دنیا کی سب سے بڑی تحقیق

دنیا کی سب سے بڑی تحقیق
 دنیا کی سب سے بڑی تحقیق

  



ہارورڈ یونیورسٹی پو ری دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ اس یو نیورسٹی میں پوری دنیا کے مانے ہوئے پروفیسر پڑھا تے ہیں۔تحقیق کے حوالے سے پوری دنیا میں یہ یونیورسٹی اپنی مثال آپ ہے۔ اسی(80) سال پہلے اس یو نیورسٹی کے یو نٹ…… Harvard Study of Adult Development Department…… نے ایک تحقیق شروع کی جو آج بھی جاری ہے۔ یہ اپنی نو عیت کی بہت منفرد اوراہم تحقیق ہے، جو ایک عام انسان سے لے کر ایک اعلیٰ عہدے کے انسان تک کے لئے بھی بہت اہم اور ضروری ہے۔ 80سال بعد یہ تحقیق ہمیں بتا تی ہے کہ انسان خو شی اور خو شحالی کو کیسے پا سکتا ہے؟وہ کن چیزوں کو اپنا کر اور ان پر محنت کر کے اپنی اوسط عمر 60سے 70سال خوشی سے گزار سکتا ہے۔

انسانی زند گی سے متعلق ماضی کی یا دیں ایک سائنسی حقیقت ہیں۔ ہم اپنی زند گی میں 80فیصد واقعات کو یادداشت میں محفو ظ نہیں رکھ پاتے۔ بہت کم لو گ ایسے ہو تے ہیں جو زیادہ چیزیں یاد رکھ سکتے ہیں۔ یہ تحقیق بنیادی طو ر پر انسانی خو شی اور خوشحالی سے متعلق تھی۔ اس تحقیق میں 724 امریکیوں کو 80سا ل سے زیر مشاہدہ رکھا گیا۔ اس میں ان لو گو ں کو بچپن سے لے کر بڑھا پے تک پو ری طرح سے جا نچا گیا کہ وہ کیا کا م کر تے رہے، گھروں میں کیسے رہے، ان کی صحت کیسی رہی، ان کی زند گی کی کہا نی نے کون کون سا موڑ لیا؟ ان لوگو ں کی ہر طر ح کی عا دات و سکنات کو نوٹ کیا گیا۔ شا ید ہی انسانی تاریخ میں اس سے قبل ایسی تحقیق ہو ئی ہو گی۔اس تحقیق میں شامل 724 افراد میں سے صرف 60لوگ زندہ ہیں، اب ان لوگوں کے بچو ں کو جو تقریباً 2000 کے قریب ہیں،اس ریسرچ کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔

اب تک اس تحقیق کے تین ڈائریکٹر مر چکے ہیں۔اب چو تھا ڈائریکٹر جس کا نام رابر ٹ جے ویلڈ نگر ہے جو خود ایک کامیاب ڈاکٹر،معروف ماہر نفسیات بھی ہے۔1938ء میں شروع ہو نے والی اس تحقیق میں ان 724 افراد کو دو گرپوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پہلا گر وپ ہارورڈ کا لج کے ہائی سکول کے طلبہ کا تھا، ان تمام طلبہ نے دوسری جنگ عظیم کے دوران اپنا کالج ختم کیا اور ان کی اکثریت جنگ میں شامل ہو ئی تھی۔ دوسرا گروپ جو ابتدائی تحقیق میں شامل تھا، وہ بو سٹن کی غریب آبادی کے لڑکوں پر مشتمل تھا۔ یہ سارے بچے پسماندہ اور غریب ترین گھر وں سے تھے۔ یہ سب لڑکے بڑے ہو ئے، عملی زندگی میں قد م رکھا، کوئی فیکٹری مزدور بنا، کو ئی وکیل، کو ئی بھٹہ مزدور، کوئی ڈاکٹر، حتی کہ ایک تو ان میں سے امریکہ کا صد ر بھی بنا……! اسی طرح کچھ شرابی بن گئے، کچھ ذہنی مریض ہو ئے، کچھ غربت کی اتھاہ گہرا ئیو ں سے نکلے اور امرا میں شامل ہو گئے۔

حال ہی میں ایک بہت مشہور تحقیق ہو ئی جو دنیا کے ارب پتیو ں کے بارے میں تھی۔ ان سے یہ سوال پو چھا گیا کہ ان کی زند گی کا سب سے بڑا مقصد کیا تھا؟ 80فیصد سے زیادہ ارب پتیو ں کا جواب تھا: ”امیر ہونا“…… انہی امیر لو گو ں سے دو سرا سوال یہ کیا گیا کہ ان کا دوسرا بڑا گو ل کیا تھا؟ 50فیصد لوگو ں نے کہا کہ”مشہور ہونا“…… مگر یہ تحقیق با قی تمام تحقیقا ت سے بہت ہی مختلف ہے، جس میں یہ نتیجہ نکا لا گیا ہے کہ انسا ن اپنی زند گی کو زیادہ خوشی اور خوشحالی سے کیسے گزار سکتا ہے؟ اس تحقیق کے نتا ئج اور سبق بہت ہی دلچسپ ہیں،ہماری سو چ سے بھی زیادہ دلچسپ۔

80سال کے بعد اس تحقیق نے یہ بتایا کہ خوشگوار اور صحت مند زند گی کا تعلق نہ تو دولت سے ہے،نہ شہرت سے، نہ ہی سخت محنت سے،بلکہ خوشگوار اور صحت مند زند گی کی بنیادی وجہ جو دریافت کی گئی وہ ہے…… ”اچھے رشتے“ …… اس تحقیق کے تین حصوں میں سے پہلا حصہ یہ کہتا ہے کہ سماجی رابطے ہمارے لئے بہت ضروری ہیں۔ وہ لوگ جو اپنے گھر والوں، دوستوں، کمیونٹیوں سے زیادہ منسلک اور جڑے تھے، وہ زیادہ خو ش تھے، جسمانی طو ر پر بھی زیا دہ صحت مند تھے۔ انہوں نے ان کے مقا بلے میں زیادہ لمبی عمر پا ئی جو دو سرے لو گو ں سے کم منسلک تھے۔اس تحقیق میں دیکھا گیا کہ جو لو گ دوسروں سے کم میل جو ل رکھتے تھے، ان کی صحت جلد خراب اور ان کے دماغ کی کارکردگی جلد زوال پذیر ہو تی تھی۔

اس تحقیق میں یہ بھی سیکھا گیا کہ سوشل ہو نے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کے دوست زیادہ ہوں، بلکہ یہ ہے کہ آپ کے ساتھی آپ سے اور آپ ان سے وفا دار ہوں۔ جب آپ دوسروں سے تعلقات کے حوالے سے وفا دار اور اصول پسند ہوتے ہیں تو آپ زندگی میں خود کو بہت کم جگہو ں پر تنہا محسوس کر تے ہیں،جن لوگوں کے سماجی تعلقات اچھے نہیں ہو تے، وہ زیادہ تر ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کا معیار زندگی کم ہو جاتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی عرض کر تا چلوں کہ اس سائنسی علوم و تحقیق سے ان آفاقی تعلیمات کی تو ثیق ہو جا تی ہے جو مذہب اور روحانی علوم کی بدولت ہمیں حاصل ہوئی ہیں۔ دین اسلام نے چو دہ سو سال پہلے ہمیں بتایا کہ اپنے رشتو ں کا بہت خیال رکھو، چاہے وہ والدین ہوں، بہن بھا ئی ہوں، قریبی رشتے دار ہوں یا پھرتمہارے دوست احباب ہی کیو ں نہ ہوں، ہمیں با ر بار صلہ رحمی کا حکم بھی دیا گیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ فر ما تے ہیں: ”تمہارے عزیز و اقارب تمہارے لئے پر وں کی طرح ہیں،جن کی بد ولت تم پروازکر تے ہو“……!(جاری ہے)

مزید : رائے /کالم