میرج ہالز مافیا کو کون لگام دے گا؟

میرج ہالز مافیا کو کون لگام دے گا؟

  



مرزا نعیم الرحمان

دور حاضر میں پیسے کی ضرورت اور طاقت سے کسی صور ت انکار ممکن نہیں ضروریات زندگی‘ عیش وعشرت‘ آسائشیں پانے کیلئے پیسے کی ڈور میں ہر شخص شامل ہے مگر ایسے ناعاقبت اندیشوں کی بھی ہمارے معاشرے میں کوئی کمی نہیں جو پیسے کے حصول کیلئے نہ صرف اپنے اخلاق‘ کردار اور ایمان کا سودا کر دیتے ہیں بلکہ پیسہ کمانے کی ہوس میں اس قدر اندھے ہو جاتے ہیں کہ انسانی جانوں سے کھیلنے سے بھی دریغ نہیں کرتے کچھ ایسی ہی صو رتحال اکثریتی میرج ہالز مالکان کی ہے گجرات شہر اور گردونواح میں میرج ہالز مالکان کی اکثریت ہوس زر میں مبتلا ہو کر انسانیت کو شرمندہ کرنے میں مشغول ہے باسی‘ لاغر اور بیمار جانوروں سمیت مردہ مرغیوں کے گوشت کا استعمال اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں آئے روز انتظامی افسران کی طرف سے مختلف میرج ہالز پر چھاپے‘ باسی اور غیر معیاری کھانے کی فراہمی پر بھاری جرمانے اور مقدمات کا اندراج ذرائع ابلاغ کی زینت بنتا ہے بارات ہو یا دعوت ولیمہ‘ رسم حقیقہ ہو یا محفل میلاد کسی بھی موقع پر سو فیصد معیاری کھانے کی فراہمی دیوانے کا خواب معلوم ہوتا ہے میرج ہالز مالکان کی بڑی تعداد اپنے صارفین کو باسی‘ اور مردہ جانوروں کا گوشت کھلانے میں مشغول ہے مختلف پولٹری فارمز مالکان کے ساتھ میرج ہالز مالکان کی اکثریت کا معاہدہ طے ہے جس کے مطابق پولٹری فارمز میں کسی بیماری‘ یا موسمی شدت کے باعث ہلاک ہونیوالی مرغی کو انتہائی معمولی قیمت پر فروخت کیا جاتا ہے جسے خوب مرچ مصالحہ لگا کر چٹ پٹے کھانے تیار کیے جاتے ہیں کھانوں میں مصالحہ جات کا استعمال اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ مرغی کے اصل ذائقے کو تلاش کرنا مشکل ہوجاتا ہے جعلی سافٹ ڈرنکس کا بھی بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے ایسے واقعات کا شمار کرنا مشکل ہے جن میں باسی اور غیر معیاری کھانا کھانے کے بعد باراتیوں کی حالت بگڑ گئی اور انہیں باقاعدہ ہسپتال منتقل کرنا پڑا قصہ یہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ میرج ہالز میں شہریوں کو لوٹنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ انہیں ہالز میں لگی ہوئی کرسیوں کی تعداد میں الجھا کر بھاری بھر کم پیسے وصول کیے جاتے ہیں اکثر و بیشتر کھانے کی وسیع مقدار بچ جاتی ہے جسے نظر سے بچا کر غائب کر دیا جاتا ہے اور باورکرایا جاتا ہے کہ آپ کے مہمانوں کی تعداد بڑھنے کے باعث آپکا کھانا کم پڑ گیا ہے فی کس کے حساب سے بھاری بھر کم پیسے وصول کرنے کے باوجود مقدار میں ڈنڈی ماری جاتی ہے جس میں میرج ہالز مالکان‘ منیجرز‘ اور ویٹرز سمیت دیگر عملہ بھی شامل ہوتا ہے کسی شعبدہ باز کی طرح دیکھتے ہی دیکھتے آنکھوں کے سامنے کھانا غائب کر دیا جاتا ہے اور کسی کو کانوں کان خبر تک نہیں ہوتا بچے کو کھانے کو کسی بڑے بڑے فریزروں میں رکھا جاتا ہے جسے حسب ضر ورت کسی دوسری تقریب کیلئے تیار ہونیوالے کھانے میں مکس کر کے پیش کردیا جاتا ہے اور پھر اسکے ساتھ بھی ایسا ہی ہاتھ ہوتا ہے پھر کوئی تیسرا شکار بنتا ہے یوں یہ سلسلہ کئی سالوں سے چلتا آ رہا ہے شہریوں میں اس امر کی شکایت بھی عام ہے کہ میرج ہالز میں استعمال شدہ پلیٹوں میں بچ جانیوالا کھانا‘ جس میں چکن‘ روسٹ‘ گوشت‘ چاول‘ سویٹ ڈس وغیرہ کو ایک جگہ اکٹھا کیا جاتا ہے جسے بعد ازاں چھوٹے موٹے ہوٹلز پر سستے داموں فروخت کیا جاتا ہے جسے ہوٹل مالکان ازسر نو گرم کر کے اسکا حلیہ تبدیل کرتے ہیں اور پھر اپنے گاہکوں کو یہی کھانا کھلاتے ہیں اس مکروہ فعل کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے میرج ہالز مالکان کے کھانے کا معیار جانچنے کیلئے ویسے تو فوڈ اتھارٹی کو ذ مہ داریاں سونپی گئی ہیں ضلعی انتظامیہ بھی کسی حد تک اس معاملے پر نظر رکھتی ہے مگر میرج ہالز مافیا انتظامیہ اور فوڈ اتھارٹی کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اس مکروہ دھندے کو جاری رکھے ہوئے ہے ککھ سے لکھ پتی اور لکھ پتی سے کروڑ پتی بننے والے میرج ہالز مالکان کی اکثریت جہاں ون ڈش‘ اور پارکنگ کیلئے گورنمنٹ کی اراضی پر قبضہ جما کر قانون کی دھجیاں بکھیر رہی ہے وہیں باسی‘ غیر معیاری اور مردہ جانوروں کے گوشت کا استعمال موذی امراض کو جنم دے رہا ہے فی کس کے حساب سے بل‘ ٹیکس کی مد میں وصولی‘بجلی کی بندش پر جنریٹر کا بل اور دیگر لوازمات کی آڑ میں اچھی خاصی رقم بٹورنے کے باوجود تقریبات کے اختتام پر ویٹرز کی فوج دولہے اور اسکے گھر والوں کا ایسے محاسبہ کرتی ہے جیسے انہوں نے ان سے قرض لیا ہو اور آج وہ زبردستی اپنے پیسے وصول کرنے کیلئے اکٹھے ہو گئے ہوں میرج ہالز کے منیجرز بھی اس عمل میں پیش پیش نظر آتے اور دولہا والوں کو اس امر کی ترغیب دیتے ہیں کہ خوشی کا موقع ہے تمام ویٹرز کو کچھ نہ کچھ نذرانہ دیکر اپنی خوشیوں کو دوبالا کریں ٹیکس چوری میں بھی میرج ہالز مالکان کی اکثریت پیش پیش ہے سادہ پرچی پر بنائے گئے بل میں صارفین سے ٹیکس تو وصول کیا جاتا ہے مگر بل کی اصل رسید جاری نہ کرنے کے باعث یہ پیسہ حکومتی خزانے میں جمع ہونے کی بجائے بلیک منی بن جاتا ہے جس سے سراسر حکومتی خزانے کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

۔۔۔۔۔

مزید : ایڈیشن 2