انقلابِ اسلامی ایران اپنے اوج کمال پر

انقلابِ اسلامی ایران اپنے اوج کمال پر

  



آج اگر ایرانی قوم سپرپاور سے نبردآزما ہے تو فقط اور فقط ایمانی طاقت کی وجہ سے اور یہ ایمانی طاقت اس قوم کو اسلامی انقلاب نے عطا کی ہے۔ حقیقی انقلاب اگر کسی سرزمین میں رونما ہوا ہے تو وہ ایران کی سرزمین ہے۔ اس کے بانی امام خمینی (رہ) ہیں اور یہ انقلاب اسلامی عالم اسلام کے لئے درسگاہ اور قابل تقلید ہے، خصوصاً سامراجی طاقتوں کے اشارے پر چلنے والے ممالک کے لئے، اسی وجہ سے اقبال نے کہا ہوگا

تہران ہوگر عالم مشرق کا جنیوا

شاید کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے

دنیا میں بہت ساری تبدیلیاں رونما ہوتی رہیں، ان ظاہری تبدیلیوں کو لوگ انقلاب سے تعبیر کرتے رہے اور یہ تبدیلی بہت سارے ملکوں میں آتی رہی۔ چہرے کا بدل جانا نہ تبدیلی ہے اور نہ ہی انقلاب۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر انقلاب کسے کہا جاتا ہے۔؟ اس سوال کا تفصیلی جواب درکار ہے اور وہ یہ ہے کہ: جب ہم قرآن حکیم کی طرف رجوع کرتے ہیں تو قرآن میں بھی جابجا انقلاب کا ذکر ہوا ہے مختلف الفاظ کے ساتھ، اسی طرح فقھی اعتبار سے انقلاب کو مطھرات میں شمار کیا گیا ہے۔انقلاب کے لفظ کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کسی انسان نے بدلنا ہے تو وہ مکمل بدل جائے، اس طرح کہ اگر کوئی پہلے عیش و عشرت اور معصیت کی زندگی بسر کر رہا ہو تو وہ مکمل بدل کر الہیٰ اور تقویٰ کی زندگی گزارے۔ جس طرح تاریخ میں بہت سارے گزرے ہیں، مثلاً کربلا میں حضرت حر(رضی) بدل گئے، امام جعفر(ع) کے دور میں فضل بن عیاض بدل گئے اور امام موسیٰ بن جعفر کے دور میں بشر حافی بدلے۔ اس طرح کی تبدیلی کو انقلاب کہا جاتا ہے کہ انسان صحیح طرح بدل جائے، اس طرح بدل جائے کہ آلودگی کو ترک کرکے پاکیزگی اختیار کرلے، عیش و آرام ترک کرکے زہد اختیار کرے اور گناہوں کو ترک کرکے تقویٰ اختیار کرلے۔ بالکل اسی طرح جب نظام میں حقیقی تبدیلی آجائے تو اسے بھی انقلاب کہا جائے گا۔ نظام دو طرح کا ہوسکتا ہے کہ ایک مادہ پرست نظام ہے، جس میں انسان کے مادی تقاضوں کو پورا کیا جاتا ہے، مگر روحانی تقاضوں کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی، جبکہ دوسرا نظام وہ ہے، جس میں جسمانی تقاضوں کے ساتھ ساتھ روحانی تقاضوں کو بھی پورا کیا جاتا ہے۔جہاں انسان جسم کا مالک ہے، وہاں انسان روح کا حامل بھی ہے۔ لہذا جسم کے تقاضوں کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ روح کے تقاضوں کو بھی پورا کرنا ضروری ہے۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ ایسا انقلاب کہاں آیا ہے اور کس ملک کے انقلاب کو انقلاب کہا جائے گا۔ آیا فرانس، چین اور دیگر ممالک میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو انقلاب کہا جا سکتا ہے۔؟ نہیں، کیونکہ ان تمام تبدیلیوں میں قدر مشترک یہ ہے کہ جو نظام انقلاب سے پہلے حاکم تھا، وہی انقلاب کے بعد بھی حاکم رہا، مگر درمیان میں کچھ چہرے بدل گئے، لہٰذا یہ انقلاب نہیں۔

مگر ایران کی سرزمین پر امام خمینی کی قیادت میں جو تبدیلی آئی، اس کو واقعی انقلاب کہا جاتا ہے، کیونکہ انقلاب سے قبل ایک مادہ پرست نظام حاکم تھا۔ انقلاب کے بعد نظام مکمل بدل گیا اور ایک معنویت اور روحانیت پر مبنی نظام حاکم ہوا۔جس کی کچھ مثالیں پیش خدمت ہیں کہ انقلاب سے پہلے زمام اقتدار سیکولر اور بے دین لوگوں کے ہاتھوں میں تھا، جو اپنی مرضی کے مطابق اور عالمی سامراج کے اشارے پر ملک کے قانون کو وضع کرتے تھے، مگر انقلاب آیا اور زمام اقتدار فقھاء اور ان علماء کے ہاتھوں میں آیا جو (امناء اللہ علی حلالہ وحرامہ) کے مصداق تھے۔ جس طرح اوائل انقلاب میں جب بانی انقلاب روح اللہ خمینی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ سے پوچھا گیا کہ لاکھوں جوان شھید ہوئے، ہزاروں خواتین بیوہ ہوئیں۔ عراق میں بھی مسلمان قتل ہوئے اور ایران میں بھی مسلمان قتل ہوئے اور آٹھ سال جنگ رہی، اس کے مقابلے میں آپ نے کیا حاصل کیا تو امام راحل نے ایک جملہ ارشاد فرمایا کہ انقلاب سے پہلے ہماری تقدیر کا فیصلہ امریکہ میں ہوتا تھا، مگر آج ان قربانیوں کی وجہ سے ہماری تقدیر کا فیصلہ تہران میں ہوتا ہے۔دوسری مثال یہ ہے کہ انقلاب سے قبل ایران جرائم اور برائیوں کا مرکز تھا اور لوگ اپنے جسمانی تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے ایران کا رخ کرتے تھے، مگر اس ملک میں انقلاب آیا اور آج لوگ روحانی کیف و سرور حاصل کرنے کے لئے ایران کا رخ کرتے ہیں۔ آج روحانی اور معنوی غذا کا حصول جو ایران میں ممکن ہے، کسی دوسرے ملک میں نہیں ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد اسلام کا چہرہ جس طرح مسخ کرکے پیش کیا گیا، مسلمانوں کو جس طرح محکوم و مغلوب کر دیا گیا اور مسلمانوں کو جس ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا، اس کی ایک لمبی داستان ہے۔ اس کے بعد مسلمان دوبارہ سر اٹھا کر جینے کے قابل نہ رہے۔ آج بھی اکثر مسلم ممالک امریکہ کے غلام دکھائی دیتے اور ڈالر کو ہی اپنا نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔ مگر اس اسلامی انقلاب نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں امید کی کرن پیدا کی، جس کی وجہ سے ہر مسلمان بظاہر (سپر پاور) سے نفرت کرتا ہے اور اس سے ٹکرانے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ جس طرح مدافع حرم جنرل قاسم سلیمانی اور ابو مھدی المھندس کی شہادت کے بعد انتقام سخت کا آغاز ہوا اور دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی مرتبہ امریکن ائیربیس عین الاسد پر براہ راست حملہ کرکے، حملے سے پہلے پورے ریڈار سسٹم کو جام کرکے، مناسب ترین ٹائم کا انتخاب کرکے اور انتقام کے اعلان کے ساتھ حملہ کرکے واضح کر دیا کہ خون کی تلوار پر فتح آج بھی یقینی ہے اور کم من فء? قلیل? غلبت فء کثیر? کی سنت الہیٰ آج بھی تکرار ہوسکتی ہے، اگر انسان صحیح معنوں میں مؤمن ہو جائے تو۔مجھے لگتا ہے کہ من حیث القوم یہی مومن قوم ہے، جس نے سپرپاور سے انتقام اس طرح لیا کہ اس کے منہ پر ایسا طمانچہ مارا کہ اس طمانچہ سے اس کا ہوش ٹھکانے آیا۔ اب خود دوبارہ مذکرات کی پیشکش کرتا ہے، اس انتقام کے بعد بھی ذرہ برابر خوف کا احساس کئے بغیر مزید کارروائی کرنے کے لئے بالکل تیار ہے اور آج ہر محفل میں، ہر نماز کے بعد، ہر دعا کے بعد اور ہر زیارت کے بعد طاغوت سے مکمل نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے۔امام رضا(ع) کے حرم مطھر میں یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم خدا پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ مکتب، مکتب حسین? ہے، جس سے جنرل قاسم سلیمانی اور ابو مھدی المھندس جیسے عشاق شہادت پیدا ہوتے ہیں اور ہم طاغوت کو سرعام انتقام کا نشانہ بناتے رہیں گے۔ آج اگر ایرانی قوم سپرپاور سے نبردآزما ہے تو فقط اور فقط ایمانی طاقت کی وجہ سے نبردآزما ہے اور یہ ایمانی طاقت اس قوم کو اسلامی انقلاب نے عطا کی ہے اور حقیقی انقلاب اگر کسی سرزمین میں رونما ہوا ہے تو وہ ایران کی سرزمین ہے۔

٭٭٭

مزید : ایڈیشن 1