ٹھوس اقدامات، شیخوپورہ میں کرائم گراف گرنے لگا

ٹھوس اقدامات، شیخوپورہ میں کرائم گراف گرنے لگا

  



کرائم سٹوری شیخوپورہ

(محمد ارشد شیخ بیوروچیف)

ضلع شیخوپورہ کی تاریخ گواہ ہے کہ شروع سے ہی یہاں پر جرائم کی شرح دیگر اضلاع سے کافی حد تک زیادہ رہی ہے جس کی وجہ یہاں کے عوام خوف و ہراس کی زندگی گزارنے پر مجبور رہے ہیں اب ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شیخوپورہ غازی محمد صلاح الدین کی تعیناتی کے بعد سے محکمہ پولیس کے انتظامی امور میں رونما ہونیوالی موثر انتظامی تبدیلیوں کیساتھ ساتھ پولیس کارکردگی میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے مثبت اثرات نے شہریوں میں بھی نئی امید اور خوشی کی لہر دوڑا دی ہے اور جہاں ایک طرف پولیس شہریوں کی شکایات کے ازالہ اور جرائم کی سرکوبی کیلئے پہلے سے بڑھ کر خاصی سرگرم نظر آرہی ہے وہاں تھانوں کے امور کو فعال بنانے کیلئے بھی مزید موثر نوعیت کے اقدامات اٹھائے گئے ہیں جن میں متاثرہ شہریوں کی فوری داد رسی کیلئے پولیس کاروائیاں سرفہرست ہیں۔ انہی اقدامات کے تناظر میں ڈی پی ا و غازی محمد صلاح الدین کی طرف سے تھانہ جات کی پولیس کو جاری کی جانیوالی ہدایات کے تحت تھانہ بھکھی پولیس کی طرف سے نہایت موثر کارکردگی کامظاہرہ دیکھنے میں آیا ہے بھکھی پولیس نے نہ صرف ایک اندھے قتل کی واردات کا سراغ لگایا ہے بلکہ دیگر جرائم کی وارداتوں کی روک تھام کی بھی نئی مثال رقم کی ہے، اندھے قتل کی واردات کا جائزہ لیا جائے تو بھکھی پولیس کو گزشتہ ماہ محمد خالد ولد محمد یٰسین سکنہ چوڑا دیوان ضلع ننکانہ صاحب کی طرف سے ایک درخواست دی گئی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ اس کا چھوٹا بھائی محمد سیف ولد محمد یٰسین عمر تقریباً21سال چار چک رسالہ کے ایک آڑھتی کی آڑھت پر کام کرتا تھا جو اور بذریعہ موٹر سائیکل روزانہ کام سے فارغ ہو کر گھر لوٹ آیا کرتا تھامگر گزشتہ روز وہ گھر نہیں پہنچا اور اس کا موبائل فون رات 12بجے تک چلتا رہا تاہم اسے بات نہ ہوسکی اور ہم مسلسل اس کی تلاش کرتے رہے جس میں ناکامی کے بعد پولیس کو اسکی تلاش یقینی بنانے کی استدعا کی خدشہ ہے کہ اسے نامعلوم ملزمان نے اغواء کرلیا ہے لہذاٰ تھانہ بھکھی پولیس نے نوجوان محمد سیف کی تلا ش شروع کردی بظاہر یہ کیس چونکہ نوجوان کی تلاش ممکن بنانے کا کوئی سراغ فراہم نہ کررہا تھا اسے بھکھی پولیس نے چیلنج سمجھا اور نوجوان کی تلاش شروع کردی جوں جوں پولیس اس کیس کو نمٹانے کی طرف بڑھتی گئی تو ساتھ ساتھ شواہد سامنے آتے گئے جن کی روشنی میں واضح ہوگیا کہ نوجوان محمد سیف کے اغواء میں ملزمان زاہد عباس ولد محمد منیر قوم راجپوت اور شہزاد احمد ولد محمد اسلم قوم بھٹی ساکنان باہڑ تحصیل و ضلع شیخوپورہ کاہاتھ ہے اور جب ملزمان کو گرفتار کرکے ان سے تفتیش کی گئی تو سامنے آیا کہ ملزما ن اس جرم کے مرتکب ہوئے ہیں جبکہ ملزمان نے بھی اپنے جرم کا اعتراف کرلیا، بھکھی پولیس کی کاروائی میں ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے ہونے والی یہ پیش رفت یقینا لائق تحسین ہے تھانہ بھکھی پولیس نے مذکورہ مقدمہ کے ملزمان کی گرفتاری یقینی بنا کر اسے جس طرح نمٹایا ہے وہ سراہے جانے لائق ہے جس سے عوام میں پائی جانیوالی تشویش کی فضاء کا خاتمہ ہونے میں مدد ملی ہے اور پولیس پر شہریوں کا اعتماد بڑھا ہییہی نہیں گزشتہ نہایت مختصر دورانیہ میں تھانہ بھکھی پولیس کی کارکردگی نمایاں طور پرسامنے آئی ہے اور کئی ایک مقدمات کوہنگامی بنیادوں پر نمٹایا گیا ہے دوسری طرف تھانہ بھکھی پولیس نے ایس ایچ اوشاہد رفیق کی سربراہی میں اندھے قتل کے ملزمان گرفتار کرنے کے علاوہ 4ڈکیت گینگزجن میں عمر ثوبہان گینگ کو گرفتار کر کے ان سے 5لاکھ روپے ریکوری اور2پسٹل برآمد کیے،ذیشان ڈکیت گینگ سے 4لاکھ روپے کے کرنسی نوٹ،سات عدد موٹر سائیکل،کلاشنکوف،2پیسٹل۔موبائیل فونز اور دیگر مال مسروقہ بر آمد کیا،امجد اور شہزاد وغیرہ سے جدید اسلحہ برآمد کیا اور ارسلان ڈکیت گینگ کو گرفتار کرکے ان سے2لاکھ روپے نقدی،موبائل فونز،رائفل اور 2پسٹل برآمد کرنے کے علاوہ منشیات فروشوں کے دو گروہوں فیصل عرف کالی سے 3کلو چرس اور عاقب اور شہزاد سے 3کلو چرس برآمد کی ہے،بھکھی پولیس کی کارکردگی اور جرائم کرائم کے حوالہ سے فیکٹری مالکان آفیسرز اور فیکٹری ورکرز کی رائے کے سلسلہ میں صدر ٹیکسٹائل انڈسٹریز ایڈمنسٹریشن مینجمنٹ ایسوی ایشن اے ڈی چوہدری سے رابط کیا تو انہوں نے بتایا کہ فیصل آبادروڑ اس سے ملحقہ دیہاتوں اور سنسان علاقوں میں عرصہ دراز سے ڈکیتی،چوری اور راہزنی کی وادتیں خوفناک حد تک جاری تھیں مگر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شیخوپورہ غازی محمد صلاح الدین کی تعیناتی کے بعد ان میں نمایاں کمی آئی ہے انہوں نے اپنی تعارفی میٹنگ کے دوران تھانہ میں تعینات تما م پولیس ملازمین پر واضح کیا تھا کہ وہ نہ کرپشن و رشوت ستانی برداشت کریں گے اور نہ امور ذمہ داری کی بجاآوری میں دیگر کوتاہیوں پر صرف نظر برتیں گے اور ایسے ملازمین جن کا قبلہ درست نہ پایا گیا ان کے خلاف محکمانہ کاروائی میں ہرگز تاخیر برتی نہیں جائے گی لہذاٰ تمام ملازمین خود کو عوام کا خادم اور محافظ ثابت کرنے کیلئے ڈیوٹی امور کی موثر انجام دہی ہر لحاظ سے یقینی بنائیں۔ انہوں کا یہ عزم بھی قابل ستائش تھا کہ تھانہ کے علاقوں سے جرائم کے خاتمہ اور مجرموں کی پکڑ دھکڑ کے سلسلہ میں نہ کوئی رعایت برتی جائے گی اور نہ ہی کوئی دقیقہ فروگزاشت کیا جائے گا۔

مزید : ایڈیشن 2