لوگوں نے ان وعدوں پر اعتبار بھی کیا کیونکہ اس ضمن میں پارٹی کا ٹریک ریکارڈ اچھا ہے مفت بجلی اور پانی کے ساتھ ساتھ سکولوں میں مفت تعلیم اور خواتین کے لئے مفت سفری سہولتوں کے نعرے نے کجری وال کی عام آدمی پارٹی کو ایک بار پھر حکومت کرنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ بھارتی پنجاب میں بھی کسانوں کو سستی بجلی دے کر زرعی پیداوار میں اضافے کا تجربہ کیا گیا ہے، یہ ریاست پاکستان کے صوبہ پنجاب کے مقابلے میں ایک تہائی رقبے پر مشتمل ہے لیکن یہ پورے ہندوستان کا اناج گھر ہے، ایک زمانے میں بھارت میں گندم کی قلت تھی اور پنجاب کے بارڈر سے پاکستانی گندم سمگل ہو کر ہندوستان جاتی تھی، زراعت کی غیر معمولی ترقی نے ہندوستان کو سمگل شدہ گندم سے بے نیاز کر دیا۔ مفت بجلی کے نعرے نے عام آدمی پارٹی کو دہلی میں کامیابی دلائی ہے اور ایک کروڑ 40 لاکھ ووٹروں کی اکثریت نے اس نوزائیدہ پارٹی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کی راہ ہموار کی ہے۔ تاہم یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا یہ جماعت اپنی کامیابی کے تجربے کو ملک کے باقی حصوں تک وسیع کرے گی یا صرف دہلی تک ہی محدود رہے گی۔ بھارت میں بہت سی علاقائی جماعتیں طویل عرصے سے اپنے اپنے علاقوں تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ تاہم انہیں ان کے علاقوں میں کوئی چیلنج نہیں کر رہا۔

وزیر اعظم نریندر مودی لوک سبھا کے انتخابات میں دوسری مرتبہ کامیابی کے نشے سے سرشار ہو کر ریاستی انتخابات کے میدان میں اترے تھے لیکن اس وقت کے بعد سے اب تک انہیں چھ ریاستوں میں شکست ہو چکی ہے۔ تازہ ترین شکست سے انہیں بہت زیادہ دھچکا لگا ہے کیونکہ دہلی اسمبلی کے انتخابات میں انہوں نے اپنا قوم پرست کارڈ وسیع پیمانے پر استعمال کیا اس طرح وہ ہندو ووٹ پر انحصار کر رہے تھے متنازع شہریت بل پر پورے ملک میں جو احتجاج اب تک جاری ہے مودی نے اسے اپنے حق میں استعمال کرنے کی جو کوشش کی تھی وہ بھی کامیاب نہیں ہو سکی نریندر مودی اور امیت شاہ نے دہلی کا انتخاب جتینے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگائی ہوئی تھی اور پارٹی کی انتہا پسند ہندو قیادت پاکستان کے خلاف جذبات کو ہوا دے کر ان انتخابات میں بھی لوک سبھا کی طرح کامیابی حاصل کرنا چاہتی تھی لیکن اب کی بار پانسا پلٹ گیا ویسے چھ ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ ریاستوں میں پاکستان مخالف کارڈ کامیابی کی ”ضمانت“ نہیں دیتا اور مودی کا یہ خیال بری طرح ناکام ہو گیا ہے کہ وہ پاکستان پر جنگ مسلط کرنے اور دس دن میں کامیابی حاصل کرنے کے فسانے سنا کر ووٹروں کو رام کر لیں گے۔ ریاستی انتخابات میں ووٹروں کا موڈ اگرچہ مختلف ہوتا ہے تاہم لگتا ہے اگر مودی اسی طرح ہندوستان کو ہندو ریاست بنانے کے گمراہ کن راستے پر چلتے رہے تو آئندہ یہ کارڈ لوک سبھا میں بھی نہیں چل سکے گا۔ شہریت کے متنازعہ قانون نے تو بی جے پی کی بڑھتی ہوئی انتخابی کامیابیوں کو بریک لگا دی ہے اور لگتا ہے کہ مودی کی سیاست زوال کے راستے پر چل نکلی ہے جس کا آغاز مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے اور ریاست کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام سے ہوا اور شہریت کے متنازع قانون نے مودی کی سیاست کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔ مودی کا خیال تھا کہ جس طرح انہوں نے یوپی میں 20 فیصد سے زائد مسلمان ووٹروں کے باوجود انتہا پسندی کے نعرے سے کامیابی حاصل کی اور ایک ہندو جوگی کو ریاست کا وزیر اعلیٰ بنا دیا جس کا نعرہ ہے کہ مسلمان ہندو بن جائیں یا ہندوستان چھوڑ دیں اسی طرح وہ دہلی کے 23 فیصد مسلمان ووٹروں کے باوجود یہ انتخابات جیت جائیں گے لیکن ان کا یہ خیال غلط ثابت ہوا ہے۔

نریندر مودی کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ شاہین باغ کا دھرنا بھی ہے جسے ختم کرانے کے لئے انہوں نے ہر طرح کے حربے استعمال کئے لیکن انہیں کامیابی نہ ہوئی، احتجاج کرنے والوں پر راشڑیہ سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے کارکنوں کے ذریعے فائرنگ بھی کرائی گئی، بی جے پی نے اپنی انتخابی مہم میں شاہین باغ کی مخالفت میں ووٹروں سے کہا تھا کہ اگر وہ یہ دھرنا ختم کرانا چاہتے ہیں تو بی جے پی کو ووٹ دیں کیونکہ عام آدمی پارٹی کی حکومت کی وجہ سے یہ دھرنا ختم نہیں ہو رہا تاہم اس نعرے نے مودی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔

ریاستی انتخابات میں نریندر مودی کی جماعت کی مسلسل ناکامی سے ثابت ہو گیا ہے کہ انتہا پسندانہ نظریات ایک محدود عرصے کے لئے تو ووٹروں کے جذبات سے کھیل کر کامیابی دلا سکتے ہیں لیکن سیاست کے بازار میں یہ سکہ مستقل طور پر نہیں چل سکتا۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ووٹروں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے مودی کے پاس بیچنے کے لئے کوئی دوسرا چورن ہے بھی نہیں، وہ جب سے اقتدار میں آئے ہیں مسلمان اور پاکستان دشمنی کو ہی ہوا دے رہے ہیں۔ کبھی وہ پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکیاں دیتے ہیں اور کبھی ان کے چیف آف سٹاف دس دن میں پاکستان کو فتح کرنے کی بڑھک مارتے ہیں۔ لیکن دہلی کے ووٹروں نے ان کی اِن بڑھکوں پر کان نہیں دھرا عام آدمی پارٹی کی کامیابی اس کا واضح ثبوت ہے اس کے ساتھ ہی بی جے پی کی انتہا پسندانہ سیاست کا زوال بھی شروع ہو گیا ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -