قتل کی وارداتوں میں خوفناک اضافہ

قتل کی وارداتوں میں خوفناک اضافہ

  



لاہورپولیس ریکارڈ کے مطابق پاکستان میں بیوی کے ہاتھوں شوہر قتل ہونے کی وارداتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ایسی واردات میں ابتدائی تفتیش کے دوران بہت سے مختلف پہلو سامنے آتے ہیں۔حکام کے مطابق قتل کی وجوہات میں شوہر کا ظالم ہونا، عورت کی پسند کے خلاف شادی، غربت اور مرد کی دوسری عورت میں دلچسپی شامل ہیں۔سال2018ء میں گھریلو ناچاقی، بے راہ روی اور ازدواجی زندگی میں غلط فہمیوں کے سبب8 جبکہ 2019ء میں 10شوہر اپنی بیویوں کے ہاتھوں براہِ راست یا ان کی ایما پر قتل ہو چکے ہیں۔ ایک کیس میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ملازم عامر کو اس کی بیوی نورین نے مبینہ آشنا نعمان سے مل کر قتل کیا۔لاہور کے علاقے رائے ونڈ میں سکریپ ڈیلر(کباڑیہ) سمیع اللہ کے قتل میں بیوی ملوث تھی،جس نے شوہر کو بھائیوں کے ہاتھوں قتل کرایا۔ہربنس پورہ میں انعم نے شوہر فرحان کو چھت سے دھکا دے کر خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی۔لاہور ہی کے علاقے مناواں میں عامر نامی شخص کو اس کی بیوی نے تشدد کے بعد پھندا ڈال کر قتل کردیا۔واضح رہے کہ رواں برس بھی ایسا ہی ایک واقعہ گجر پورہ کے علاقے میں پیش آیا جہاں کرول جنگل سے ایک 35سالہ شخص کی پھندہ لگی لاش ملی۔ یہ ایک اندھا قتل تھا، جس میں نہ تو مقتول کا نام وغیرہ معلوم تھااور نہ ہی ملزمان کے بارے میں کچھ علم تھا۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ڈاکٹر انعام وحید خان نے انویسٹی گیشن پولیس گجر پورہ کو اس واردات میں ملوث ملزمان کو ٹریس کر کے ان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا۔انچارج انویسٹی گیشن گجر پورہ آصف علی نے تفتیش کا آغاز کیا۔ CROریکارڈ، فنگر پرنٹس اور نادرا ویری فیکیشن کے ذریعے مقتول کی شناخت عمل میں لائی گئی،جو بابر حسین کے نام سے ہوئی۔ مقتول بہاولپور کا رہائشی تھا، نعش ورثا کے حوالے کی گئی۔مقتول کے موبائل فون ریکارڈکا تجزیہ کرنے کے بعد مقتول کی بیوی مہوش عرف ثریا کو شامل تفتیش کیا گیا۔ دوران تفتیش مقتول کی بیوی مہوش پولیس ٹیم کے سوالات کا حقائق کے مطابق تسلی بخش جواب نہ دے سکی اور اعتراف جرم کر تے ہوئے بتلایا کہ اس کی اپنے خاوند بابر کے ساتھ واپس بہاولپور جاکر رہنے پر اکثر لڑائی جھگڑا رہتا تھا، جبکہ وہ واپس بہاولپور نہیں جانا چاہتی تھی،اس لئے اس نے اپنے شوہر بابر کو قتل کرنے کا گھناؤنا منصوبہ بنایا اور اپنے آشنا ندیم کے ساتھ اس شرط پر نکاح کرنے کی حامی بھری کہ وہ اپنے پہلے شوہر بابر کو قتل کرنے میں اس کی مدد کرے، جس پر مہوش اور ندیم نے اپنے منصوبے کو پایہئ تکمیل تک پہنچانے کے لئے فیصل اور دلاور کو اپنے ساتھ ملا لیا اور منصوبہ بندی کے مطابق اپنے شوہر بابر کو لاہور بلایا اور گجر پورہ کے علاقے میں ایک بند دکان میں اسے شراب پلائی اورنشہ طاری ہونے پر کرول جنگل میں لے جا کر اپنے ساتھیوں کی مدد سے اپنے گھناؤنے منصوبے کے تحت اپنے شوہرکے گلے میں رسی سے پھندا لگا کر موت کے گھاٹ اُتار دیا اور رات کے اندھیرے میں موقع سے فرار ہو گئے۔ مہوش نے اپنے شوہر کو قتل کرنے کے کچھ ہی دِنوں بعد اپنے آشنا ندیم سے وعدہ کے مطابق نکاح کر لیا۔انویسٹی گیشن پولیس ٹیم نے مختلف ریڈز کے بعدسنگین واردات کے تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

عدل کے ایوانوں کو چاہیے کہ ایسے جرائم میں ملوث ملزمان کو ایسی سزائیں دی جائیں اور انھیں باقی لوگوں کے لیے نشان عبرت بنا دیا جائے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ نسوانیت کے بغیر انسانیت کی تکمیل ممکن ہی نہیں۔ یہ نظامِ قدرت ہے کہ مرد عورت کے بغیراو رعورت مرد کے بغیر نامکمل ہے، گویا مرد اور عورت ایک گاڑی کے دوپہیے ہیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ آج کی عورت اپنے مقام کا خیال نہیں رکھتی کہ رب کریم نے اس کے قدموں میں جنت رکھ دی ہے۔مغرب کی دلدادہ عورت آج اپنے عیش وعشرت کی خاطرشوہرکو قتل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتی۔صوبائی دارالحکومت میں خواتین کے ہاتھوں شوہر کے قتل کے واقعات میں اضافے کے ساتھ شہر میں اندھے،کمسن بچوں کے اغواء، تاوان اورقتل کے واقعات بھی معمول بن گئے ہیں جو کہ پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔گزشتہ سال کے دوران 82افراد کو نامعلوم افراد نے قتل کیا، اندھے قتل کی سب سے زیادہ وارداتیں سٹی ڈویڑن میں ہوئیں جہاں 22افراد کو قتل کیا گیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق نامعلوم افراد کی جانب سے شہریوں کو قتل کرنے کے واقعات بڑھناپولیس کی نااہلی ہے۔ایک طرف اغوا برائے تاوان کی وارداتوں، منظم جرائم پیشہ گروہوں کی سرگرمیوں نے عوام کا جینا دوبھر کر دیاہے اور وہ جان و مال کے شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں تو دوسری طرف اندھے قتل کی وارداتوں نے عوام کے خوف و ہراس میں اضافے کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناقص کارکردگی پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔ نا صرف چند بڑے بڑے شہروں بلکہ ملک کے دوسرے کئی علاقوں میں بھی لاوارث لاشوں کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔اکثر واقعات میں ملوث مجرموں کا سراغ نہیں ملتا یہاں تک کہ بعض لاشوں کے ورثا کا پتہ چلانا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ لاہور سے ملنے والی نامعلوم لاشیں کئی روز تک ورثا کی تلاش میں پڑی رہتی ہیں آخرکار انہیں لاوارث قرار دے کر دفن کر دیا جاتا ہے۔ یہ واقعات بڑی منظم دہشت گردی اور مجرمانہ سرگرمیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے لئے علاقے کی پولیس کو ذمہ دار قراردے کر اسے ان اندھے قتل کی وارداتوں کے اسباب اور ورثا کا پتہ چلانے کا پابند بنائے،کیونکہ یہ صورت حال قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناقص کارکردگی کامنہ بولتا ثوبت ہے۔چند روز قبل کماہاں رنگ روڈکے نزدیک گڑھے میں سے ایک 13سالہ بچے کی تشددزدہ لاش ملی،جو کہ ابتدا ء میں نامعلوم اور اسے تاوان کے لئے اغوا ء کیا گیا تھا لاش کی شناخت کا عمل شروع کیا تو پتہ چلاکہ مقتول بچے کا نام عدیل ہے، جس کو دو روزقبل کوٹ لکھپت کے علاقے سے اغواء کیاگیاتھا۔اغواء کے بعد قتل کی اس ہولناک واردات کو ٹریس کرتے ہوئے پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مشتبہ افرادکو شامل تفتیش کیا، معصوم بچے عدیل کے قتل کی دل دہلا دینے والی واردات میں ملوث 2 ملزمان بشارت علی اوراس کے دوست عباس کو گرفتار کیا۔ملزمان نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ بشارت کواپنی شادی کے لئے اڑھائی لاکھ روپے کی ضرورت تھی اوراسی طرح عباس کو بھی موبائل شاپ کھولنے کے لئے تقریباً اڑھائی لاکھ روپے ہی چاہیے تھے لہذا بشارت کے سگے ماموں کے بیٹے عدیل کو5 لاکھ روپے تاوان کے لئے اغوا کرنے کا منصوبہ بنایااور پلان کے مطابق مقتول عدیل کو مدرسے سے واپسی پرکوٹ لکھپ سے اغوا کیا اوررنگ روڈ کے نزدیک کماہاں کے علاقہ میں لے گئے۔مغوی کو تاوان کی رقم ملنے تک قید میں رکھنے کی جگہ نہ ہونے اور پکڑے جانے کے ڈرسے ہم نے عدیل کواغوا کے تین گھنٹے بعد گلا دبا کر قتل کردیا اور لاش کوگڑھے میں پھینک کر خاموشی سے فرار ہوگئے۔

مزید : ایڈیشن 2