حصول تعلیم میں حائل مشکلات اور مہنگائی

حصول تعلیم میں حائل مشکلات اور مہنگائی
 حصول تعلیم میں حائل مشکلات اور مہنگائی

  



پاکستان کے اہم قومی امور پر نظر رکھنے والے حضرات اور خواتین کو بخوبی علم ہے کہ یہاں رہنے والے تقریباً 80فی صد لوگ غریب اور پسماندہ طبقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ مالی وسائل کم اور محدود ہونے کی وجہ سے بچوں کو بنیادی تعلیم دلانے کی خواہشات بھی اب محض خواب بنتی جارہی ہیں، کیونکہ سرکاری سکولوں کی تعداد، آبادی کی نسبت ملک کے طول و عرض میں بہت کم ہے۔ نیز ناقدین ان کے معیار تعلیم کو بھی پرائیویٹ اداروں کے مقابلے میں نچلے درجے کا قرار دیتے ہیں، لیکن پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں ابتدائی سطح سے ہی بچوں کی فیس ہزاروں روپے ماہانہ وصول کی جاتی ہے، جس میں مختصر عرصوں کے بعد اضافہ بھی کر دیاجاتا ہے۔ حالانکہ سپریم کورٹ آف پاکستان ایسے تعلیمی ادارو ں کی فیسوں میں گاہے بگاہے، اضافے کا نوٹس لے کر یا کسی متاثرہ شخص کی قانونی عرض داشت پر متعلقہ سکول مالکان کو اپنے احکامات پر عمل درآمد کے لئے مناسب احکامات جاری کرتی رہتی ہے، مگر کاروباری ذہنیت کے حامل اکثر سکول مالکان اپنی تجوریاں بھرنے کی ہوس میں بچوں سے زیادہ ماہانہ فیسیں وصول کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ بچوں کے سکول میں داخلے کے لئے بھی ہزاروں روپے الگ وصول کیے جاتے ہیں اور اس مد میں بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی مرضی کی شرحوں سے اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ مروجہ حالات میں ہمارے ملک کے عام لوگوں کے لئے اپنے بچوں کو تعلیم دلانا مشکل تر ہوتا جا رہاہے۔ اس پریشانی سے نجات کی خاطر جب لوگ متعلقہ حکومت سے داد رسی کے لئے التجا یا فریاد کرنے کی جسارت کرتے ہیں، تو اکثر اوقات حکمران طبقے کا جواب، نفی، عدم توجہی اور بے حسی شکل میں سامنے آتا ہے۔ اس طرح وطن عزیز میں موجودہ حکومت کے طرز فکر کے مطابق عام لوگوں کے بچوں کی شرح خواندگی میں مطلوبہ حد تک اضافہ ہونا عملی طور پر ممکن نظر نہیں آتا۔ قومی اخبارات میں آئے روز اس امر کی اطلاعات دیکھنے اور سننے میں آتی ہیں کہ کروڑوں بچوں کو حصول تعلیم کے لئے سکولوں میں داخل نہیں کرایا گیا، یوں وہ تعلیم کی روشنی کے فوائد سے محروم رہ کر سڑکوں پر گھومتے ہوئے، آوارہ گردی اور بے راہروی کی منفی عادات و حرکات کا شکار ہو رہے ہیں۔

اس صورت حال میں متعلقہ علاقوں اور شہروں میں قانون شکنی کے واقعات کے وقوع پذیر ہونے کی خبریں بھی منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔ ان حالات سے نہ صرف ان بچوں کے والدین کو سخت اذیت اور پریشانی لاحق ہوتی ہے، بلکہ ان نونہالوں کا مستقبل بھی خراب اور برباد ہونے کے امکانات زیادہ ہونے لگتے ہیں۔ ان مخدوش حالات سے انہیں محفوظ رکھنا اشد ضروری ہے۔ سکول بچوں کے بڑھتے ہوئے ٹرانسپورٹ کے اخراجات علیحدہ ہوتے ہیں۔ مذکورہ بالا حالات کی بناء پر ملک بھر میں بیشتر سڑکوں، بازاروں اور قدرے کشادہ مقامات پر سکول نہ جانے والے کئی بچے دیکھنے میں آتے ہیں، جو اپنے مخدوش مالی حالات کی وجہ سے حصول تعلیم کے لئے تعلیمی اداروں سے رجوع کرنے کی بجائے، اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جبکہ بعض پیشہ ور جرائم کرانے والے گروہ، انہیں دھوکہ دہی اورمختلف چال بازیوں سے اغواء کر کے بھیک مانگنے پر لگا دیتے ہیں، حتیٰ کہ ان میں سے کچھ بچوں کے جسمانی اعضاء کو بھی مضروب و مفلوج کر کے معذور کر دیا جاتا ہے، ایسے کئی واقعات رپورٹ بھی نہیں کیے جاتے، کیونکہ ان بچوں کے والدین یا لواحقین، ایسا کرنے سے گریز کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔

نتیجہ یہ ہے کہ ملک میں جرائم کی شرح اوررفتار، تقریباً ہر شہر اور علاقے میں بڑھتی رہتی ہے۔ یوں امن و امان کے قیام و استحکام کو خدشات اور خطرات لاحق ہوتے رہتے ہیں۔موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اس روایتی کوتاہی اور عدم توجہی کا جائزہ لے کر مناسب اصلاحاتی اقدامات اور انتظامات کرنا ہوں گے، کیونکہ بصورت دیگر مختلف علاقوں اور مقامات میں نقص امن اور جرائم کے واقعات مختلف وقفوں سے رونما ہوتے رہتے ہیں۔ یہ امر ملحوظ خاطر رہے کہ موجودہ حالات کے تقاضوں کے مطابق جدید فنی، سائنسی اور ٹیکنالوجی کی تعلیم کے حصول پر ذاتی اور ملکی دفاعی صلاحیت کی بہتری کے لئے،بھرپور توجہ دی جائے، نیز اسلامی تعلیمات کو بھی دنیاوی اور اخروی کامیابی کے لئے عملی زندگی میں اپنانے میں کوئی کسر، کوتاہی اور پہلو تہی نہ کی جائے۔

یاد رہے کہ انسان کو اپنی زندگی میں غرورو تکبر کی بجائے عاجزی اور انکساری کا طرز عمل اختیار کرنے کو ترجیح دینے سے ہی اللہ تعالیٰ کی سعادت و معاونت حاصل ہوتی ہے۔ یہ امر خصوصی توجہ کا متقاضی ہے کہ خورو نوش کی روزمرہ کی اشیاء مثلاً آٹا، چاول، دالوں، سبزیوں اور دودھ وغیرہ کو مناسب قیمتوں پر عوام کو فروخت کرنا ہر حکومت کی اہم ذمہ داری ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں سے آٹے کا نرخ40,45سے بڑھ کر 75تا 80روپے فی کلو ہو گیا ہے۔ اس خبر سے ملک بھر کے 80فیصد سے زائد لوگوں کے ہوش اڑ گئے ہیں،۔کیونکہ وہ تو پہلے ہی بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافے سے پریشان حالی سے دوچار ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان تو ایک بڑا زرعی ملک ہے، جہاں مذکورہ بالا اشیائے خورو نوش، وافر مقدار میں پیدا ہوتی، بلکہ بعض اوقات برآمد بھی کی جاتی ہیں۔ ان کی قیمتوں میں اضافے کا اچانک رجحان شہری کے لئے بہت تکلیف دہ اور پریشان کن معاملہ ہے…… جیساکہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ یہا ں کے اکثر لوگوں کے ذرائع آمدنی کم اور محدودہیں۔ یوں وہ اپنی آمدنی سے کیسے موجودہ مہنگی خوراک کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں؟

مزید : رائے /کالم