بجٹ کیلئے سٹیک ہولڈرز سے مشاورت اولین ترجیح ہے،وزیر خزانہ پنجاب

بجٹ کیلئے سٹیک ہولڈرز سے مشاورت اولین ترجیح ہے،وزیر خزانہ پنجاب

  



لاہور(این این آئی) صوبائی وزیر خزانہ مخدو ہاشم جواں بخت نے کہا ہے کہ بجٹ کے سلسلے میں سٹیک ہولڈرز سے مشاورت اولین ترجیح ہے، بخوبی احساس ہے کہ نجی شعبہ کی مشاورت کے بغیر معاشی ترقی خوشحالی ممکن نہیں، روزگار کی فراہمی میں اسی فیصد حصہ نجی شعبہ کا ہے، اس کے لیے ایک جامع پیکیج تشکیل دیکر وفاقی حکومت کو پیش کریں گے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ لاہور چیمبر کے صدر عرفان اقبال شیخ، سینئر نائب صدر علی حسام اصغر، نائب صدر میاں زاہد جاوید احمد، چیئرمین پنجاب ریونیو اتھارٹی زین العابدین ساہی، چیئرمین پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ جہانزیب برانا، سیکریٹری فنانس محمد عبداللہ خان سنبل نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ کا بڑا حصہ ان پراجیکٹ پر خرچ کرنا ترجیح ہے جن سے معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے۔ انہوں نے کہا کہ پچاس سے زائد ایسے ٹیکسوں کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں اگر ختم کربھی دیا جائے تو قومی خزانے یا کاروباری آسانیوں کے انڈیکس کو فرق نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ٹیکس کونسل سے کہا ہے کہ وہ ٹیکسوں میں ہم آہنگی کے لیے کردار ادا کرے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح بڑھانا چاہتے ہیں مگر معیشت کی قیمت پر نہیں، کاروباری آسانیوں کے حوالے سے پچھلے سال کارکردگی بہت بہتر رہی۔ انہوں نے کہا کہ انسپکٹر لیس ریجیم اور ڈیجیٹلائزیشن کاروباری آسانیوں کی رینکنگ مزید بہتر کرے گی۔ ادائیگیوں کے لیے ای پیمنٹ پر کام تیزی سے جاری ہے، جلد ہی یہ نظام لاگو ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبے کی بحالی بہت ضروری ہے۔ پچھلے سال اس شعبہ پر سولہ فیصد ٹیکس لگایا تھا، وہ واپس لیکر فلیٹ ریٹ نافذ کیا گیا ہے، وفاقی حکومت بھی اس شعبہ کو ریلیف دینے کے لیے کافی کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پراپرٹی ٹیکس، ڈی سی ریٹ، سٹیمپ ڈیوٹی اور ایف بی آر ریٹ کو بھی دیکھ رہے ہیں۔

، اس سلسلے میں جلد ہی اچھی خبر دیں گے۔ لاہورچیمبر کے صدر عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ 2017-18ء میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کا بجٹ 576 ارب روپے تھا جو 2019-20میں کم کرکے 350ارب روپے کردیا گیا، اس نے صوبے میں جاری بنیادی انفراسٹرکچر اوردیگر ترقیاتی سرگرمیوں پر انتہائی منفی اثر ڈالا ہے،جس کا نتیجہ معاشی سست روی کی صور ت میں سامنے آرہاہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے کی معاشی سرگرمیوں میں اضافے کیلئے آئندہ بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حجم خاطر خواہ بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سروسز پر سیلز ٹیکس صوبوں میں مختلف ریٹ ہیں،پنجاب ریوینو اتھارٹی 16%اور سندھ ریوینیو بورڈ 13% وصول کرتے ہیں جس کے باعث صوبوں کے درمیان مسابقت شروع ہوجاتی ہے، صوبائی سطح پر سروسز پر سیلز ٹیکس کی یکساں شرح کا تعین کیا جائے۔ عرفان اقبال شیخ کہا کہ پاکستان میں کاروباری آسانی کے حوالے سے پنجاب کو خصوصی اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس مجموعی درجہ بندی میں لاہور کا حصہ 35%ہے، ٹیکسز کی ادائیگی کی درجہ بندی میں پاکستان 161ویں نمبر پر ہے،جس میں بہتری کیلئے کافی کام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر ٹیکسز اور ادائیگیوں کی تعداد میں کمی کی ضرورت کے بارے میں کئی بار تجاویز پیش کرچکا ہے۔ انہوں نے ٹیکسز کی ادائیگی کے آن لائن سسٹم کو سراہا اور تجویز پیش کی کہ ان ادائیگیوں کیلئے کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ استعمال کرنے کی بھی اجازت دی جائے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی سطح پر بھی ٹیکسز کی ادائیگیوں کی تعداد میں کمی کی ضرورت ہے،جو کہ سالانہ بجٹ سٹیٹمنٹ کے مطابق 120سے زائد ہیں،ان میں سے زیادہ تر ٹیکسوں سے ہونے والی مجموعی آمدن ایک ملین روپے سے بھی کم ہے۔ان ٹیکسز کو آسانی سے ختم یا دوسرے ٹیکسز میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس وصولی کو سروس فراہمی سے الگ کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ سروس فراہم کرنے والے اداروں مثلا پیسی وغیرہ کو ریوینیو اکٹھا کرنے کیلئے اپنے افسران کو فیلڈ میں بھیجنے کی بجائے ہسپتال میں داخلہ، پنشن، انجری و اموات سے متعلق گرانٹس کی ادائیگیوں کیلئے اپنی سروسز بہترسے بہترین کرنے کی جانب توجہ دے سکیں۔لاہور چیمبر کے صدر نے ایک اور اہم مسئلہ کی جانب وزیر خزانہ کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ واسا کی جانب سے ایک کیوسک پانی والے ٹیوب ویل کی تنصیب پر صنعتوں، کمرشل اور کارپوریٹ اداروں کو ایک لاکھ روپے سالانہ فکس ریٹ مقرر کر دیئے گئے ہیں جو بہت زیادہ ہیں، کاروباری لاگت کم کرنے کے لیے ان ریٹس میں کمی اشد ضروری ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ انڈسٹریلائزیشن کو فروغ دینے کیلئے تمام نئی رجسٹرڈ کمپنیوں خاص طور پر چھوٹے کاروبار کوکم از کم تین سال کیلئے ٹیکسز کی چھوٹ دینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی صورت میں پنجاب کی کاروباری برادری پر اضافی ٹیکس کا بوجھ ہے، اس سیس سے بچنے کیلئے بچنے کیلئے پنجاب کے تاجر کراچی پورٹ پر سے ہی اپنی کنسائنمنٹ کو کلیئر کروا لیتے ہیں۔ جس سے پنجاب کے کلیئرنگ ایجنٹ اور ٹرانسپورٹیشن کمپنیوں کے کاروبار کو شدید نقصان کا سامناکرنا پڑرہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کے بہترین مفاد میں اس سیس کو فوری طور پر ختم کرنا چاہیے۔ اجلاس میں ایگزیکٹو کمیٹی اراکین ذیشان سہیل ملک، ڈاکٹر ریاض احمد، حاجی آصف سحر، فیاض حیدر، عثمان خالد، شفیق بٹ، عاطف کرام، حارث عتیق، ارشد خان، عاقب آصف، یاسر خورشید، سابق سینئر نائب صدر امجد علی جاوا اور سابق نائب صدر کاشف انور بھی موجود تھے۔

مزید : کامرس