سیاحت کا فروغ:دعوے اور حقائق

سیاحت کا فروغ:دعوے اور حقائق
 سیاحت کا فروغ:دعوے اور حقائق

  



آج کے دور میں سیاحت کو صنعت، بلکہ منفعت بخش صنعت کا درجہ حاصل ہو چکا ہے، جو ملکی معیشت کے استحکام میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بعض ممالک کی اقتصادیات کا انحصار ہی سیاحت پر ہے۔ اس میں بین الاقوامی سیاحت کے ساتھ ساتھ ملکی سیاحت کا حصہ بھی قابل ذکر ہے۔ وطن عزیز میں دس پندرہ سال تو امن و امان کی صورت حال ایسی تھی جو غیر ملکی تو غیر ملکی، اپنے شہری بھی سیر و تفریح سے اجتناب کرنے لگے تھے۔ سیاحت کے لئے سہولتوں کے علاوہ امن و امان کی صورت حال کا ٹھیک ہونا بھی لازمی ہے۔ شکر الحمدللہ کہ شدید جانی و مالی نقصان کے بعد ہماری بہادر مسلح افواج اور جانثار پولیس کے ساتھ ساتھ باصلاحیت حساس اداروں کی انتھک محنت اور لازوال قربانیوں کے بعد امن بحال ہو گیا۔ نئی حکومت کو اداروں کے تعاون کے ساتھ ساتھ، امن و امان کی بہتر صورت حال ملی۔ مغرب کی تعلیم یافتہ اور دلدادہ حکمران ٹیم کی ترجیحات میں سیاحت کو نمایاں اہمیت ملنا فطری امر تھا، کپتان نے متعدد مواقع پر اس کا اظہار بھی کیا،خصوصاً انہوں نے مذہبی، سیاحت (Relegious Tourism) کا حوالہ دیا کہ سکھوں، ہندوؤں، بدھ مت والوں اور مسلمانوں کے لئے بہت سے قابل دید اور پُر عقیدت مقامات پاکستان میں موجود ہیں، جن کی مدد سے سیاحت آگے بڑھ سکتی ہے۔ اگرچہ انہوں نے یہ بات کرتارپور راہداری کے افتتاح کے حوالے سے کی۔ بلاشبہ اس کے بعد سکھ یاتریوں کی آمد میں اضافہ ہوا۔ اسلام آباد کی مارگلہ پہاڑیوں میں واقع قدیم غاروں کو دیکھنے بھی غیر ملکی سیاح آتے ہیں۔ ٹیکسلا، موہنجوڈارو، ہڑپہ بھی تاریخی مقامات اور نوادرات کے شوقین افراد کے لئے دلچسپی کے مراکز ہیں۔

گزشتہ ربع صدی میں اندرون ملک بھی عام آدمی کا معیار زندگی بہتر ہونے کے باعث اور اب امن و سلامتی کے حالات بہتر ہونے کی وجہ سے مقامی سیاحت کو بھی فروغ ملا۔ سیاحتی مقامات پر رش بڑھنے لگا، لیکن کیا ہم سیاحوں کو سہولتیں دینے میں کامیاب ہو سکے؟ اس کا جواب تلاش کرنے کے لئے زیادہ تردد کرنے کی ضرورت نہیں۔ کسی بھی سیاحتی یا تفریحی مقام کی سیر کرکے یا کسی بھی سیاح سے احوال پوچھ کر حقائق جانے جا سکتے ہیں۔ سہولتیں بہم پہنچانے میں سرکاری اور نجی شعبے کو موقع ملا تو بعض توجہ طلب مسائل درپیش ہوئے جو معمولی توجہ سے حل کرکے سیاحوں کے لئے آسانی پیدا کی جا سکتی ہے۔ اب ملتان سے لاہور تک کا سفر تین گھنٹے کا رہ گیا ہے۔ موٹروے نے وقت کی بچت کر دی ہے، جبکہ اسلام آباد تک ساڑھے پانچ گھنٹے میں پہنچا جا سکتا ہے۔

لاہور میں مینار پاکستان اور شاہی قلعہ دیکھنے کا ارادہ بنا، مگر ارادہ اور شوق اس وقت مایوسی میں بدلتا محسوس ہوا، جب بچوں کو لے کر مینار پاکستان پہنچے۔ مینار کے گردا گرد اونچا آہنی جنگلا بنا ہوا تھا، جس میں ایک دروازہ بھی دکھائی دیا، مگر اس پر بھی بڑا سا تالا پڑا تھا، جنگلے کے باہر باہر پورا چکر لگایا، مگر کوئی متعلقہ شخص نہ ملا جو بتا سکتا کہ یہ تالا کب تک کھلتا ہے؟ نامراد واپس پلٹے۔ پیدل ہی شاہی قلعہ گئے، ٹکٹ خریدا، شیش محل دیکھنے کا بچوں کو بھی شوق تھا۔ اس کی الگ سے مہنگی ٹکٹ تھی۔ سو روپے فی کس خرید کر اندر گئے تو شیش محل زیر مرمت تھا۔ قناتیں لگا کر بند کیا ہوا تھا۔ واپس پلٹ کر ٹکٹ فروش سے احتجاج کیا کہ جب شیش محل کے اندر جا کر اسے دیکھا نہیں جا سکتا تو ٹکٹ کس بات کا فروخت کر رہے ہیں؟ اس کا فرمان تھا کہ آپ معلوم کرکے ٹکٹ خریدتے، آپ نے ٹکٹ مانگے،مَیں نے دے دیئے۔یہ بُک سے کاٹ کر آپ کو دیئے ہیں، واپس نہیں کر سکتا، ورنہ مجھے پیسے بھرنے پڑیں گے اور مَیں غریب ملازم ہوں، بھر نہیں سکتا۔ یہاں سے بھی نامراد لوٹے، پیسے الگ ضائع ہوئے۔

اس کے بعد اسلام آباد جانا ہوا تو بچوں نے فیصل مسجد دیکھنے کی خواہش ظاہر کی، وہاں پہنچے، پہلے تو گاڑی کھڑی کرنے کے لئے جگہ نہ ملی، دو تین چکر لگانے کے بعد کافی دور سڑک کے کنارے ہی کھڑی کرکے مسجد کے احاطہ میں گئے، کافی رش تھا۔ جنرل ضیاء الحق مرحوم کے مزار پر رش نہیں تھا، وہاں فاتحہ پڑھی …… مسجد کی سیڑھیوں کے قریب جوتے محفوظ رکھنے کا سٹال بھی بنا ہوا تھا۔موٹے حروف میں لکھا تھا”فی جوڑا پانچ روپے“…… ہم چار لوگ تھے، ٹوکری میں چار جوڑے جوتے رکھے اور مسجد کے اندر چلے گئے۔ وضو سے پہلے واش روم جانا ہوا تو ان میں کئی کی کنڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، دروازہ بند ہی نہیں ہوتا تھا۔ بمشکل سلامت کنڈی والا ملا۔ پچاس سیڑھیاں چڑھ کر اوپر گئے تو پھر مایوسی دامن پھیلائے کھڑی تھی۔ مسجد کا ہال مقفل تھا، اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔

ظہر کی نماز کا وقت تھا، مگر نماز کا ہال بند تھا۔ لوگ شیشوں سے آنکھیں لگا لگا کر اندر جھانک رہے تھے۔ وہاں آنے والے لوگوں کی کافی تعداد غالباً سیر کے لئے آئی تھی۔ ماحول قطعاً مسجد کے شایان شان نہیں تھا۔ لباس کے حوالے سے بھی اور حرکات و سکنات کے حوالے سے بھی۔ مسجد کا ہال اور اس میں چین سے ملا تحفہ فانوس بھی قابل دید ہیں۔ اگر ہال بھی کھلا ہو تو فیصل مسجد ہماری مقامی مذہبی سیاحت کے فروغ میں بہتر کردار ادا کر سکتی ہے۔ مسجد کے چاروں میناروں اور مرکزی ہال کی چھت پر سونے کا چاند سیاہی مائل ہو چکے ہیں۔ جب مسجد تعمیر ہوئی تو دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ چاند خالص سونے کے ہیں۔ یہ چاند شہرۂ آفاق مصور اور آرٹسٹ گل جی نے بنائے تھے۔ سنا ہوا ہے کہ سونا کبھی رنگ نہیں بدلتا، یہ حال یقینا عدم توجہی کے باعث ہی ہوا ہو گا۔

واپسی پر جوتے طلب کئے تو اس نے پچاس روپے طلب کئے۔ تحریر شدہ نرخ کے مطابق پانچ روپے فی جوڑا کے حساب سے چار جوڑوں کے بیس روپے بنتے تھے۔ سٹال والے کو حساب بتایا تو اس کا کہنا تھا کہ آپ نے جوتے ٹوکری میں رکھ کر دیئے ہیں۔ ٹوکری میں رکھنے کے پچاس روپے ہیں، بھلے ایک جوڑا جوتا ہی کیوں نہ ہو؟ اس بھلے مانس سے عرض کی کہ یہ بات بھی جلی حروف میں لکھ ڈالو یا جب ٹوکری دو تو اس وقت بتاؤ کہ اس کا ”نرخ بالا کن“ ہے۔ جوتے پہن کر واپس ہوئے تو سڑک کے کنارے ایک بائیسکل پر خوانچہ فروش شکر قندی بیچ رہا تھا۔ معلوم کرنے پر بتایا کہ ایک چھوٹی سی پلیٹ سو روپے کی ہے۔ اتنی شکر قندی چھوٹے شہروں میں شائد دس روپے کی آ جاتی ہو۔ وہاں سے زیرو پوائنٹ کی طرف بڑھے تو دو رسے ہی پاکستان مانومنٹ نظر آیا۔ یہ بھی دیکھنے کے قابل ہے، مگر اس کی کنول کے پھول سے مشابہہ چھت پر نظر پڑی تو پھر مایوسی کا جھٹکا لگا۔ ایک پنی کے اوپر لگی اُکھڑی ہوئی ٹائلیں اس کی خوبصورتی کو بدنمائی میں تبدیل کر رہی تھیں۔

قارئین کرام! ان تمام باتوں پر غور کریں تو ان کی اصلاح پر کوئی زر کثیر خرچ نہیں ہونے والا، بس توجہ کی ضرورت ہے۔ دیکھ بھال اور بروقت مرمت سے ان کا حسن بحال ہو سکتا ہے۔ مسلسل پڑتال کا نظام بنا کر گرانفروشی ختم کی جا سکتی ہے۔ سیکیورٹی معقول بنا کر بند تالے کھولے جا سکتے ہیں۔ یوں مقامی سیاحوں کو راغب کیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے وطن کی خوبصورتی دیکھنے اور اپنی تاریخ کے قیمتی حوالوں سے آشنا ہونے کے لئے گھروں سے نکلیں، مجھے یاد ہے کہ گزشتہ موسم گرما کے آغاز میں مری جانے والی سڑکوں پر مری کے بائیکاٹ کے بینر لگ گئے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ مری کے ہوٹل والوں کا رویہ سیاحوں کے ساتھ توہین آمیز اور جارحانہ تھا۔ پھر مقامی تاجر تنظیموں نے اصلاح احوال کا برملا یقین دلایا اور گزشتہ رویے پر اظہار ندامت کیا تو بینر اترے اور سیاح جانا شروع ہو گئے۔ سیاحت کے فروغ کے لئے سیاحوں کی تکریم اور سہولتوں کی فراہمی ناگزیر ہے، اس لئے سرکاری اور نجی شعبے دونوں کو اپناکردار ادا کرنا ہوگا۔

مزید : رائے /کالم