ایون گارڈ: دنیا کا تیز ترین میزائل

ایون گارڈ: دنیا کا تیز ترین میزائل
 ایون گارڈ: دنیا کا تیز ترین میزائل

  



دو ہفتے پہلے روس نے ایک نئے میزائل کا تجربہ کیا جس کی رفتار آواز کی رفتار سے 20گنا زیادہ تھی۔ جس طرح اوزان وغیرہ کے پیمانے ہوتے ہیں اسی طرح رفتار ماپنے کے بھی پیمانے ہیں جن کو آواز کی رفتار کی نسبت سے بیان کیا جاتا ہے۔ ہم جو آواز سنتے یا سناتے ہیں وہ آواز کی مخصوص لہروں پر سفر کرتی ہے۔ اس رفتارِ صدا کو پیمانہ بنا کر سائنس دانوں نے مختلف آوازوں کی رفتار کا تعین کر دیا ہے۔ آواز کی رفتار 343 میٹر فی سیکنڈ یا 1235 کلومیٹر فی گھنٹہ یا 767میل فی گھنٹہ ہوتی ہے۔آواز کی اس رفتار کو میک (Mach) نمبر سے بھی ظاہر کیا جاتا ہے۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ فلاں چیز کی رفتار میک ون، میک۔2 یا میک۔3 ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس چیز کی رفتار (ہوا / فضا میں) کیا ہے۔ یہ یاد رہے کہ زمین پر دوڑتی کسی چیز (انسان، کار، ریل گاڑی وغیرہ) کی رفتار اور فضا میں اڑتی کسی چیز کی رفتار میں فرق ہوتا ہے۔ چنانچہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ فلاں میزائل کی رفتار آواز کی رفتار سے 20گنا زیادہ ہے تو 1235 کلومیٹر کو 20سے ضرب دیں تو حاصل ضرب 24700 بنتا ہے۔ چنانچہ وہ میزائل جس کا تجربہ اگلے روز روس نے کیا اس کی رفتار تقریباً 25ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تھی…… روس نے اس کا نام ایون گارڈ (Avangard) رکھا ہے۔

روسی سائنس دان اس میزائل پر کئی برسوں سے تجربات کر رہے تھے۔ کہتے ہیں کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے، اس لئے جوں جوں ضرورتیں بڑھتی جاتی ہیں، ”ماؤں“ کی طلب میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ روس کا اصل مقابلہ امریکہ سے ہے۔ کئی عشروں تک امریکہ اور روس دنیا کی دو سپرطاقتیں کہلاتی رہیں۔ پھر 1990ء کے اختتام پر جب سوویٹ یونین نے یہ دیکھا کہ وہ امریکہ کی نت نئی عسکری ایجادات کا مقابلہ نہیں کر سکتا تو اس نے ہاتھ کھڑے کر دیئے۔ تب سے لے کر اب تک امریکہ ہی دنیا کی واحد سپرپاور ہے۔ لیکن جب سے صدر پوٹن نے روس کی عنانِ اقتدار سنبھالی ہے اس نے اپنے ملک کا وقار بلند کرنے کی لگاتار کوششیں کی ہیں۔یہ ایون گارڈ میزائل بھی ایک ایسی ہی کوشش ہے۔ اس کا نمایاں امتیاز یہ ہے کہ اب تک اس میزائل کا کوئی امریکی توڑ منظر عام پر نہیں آیا۔ کہاجا رہا ہے کہ روس اب امریکی سرزمین پر جہاں چاہے، یہ میزائل پھینک سکتا ہے اور اس کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اس میں نیوکلیئر وارہیڈ (جوہری بم) بھی لے جایا جا سکتا ہے۔ امریکی سائنس دان اور انجینئر اب مل کر ایون گارڈ کا توڑ دریافت کرنے میں کوشاں ہوں گے۔ اور جب وہ کامیاب ہو جائیں گے تو روس کا کوئی اور عسکری امتیاز سامنے آ جائے گا۔ دنیا میں اب تک یہی کچھ ہوتا آیا ہے…… انسان خوب سے خوب تر کی جستجو میں مہلک تر ہتھیار ایجاد کرتا رہتا ہے کہ انسانی فطرت کا تقاضا یہی ہے:

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں

اب ٹھیرتی ہے دیکھئے جا کر نظر کہاں

جس دن (27دسمبر 2019ء) روس نے یہ تجربہ کیا اور اس کی خبر فارن میڈیا پر فلیش ہوئی کئی دوستوں کی طرف سے تقاضے موصول ہونے لگے کہ اس پر کالم آرائی کی ضرورت ہے۔ میں متامل تھا کہ یہ ”بڑے جوڑوں“ کا دنگل ہے۔ پاکستان کو اس سے کیا لینا دینا۔ ہاں اگر چین کے صحافی یا ایسے چینی دانشور جو دفاع میں دلچسپی رکھتے ہوں وہ اگر اپنے میڈیا سے مطالبہ کریں تو اور بات ہے۔ اس میزائل (ایون گارڈ) کی تو کوئی مفصل خبر تک کسی بھی پاکستانی ٹی وی چینل نے نہیں دی تو پھر پرنٹ میڈیا کے قاری ان معلومات کو پڑھ کر کیا کریں گے۔ پھر رفتہ رفتہ دن گزرتے گئے اور ساتھ ہی اس میزائل کی معلومات کے حصول کے تقاضے بھی بڑھنے لگے تو مجھے محسوس ہوا کہ اردو زبان کا قاری بھی اب دفاعی موضوعات کا طلبگار ہوتا جا رہا ہے قطع نظر اس کے پاکستان پر اس موضوع کی معلومات کا کچھ اثر ہو کہ نہ ہو۔ ایک صاحب نے جب یہ کہا: ”کرنل صاحب! بے شک پاکستان کا تعلق اس جدید ترین میزائل سے نہ ہو لیکن پاکستانی قاری کو یہ حق تو پہنچتا ہے کہ وہ اس ہتھیار کے بین الاقوامی اثرات اور اس کے فال آؤٹ سے آگاہی پائے۔

یہ بتایئے کہ ہم اگر آپ کو نہ کہیں تو کیا کرنل ای اے ایس بخاری مرحوم کی روح کو آواز دیں اور پوچھیں کہ اس میزائل کے احوال و مقامات کیا ہیں؟“…… مجھے برادرم منیب کے اس حسنِ طلب نے خاصا متاثر کیا۔ وہ ان چند لکھے پڑھے اور واقفِ حال صحافیوں کے گروہ سے تعلق رکھتے ہیں جو دفاع جیسے موضوع کو اب زیادہ خشک اور بوریت آور سمجھنے سے گریز کرتے ہیں۔ بات یہ نہیں کہ ان کو انٹرنیٹ یا سمارٹ فون کی سہولیات میسر نہیں یا وہ انگریزی زبان سے نابلد ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ غیر ملکی دفاعی نامہ گار اور تجزیہ کار جس زبان میں تکنیکی اصطلاحات کو ڈسکس کرتے ہیں وہ ان کے اپنے ہاں تو شائد کوئی مسئلہ نہ ہو کیونکہ وہاں کا قاری اس قسم کی مشکلات کو پیچھے چھوڑ آیا ہے لیکن وہ پاکستانی قاری جو اردو زبان میں کسی پروفیشنل عسکری موضوع پر جانکاری مانگتا ہے وہ کہاں جائے……لہٰذا (Hence) یہ چند سطور:

اس میزائل کا پورا نام ایون گارڈ ہائپرسانک (Hypersonic) ہے۔ آواز کی رفتار سے تیز تر رفتار والے میزائل کو ہائپر سانک کہا جاتا ہے۔ یہ میزائل بین البراعظمی بلاستک میزائل (ICBM) کی نوک پر رکھ کر لانچ کیا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک مار کر سکتا ہے۔ یہ جب اپنے ہدف کے قریب پہنچتا ہے تو ICBM سے الگ ہو جاتا ہے۔ اس میں جہاز رانی (نیوی گیشن) کے جو آلات نصب ہیں وہ فیڈ شدہ ہدف کی تلاش میں مددگار ہوتے ہیں۔ چونکہ اس کی رفتار آواز کی رفتار سے 20،21 گنا زیادہ ہے اس لئے کوئی بھی میزائل شکن نظام (ائر ڈیفنس سسٹم) اس کو روک نہیں سکتا۔ امریکہ کا پیٹریاٹ ائر ڈیفنس سسٹم بھی اس کو روکنے سے بے بس ہے۔ شائد اس لئے بعض امریکی اور یورپی ماہرین نے ایون گارڈ کے ہائپر سانک ہونے پر شک کا اظہار کیا تھا۔ اس لئے روسیوں نے امریکی ماہرین کو دعوت دی اور کہا کہ وہ خود آکر اس کی لانچنگ کا خود کار عمل ملاحظہ کریں۔

چنانچہ وہ لوگ آئے اور انہوں نے بچشم خود دیکھا کہ ایون گارڈ واقعی 6000ہزار کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے اور عین اپنے ہدف پر جا لگتا ہے۔ روسیوں نے اسے کوہِ یورال میں کسی جگہ سے لانچ کیا تھا۔ اس ٹیسٹ لانچ کا ہدف بھی 6000کلومیٹر (3700میل) کے فاصلے پر سلسلہ ء کوہ یورال میں کسی جگہ تھا۔ ماسکو نے اس کی لانچنگ کی جو وڈیو جاری کی ہے وہ قارئین اگر چاہیں تو اپنے سمارٹ فون پر دیکھ سکتے ہیں۔ روس کا ایس۔400ائر ڈیفنس سسٹم اب دنیا بھر میں مشہورہو چکا ہے۔ چین اور ترکی نے اسے اپنے ہاں منگوا کر اس کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ لیکن یہ سسٹم بھی ایون گارڈ کو نہیں روک سکتا۔ اس وارہیڈ کے اندر گلائڈنگ سسٹم نصب ہے جو اسے ہدف پر جالگنے میں آسانی دیتا ہے۔ روسی وزیر دفاع سرگئی شوگو (Shoigu) نے اعلان کیا ہے کہ اس میزائل کی پوری ایک رجمنٹ 27دسمبر 2019ء کو کوہ یورال میں کسی جگہ ڈیپلائے کی جا چکی ہے۔ پوٹن نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک کے پاس ہائپر سانک ہتھیار موجود نہیں۔ لیکن ایون گارڈ تو نہ صرف یہ کہ ہائپر سانک ہے بلکہ اس کی رینج ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک ہے۔ دوسرے لفظوں میں روس (یورپ) سے داغا گیا ایون گارڈ امریکہ، ایشیاء، افریقہ اور آسٹریلیا میں کسی بھی جگہ اپنے ہدف کو شکار کر سکتا ہے۔

امریکہ نے ڈرون ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر ساری دنیا میں تہلکہ مچایا ہوا ہے۔ بغداد ائرپورٹ پر ایران کے جنرل سلیمانی کی کار کو نشانہ بنانے والا ڈرون، امریکی سرزمین کے کسی مقام سے لانچ کیا گیا تھا۔ لیکن ڈرون تھریٹ کا توڑ روس کے S-400ائر ڈیفنس سسٹم کی مدد سے ممکن ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایران کے پاس یہ نظام (S-400) ہوتا تو جنرل سلیمانی کی کار نشانہ نہ بن سکتی۔ انڈیا نے بھی روس سے یہ سسٹم خریدنے کا معاہدہ کر رکھا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق یہ سسٹم انڈیا میں آ چکا ہے اور اس کا بھارتی عملہ، روس میں کسی جگہ اس سسٹم کی لانچنگ کی ٹریننگ لے رہا ہے۔ اگر یہ اطلاع درست ہے تو پاکستان اس تھریٹ کے توڑ سے غافل نہیں ہو گا۔ لیکن ہمارے یا فارن میڈیا پر اس ضمن میں مکمل خاموشی ہے۔ پاکستان کا الیکٹرانک میڈیا، صبح و شام داخلی سیاست کی جگالی کرتا رہتا ہے۔ اگر کل کلاں پاک بھارت جنگ شروع ہو گئی تو اس میڈیا کے پاس کہنے سننے کو کچھ نہیں ہو گا۔ہم پاکستانیوں نے اس موضوع کا ٹھیکہ اپنی ملٹری کو دے رکھا ہے لیکن ملٹری کا کوئی ایسا خصوصی چینل نہیں جو آنے والی جنگ کا منظرنامہ (سنریو) سامنے رکھ کر پاکستان کے سیاست زدہ صحافیوں اور مبصروں کو جگا کر کہہ سکے:

وطن کی فکر کرنا واں مصیبت آنے والی ہے

تری بربادیوں کے تذکرے ہیں آسمانوں میں

مزید : رائے /کالم