مولانا فضل الرحمن: بے رحم سیاست کا شکار

مولانا فضل الرحمن: بے رحم سیاست کا شکار
 مولانا فضل الرحمن: بے رحم سیاست کا شکار

  



مولانا فضل الرحمن ایک بار پھر قسمت آزمانے نکل رہے ہیں …… میرے نزدیک تو وہ اس وقت پاکستانی سیاست کا سب سے مظلوم کردار ہیں، جنہیں صرف دھوکے ہی ملے ہیں اور ہر ایک نے اپنا مطلب نکال کر انہیں بیچ منجدھار کے چھوڑا ہے۔ اس بار انہوں نے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کی ہے اور بڑی جماعتوں سے امیدیں لگانے کی بجائے چھوٹی ہم خیال جماعتوں کے اشتراک سے حکومت کو گرانے کے مشن پر نکلنا چاہتے ہیں۔ اب اگر کسی کو یہ حیرانی ہے کہ مولانا فضل الرحمن مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے اشتراک سے جب حکومت کا کچھ نہیں بگاڑ سکے تو تن تنہا چند علاقائی و مذہبی جماعتوں کے ساتھ مل کر کیا کارنامہ سر انجام دے سکیں گے؟…… دراصل مولانا کے اضطراب کو سمجھنا ضروری ہے۔

وہ پہلی بار اقتدار سے باہر اور سرکار کی سہولتوں سے محروم ہیں، ان کے لئے تو اس حکومت کا ایک ایک دن بھاری ہے۔ کہتے تو وہ یہ بات ملک کے لئے ہیں،تاہم اصل میں یہ ان پر صادق آتی ہے …… آج اٹھارہ ماہ سے زائد ہو گئے ہیں، وہ حکومت کو گھر بھیجنے کے مشن پر نکلے ہوئے ہیں، مگر کامیابی کی کوئی سبیل نظر نہیں آ رہی۔ بددلی کی انتہا یہ ہے کہ اب انہوں نے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) سے رابطہ تک منقطع کر دیا ہے، حالانکہ کل تک وہ ان کی آنکھ کا تارا بنے ہوئے تھے…… کیا محبت ہے، کیا نفرت ہے؟

مسلم لیگ (ن) تو اس وقت زباں بندی کے دور سے گزر رہی ہے۔ سوائے شہباز شریف کی ہلکی پھلکی موسیقی کے،نہ کچھ سنائی دیتا ہے اور نہ کہا جا رہا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ جب تک مسلم لیگ (ن) کی طرف سے نوازشریف یا مریم نواز کچھ نہ بولیں، باقی سب کا بولنا نہ بولنا برابر ہے۔ پچھلے آزادی مارچ اور دھرنے میں مسلم لیگ (ن) کی شرکت بڑی نمایاں تھی۔ نوازشریف نے حکم بھی دیا تھا کہ مولانا کا ساتھ دیا جائے۔ شہباز شریف نے دھرنے میں شرکت بھی کی تھی، خطاب بھی کیا تھا۔ یہ انہی دنوں کا واقعہ ہے، جب نوازشریف باہر جانے کے لئے پرتول رہے تھے اور حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی تھی۔ مولانا کے احتجاج اور دھرنے نے ایک ایسی فضا بنائی کہ سیاسی لوگ قانون کی گرفت سے باہر آنے لگے۔

جس این آر او کی باتیں ہو رہی تھیں، وہ غیر اعلانیہ ہونے لگا۔ مولانا فضل الرحمن عمران خان کو گھر بھیجنے کے لئے زور لگا رہے تھے، مگر نوازشریف اور آصف علی زرداری جیل سے باہر آنے کی منصوبہ بندی میں مصروف تھے۔ مولانا کے دباؤ کی وجہ سے بہت سے کام سیدھے ہوئے اور کئی باتیں، جو انہونی لگتی تھیں، وقوع پذیر ہوئیں۔ مولانا کی آنکھ اس وقت کھلی جب چڑیاں کھیت چگ کر جا چکی تھیں۔ آج مولانا میں اس حد تک لچک آ گئی ہے کہ ان ہاؤس تبدیلی کو بھی قبول کرنے کے لئے تیار ہیں، پہلے وہ ان اسمبلیوں کو ہی جعلی اور دھاندلی کی پیداوار قرار دیتے تھے، مگر اب ان کی اس تجویز پر کوئی ان کا ساتھ دینے کو تیار نہیں، حتیٰ کہ ان کے پرانے اتحادی، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے بھی ان ہاؤس تبدیلی کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے ہارس ٹریڈنگ کو فروغ ملے گا، جو جمہوریت کے زہر قاتل ہے۔

اب یہ بات بھی کھل گئی ہے کہ مولانا فضل الرحمن سے چودھری برادران نے بھی ہاتھ کیا۔ انہیں ایسے خواب دکھائے، جن کی تعبیر تھی ہی نہیں۔ آج مولانا فضل الرحمن نے سب راز فاش کر دیئے ہیں، بقول ان کے چودھری برادران نے استعفوں سمیت تین ماہ میں نئے انتخابات کرانے کی ضمانت دے کر دھرنا ختم کرایا تھا۔ وہ چودھری پرویز الٰہی سے توقع رکھے ہوئے ہیں کہ سامنے آ کر اس راز سے پردہ اٹھائیں گے۔ ان کا خیال ہے کہ چودھری برادران عمران خان سے نالاں ہیں، اس لئے حکومتی اتحاد سے نکل کر ان کا ساتھ دیں گے۔ اب اسے مولانا فضل الرحمن کی معصومیت نہ کہا جائے تو اور کیا ہے؟ وہ چودھری برادران سے امید لگائے بیٹھے ہیں کہ حکومت کو چھوڑ دیں گے……”اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا“…… چودھری برادران پہلے ہی عمران خان کے عتاب کا شکار ہیں، کیونکہ ان کے علم میں مولانا فضل الرحمن کے انکشاف سے بھی پہلے یہ بات آ چکی ہے کہ چودھری برادران نے دھرنا ختم کرانے کے لئے ایسی پیشکشیں کیں، جو ان کا مینڈیٹ ہی نہیں تھیں …… مثلاً وزیر اعظم کا استعفا اور تین ماہ میں نئے انتخابات کرانا۔

سوال تو یہ بھی ہے کہ دھرنا ختم کرانے کے لئے کردار ادا کرنے کو تو خود عمران خان نے چودھری برادران سے کہا تھا، پھر وہ کس کے ایماء پر حکومت جانے اور انتخابات ہونے کی یقین دہانی کراتے رہے؟ کیا ان کا مقصد یہ تھا کہ مولانا فضل الرحمن سے جھوٹے وعدے کر کے وقتی طور پر احتجاج ختم کرایا جائے، بعد میں دیکھا جائے گا، تاہم اس کے لئے بھی تو انہیں وزیر اعظم عمران خان کو اعتماد میں لینا چاہئے تھا، لیکن انہوں نے تو دونوں اطراف کو اندھیرے میں رکھا۔ مولانا تو چودھری پرویز الٰہی کی باتوں سے اتنے ”پھولے نہ سمائے“ کہ دھرنا بھی ختم کر دیا اور یہ اعلان بھی کیا کہ دسمبر تک حکومت ختم ہو جائے گی۔

یاد رہے کہ اس پر شیخ رشید نے یہ پھبتی کسی تھی کہ مولانا نے 2023ء کے دسمبر کا کہا ہے۔ آج مولانا فضل الرحمن یہ شکوہ کر رہے ہیں کہ ان سے جھوٹا وعدہ کیا گیا، حالانکہ انہیں یہ معلوم نہیں کہ یہ جھوٹا وعدہ بھی چودھری برادران کو کتنا مہنگا پڑ چکا ہے……سیاست کا اصول یہی ہے کہ اس میں آنکھیں کھلی رکھنا پڑتی ہیں۔ یہاں خواب دکھانے والے، جھوٹے وعدے کرنے والے، جھوٹے الزامات لگا کر دراڑیں ڈالنے والے قدم قدم پر موجود ہوتے ہیں۔ یہاں مولانا فضل الرحمن جیسے سادہ لوح رہنماؤں کا کوئی کام نہیں۔ انہیں شریف برادران نے بھی استعمال کیا اور آصف علی زرداری نے بھی ……وہ چاہتے تو مولانا فضل الرحمن کو انکار کر سکتے تھے۔ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ ابھی وہ اسمبلیوں کا خاتمہ نہیں چاہتے، یہ بھی بتا سکتے تھے کہ ایسے دھرنوں سے حکومتیں نہیں جاتیں، مگر انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا، بلکہ تھپکی دے کر مولانا کو اکھاڑے میں اتار دیا اور اس کے بعد خود پتلی گلی سے نکل گئے۔

آج مولانا کفِ افسوس مل رہے ہیں کہ انہوں نے نوازشریف اور آصف علی زرداری پر اعتبار کیا۔ مومن تو ایک سوراخ سے بار بار نہیں ڈسا جا سکتا، مگر مولانا ایسے مومنین میں شامل نہیں، انہوں نے آج بھی مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے لئے اپنے دروازے کھلے رکھے ہوئے ہیں، شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ حکومت کو گرانے کا بار تنہا اپنے کاندھوں پر اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں، خاص طور پر زادِ راہ کے بغیر تو تحریکیں ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکتیں۔ پچھلی تحریک میں تو زادِ راہ کی کوئی سبیل نوازشریف کی وجہ سے پیدا ہو گئی تھی، اس بار تو اس کا بھی امکان نظر نہیں آ رہا۔ بہتر تو یہی تھا کہ مولانا فضل الرحمن بھی نوازشریف اور آصف علی زرداری یا دوسرے سیاستدانوں کی طرح کچھ عرصے کے لئے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر کے مناسب وقت کا انتظار کرتے، مگر وہ تو پہلے دن سے اقتدار کے بغیر ”ماہی ء بے آب“ کی طرح تڑپ رہے ہیں۔ اب ایسی بے تابی میں شکست اور ہزیمت کا امکان تو ہوتا ہے، سو اس سے وہ گزر چکے ہیں اور ایک بار پھر گزرنے کا ارادہ کئے ہوئے ہیں …… بے رحم سیاست کے شکار کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہو سکتی ہے۔

مزید : رائے /کالم