لمز یونیورسٹی کے نو بارڈر ایجنڈے میں تعاون کیلئے لرننگ انسٹیٹیوٹ کا آغاز

لمز یونیورسٹی کے نو بارڈر ایجنڈے میں تعاون کیلئے لرننگ انسٹیٹیوٹ کا آغاز

  



 لاہور(پ ر)تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ سے لمزپاکستان کا ایک معروف ادارہ ہے جس نے درس و تدریس دونوں میں سبقت حاصل کی ہے۔ یونیورسٹی کسی سرحد کے بغیر سیکھنے کیلئے پرعزم ہے اور اس عقیدے سے متاثر ہے کہ مالیاتی، جغرافیائی یا معاشرتی رکاوٹوں سے قطع نظر عالمی معیار کی تعلیم سب کے لئے دستیاب ہونی چاہئے۔ قوم کے تعلیمی منظر نامے کی مزید وضاحت اور اس وژن کو آگے بڑھانے کے لئے یونیورسٹی نے لمز لرننگ انسٹیٹیوت (LLI) قائم کیا ہے۔ LLI کا افتتاح لمز سینٹرل کورٹ یارڈ میں منعقدہ ایک تقریب میں ہوا۔ تقریب میں لمز کے وائس چانسلر ڈاکٹر ارشد احمد، لمز کے ریکٹر شاہد حسین، لمز کے Interim Provost کامران اسدر علی، فیکلٹی ڈائریکٹر LLI ڈاکٹر سلیما ن شاہد، OLT سینئر نیشنل ٹیچنگ فیلو، یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا ڈینیز چالمرز، سید احسن علی اور سید مراتب علی اسکول آف ایجوکیشن (SOE) کے ڈین ڈاکٹر طاہر اندرابی، وزٹنگ فیکلٹی SOE ڈاکٹر لاؤنا گاؤتھیر، SOE کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر طیبہ تمیم نے شرکت کی۔ LLI کا مقصد شواہد پر مبنی ڈیزائن کے ذریعہ تدریس اور سیکھنے کے عمل کو بڑھانا اور یونیورسٹی اور اس سے باہر تعلیمی مقامات کو نئی شکل دینا ہے۔ یہ بڑے پیمانے پر تربیت کی فراہمی، براہ راست شراکت داری کے قیام کے لئے اساتذہ کے ساتھ طلباء کو جوڑنے اور جدید تکنیک کو استعمال کرنے اور آف لائن و آن لائن جدید تدریسی ذرائع کو استعمال میں لاتے ہوئے درس و تدریس کا ایک جدید مرکز ثابت ہوگا۔ تقریب کا آغاز ڈاکٹر سلیما ن شاہد کے کلیدی خطاب سے ہوا جنہوں نے مرکز سے متعلق تعارفی کلمات ادا کئے۔ انہوں نے اپنی گفتگو کا آغاز اس تقریب کی انعقاد کی جگہ کی طرف ناظرین کی توجہ دلاتے ہوئے کیا اور واضح کیا کہ کس طرح لمز کا مرکزی کورٹ یارڈ یونیورسٹی کی نو بارڈر اپروچ کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ علاقہ اس طرح تعمیر کیا گیا ہے کہ اسے لمز میں اسکولوں کے داخلی دروازے کی حیثیت حاصل ہے اور یونیورسٹی کے کام سے متعلق اس کی صحیح نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورٹ یارڈ کا وسط اور درحقیقت لمز ہیومنٹیز اور سوشل سائنسز اور دیگر شعبوں کو اس سے منسلک کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ جگہیں راستے بناتی ہیں، اور ہمارے ساتھ اور دوسروں کے ساتھ ان کا باہمی ربط ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی تصور LLI کے محل وقوع اور طبی ترتیب اور یونیورسٹی کے محل وقوع کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے مرکزی نقطہ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ کس طرح مقامی اور بین الاقوامی سطح پر بہتر تعلیم، سیکھنے، تحقیق اور اسکالرشپ کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے ملک کے تعلیمی فرق کو دیکھتے ہوئے پاکستان کے لئے اس اقدام کی اہمیت کی وضاحت کی۔ ڈاکٹر شاہد نے معیاری تدریس کے کردار پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ اس کا اثر کیسے پڑتا ہے۔ LLI کے ذریعہ پیش کردہ کورسز فیکلٹی ممبران کے لئے بے حد مددگار ثابت ہوں گے کیونکہ وہ فعال لرننگ کے ذریعے چیلنجنگ مواد پہنچانے اور گہری تفہیم کو فروغ دینے میں کامیاب ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طلباء پارٹنرز ہوں گے جو کورسز ڈیزائن کریں گے اور تجرباتی تعلیم سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ ڈاکٹر شاہد نے ڈیجیٹل لرننگ اور LUMSx پلیٹ فارم اور جاری منصوبوں کی تعداد کے بارے میں بھی بات کی۔ LLI کی ٹیم فی الحال ڈاکٹر باربرا اوکلے کے ”Learning How to Learn“ پروگرام کا اردو میں ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ قومی زبانوں کو فروغ دینے کے لئے لمز میں مشتاق احمد گورمانی اسکول آف ہیومنیٹیز اینڈ سوشل سائنسز کے ساتھ تعاون پر کام کر رہی ہے۔ یہ ٹیم اپنی تکنیکی مہارت کے لئے لاہور میں مقیم ایک معروف سافٹ ویئر ہاؤس، Arbisoft کے ساتھ اشتراک کر رہی ہے۔ پلیٹ فارم کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہد نے کہا کہ یہ گیم چینجر اور 21 ویں صدی میں لمز کیلئے ایک اہم راستہ ہوگا۔ اس طرح یونیورسٹی اسکولوں اور لمز سے آگے سرحدوں کو عبور کرتی رہے گی۔ ڈاکٹر احمد نے بھی سامعین سے خطاب کیا اور سینٹر کے آغاز پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے LLI کے فوائد کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے سے تدریسی کاموں میں ہونے والے پوشیدہ کام میں اضافہ ہوگا۔ اس میں تدریسی اور نصاب کے تجربات پر توجہ دی جائے گی اور جدت طرازی کا ایک ایسا مرکز ہوگا جہاں شواہد پر مبنی طریقوں کی تحقیق اور تشہیر کی جائے گی۔ بعد ازاں پروفیسر چالمرز نے اپنے خطاب میں اس طرح کے مراکز کی اہمیت کے بارے میں تبادلہ خیال کیا اور بتایا کہ LUMS کے لئے کس طرح یہ ایک عمدہ اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال LLI ایک آئیڈیا تھا۔ اس سال یہ ایک حقیقت ہے۔ مرکز فیکلٹی کے لئے ترقی کی راہ ہموار کرے گا لہذا وہ مہارت کے ساتھ تدریس کے زیادہ موثر طریقوں کو اپناسکتے ہیں۔ کمیونٹی کے احساس کے ساتھ فیکلٹی، پیشہ ور عملہ اور LUMS سے باہر کے بیرونی افراد کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ آسان نہیں ہو گا لیکن ان عناصر کو مستحکم کرنے سے آپ بین الاقوامی سطح پر مراکز کے اس مقصد کو حاصل کر سکیں گے۔ تقریب میں روشنی ڈالی گئی کہ جغرافیہ یا مالی حالات کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے بغیر یہ مرکز کس طرح افراد کے لئے سیکھنے اور ترقی میں سہولت فراہم کرے گا۔ LLI کے اسکالرز کو زندگی بھر کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے بااختیار بنایا جائے گا اور وہ اپنی کمیونٹیز میں اصلاحات کی رہنمائی کر سکیں گے۔ شام موسیقی کی پرفارمنس کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی، اس کے بعد LLI کی سہولیات کا دورہ کیا گیا جس کے بعد مہمانوں نے رات کے کھانے میں شرکت کی۔

مزید : کامرس