ٹیلی نار کی ورلڈ بینک کے ساتھ شراکت داری

ٹیلی نار کی ورلڈ بینک کے ساتھ شراکت داری

  



لاہور(پ ر)ملکی معاشی ترقی میں خواتین کو بااختیار بنانے، شمولیت اور شرکت کیلئے اپنی جاری کوششوں کے تحت ٹیلی نار پاکستان نے ورلڈ بینک کے ’گرلز لرن ومن ارن‘ (GLWE)اقدام کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔ تقریب کا انعقاد ٹیلی نار پاکستان ہیڈ کوارٹرز 345 میں ہوا جس میں ملکی افرادی قوت میں خواتین کی شرکت کی اہمیت پر تبادلہ خیال ہوا۔ اس سیشن میں ڈاکٹر ثانیہ نشتر، کشمالہ طارق، ٹیلی کام شعبہ اور مائیکرو فنانس بینک کے نمائندوں اور پالیسی سازوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے د ر پیش مشکلات کے بارے میں بصیرت و آئیڈیاز اور ملک میں خواتین کی افرادی قوت میں شرکت کی شرح کو بہتر بنانے کے لئے اپنے خیالات کا تبادلہ کیا۔ GLWE کا عزم 2025ء تک افرادی قوت میں خواتین کی شرکت کو 45 فیصد تک بڑھانا ہے جو اس وقت 26 فیصد ہے۔ خواتین کی معاشی ترقی میں رکاوٹ بننے والے کچھ عوامل میں محدود نقل و حرکت، کام کرنے والی خواتین کے بارے میں سماجی رویئے اور گھریلو ذمہ داریوں کی بہتات شامل ہیں۔ خواتین کو کام کے لئے گھروں سے باہر جانے کے حوالے سے زیادہ بااختیار اور فعال بنانے کے لئے مختلف اداروں کے رہنماؤں نے خواتین کی مالی شمولیت کو بہتر بنانے، مستقبل میں مہارت مہیاء کرنے اور خواتین کو ہراساں کرنے کے حوالے سے اطلاع کو فعال بنانے کے لئے ایک پلیٹ فارم تیار کرنے میں مدد اور اقدامات کا وعدہ کیا ہے۔

ٹیلی نار پاکستان کے سی ای او اور ہیڈ آف ایمرجنگ ایشیا کلسٹر ٹیلی نار گروپ عرفان وہاب خان نے اس موقع پر کہا کہ ہمیں عالمی بینک کے ”گرلز لرن وومن ارن“ اقدام میں شمولیت پر انتہائی خوشی ہے اور ہم خواتین کو بااختیار بنانے کے مقصد کے ساتھ بڑے پیمانے پر صنعت اور معاشرے کے لئے ایکشن آئٹمز مہیاء کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تیزی سے ابھرتی ہوئی ٹیک انڈسٹری کا حصہ ہونے کے ناطے ہمارا مقصد مستقبل کیلئے مہارت مہیاء کرنے میں مدد کرنا ہے جس میں جاب مارکیٹ تشکیل دینے والے ڈیزائن تھنکنگ اور ٹولز شامل ہیں۔ GLWE اقدام کے ذریعے ہم مل کر مستقبل کیلئے خواتین کو مزید آگے بڑھانے اور ترقی دینے کے منتظر ہیں۔“چیف ڈیجیٹل اینڈ اسٹریٹجی آفیسر ٹیلی نار پاکستان، سردار محمد ابوبکر نے اس اقدام کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ٹیلی نار پاکستان ' تھنکنگ ڈیزائن ت پروگرام، ایکٹویٹ' پر خصوصی توجہ دے کر کمپنی مارچ میں 100کاروبار کے خواہش مندخواتین کو ترقی دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پاکستان کے لئے عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر الانگو پیچا موتھو نے کہا کہ ”گرلز لرن وومن ارن“ اقدام کے لئے ہمارا مقصد ترقی کے ایک اہم پہلو کے طور پر خواتین کو فعال بنانا ہے کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ وہ ایک متحرک معیشت چلا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی 100 ویں سالگرہ کے قریب پہنچ رہا ہے، ہمارا مقصد اس پیغام کو آگے بڑھانا، آگاہی پیدا کرنا اور خواتین کو فعال بنا کر معا شی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے والے ممبران بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانا ہے۔ سماجی تحفظ اور غربت کے خاتمے کیلئے وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے اپنے کلیدی بیان میں کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا احساس کے فریم ورک کا مرکز ہے۔ یہ پروگرام کثیر الشعبہ جاتی نقطہ نظر کے ذریعہ پسماندہ خواتین کی ترقی کے حوالے سے سمت کا تعین کرتا ہے اور انہیں معیشت میں حصہ ڈالنے والے ممبران میں شامل ہونے کے لئے فعال بناتا ہے۔ احساس ڈویلپمنٹ پارٹنرز فورم اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ساتھ احساس سلوشنز کے ملٹی اسٹیک ہولڈرز نے احساس سلوشنز تیار کئے ہیں جو ہم آہنگی کے وسیع مواقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مزید پائیدار تبدیلی لانے کے لئے احساس پروگرام اپنے تمام تر اقدامات میں نصف فیصد خواتین کی شمولیت کے قوانین پر عمل پیرا ہے۔ جن میں سود کے بغیر قرضے، سکالر شپس اور اثاثوں کی منتقلی جیسے اقدامات شامل ہیں۔ وزیراعظم کی طرف سے حال ہی میں شروع کیا گیا کفالت پروگرام پاکستان بھر میں 70 لاکھ پسماندہ خواتین کی مالی و ڈیجیٹل شمولیت کو یقینی بنائے گا جو بینک اکاؤنٹس اور سستے سمارٹ فونز تک رسائی سمیت 2 ہزار روپے ماہانہ وظیفے سے مستفید ہوں ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ عنقریب شروع ہونے والا تحفظ پروگرام بھی خواتین کو ترجیحی طور پر مدد فراہم کرے گا۔ یکم دسمبر 2019ء کو شروع کئے گئے ”گرلز لرن، وومن ارن (GLWE)“ ایک قومی آگاہی، وکالت اور عملی مہم ہے جس کا مقصد لڑکیوں کی تعلیم کی اہمیت اور افرادی قوت میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت کے بارے میں شعور بیدار کرنا ہے۔

مزید : کامرس