معاشی ترقی کیلئے انجینئرنگ صنعت کو کلیدی حیثیت حاصل ہے: رضا عباس شاہ

معاشی ترقی کیلئے انجینئرنگ صنعت کو کلیدی حیثیت حاصل ہے: رضا عباس شاہ

  



فیصل آباد (بیورورپورٹ)انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کیلئے تجاویز تیار کر لی ہیں تاہم ان میں فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے حوالے سے مزید تجاویز کو بھی شامل کیا جائے گا۔ یہ بات انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر رضا عباس شاہ نے آج فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ انجینئرنگ کے شعبہ سے وابستہ لوگ بروقت تجاویز نہیں دیتے،31جنوری کی حتمی تاریخ تک صرف 15سے 20تجاویز آئی تھیں جبکہ پچھلے سال اس تاریخ کے بعد مجموعی طور پر 2ہزار تجاویز پیش کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ تاخیر سے ملنے والی تجاویز کو بوجہ بجٹ میں شامل نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے تجاویز دینے والے اپنی جگہ پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ای میل اور واٹس ایپ کا زمانہ ہے۔ آپ لوگ آج ہی اپنی تجاویز دیں تاکہ ان کو آئندہ سال کے بجٹ میں شامل کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ انجینئرنگ بورڈ ملنے والی تمام تجاویز کا بغور جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات کے ساتھ ان کو متعلقہ اداروں کو بھیجتا ہے انہوں نے بتایا کہ اگرچہ بجلی اور گیس کی قیمتوں کا معاملہ اُن کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا لیکن اس کے باوجود وہ اس مسئلے پر بھی حکومت کو سفارشات دیں گے۔ انہوں نے زرعی آلات بنانے والوں پر سیل ٹیکس کے نفاذ کے حوالے سے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ اس حوالے سے بھی تجاویز دی جائیں تاکہ اُن پر واضح اور دو ٹوک مؤقف اپنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی ایسی پالیسی کی سپورٹ نہیں کریں گے جس سے اندرون ملک انجینئرنگ مصنوعات کی تیاری کی حوصلہ شکنی ہو۔ اس سے قبل خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر رانا محمدسکندر اعظم خاں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی کیلئے انجینئرنگ کی صنعت کو کلیدی حیثیت حاصل ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان آج بھی ہر قسم کی مشینری درآمد کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چند ایسے سٹیٹ آف دی آرٹ ادارے بھی ہیں جو انتہائی اہم اور پیچیدہ نوعیت کے پرزے تیار کرنے کے علاوہ یہ عالمی برانڈز کو برآمد بھی کر رہے ہیں مگر اُن کی تعداد انتہائی قلیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا چوتھے صنعتی انقلاب کی طرف بڑھ رہی ہے جبکہ اس کے برعکس فیصل آباد میں آج بھی 2000ء کی بنی ہوئی پاورلومز استعمال ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان لومز سے نہ تو معیاری کپڑا تیار ہو سکتا ہے اور نہ ہی اُن کی پیداواری لاگت کو کم کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان انجینئرنگ بورڈ کو ملک میں صنعتی شعبہ کی ترقی کیلئے قابل عمل منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔

تاکہ آنے والے ادوار میں پاکستان کو صنعتی طور پر مضبوط ملک بنایا جا سکے۔ اس موقع پر انجینئرنگ بورڈ کے ناصر بیگ کے علاوہ خرم طارق، انجینئر احمد حسن، اشفاق اشرف، انعام افضل خاں اور ڈاکٹر سجاد ارشد نے بھی سوال و جواب کی نشست میں حصہ لیا۔ جبکہ آخر میں نائب صدر بلال وحید شیخ نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

مزید : کامرس