صوبائی وزیر قانون سلطان محمد کا دورہ مہمند،مسائل پر عوام پھٹ پڑے

صوبائی وزیر قانون سلطان محمد کا دورہ مہمند،مسائل پر عوام پھٹ پڑے

  



 مہمند(نمائندہ پاکستان)مہمند، صوبائی وزیر قانون سلطان محمد کا عوامی رسائی مہم کے سلسلے میں دورہ ضلع مہمند، غلنئی جرگہ ہال میں قبائیلی مشران اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے مسائل کے انبار لگا دئیے۔دوبارہ مردم شماری، صافی اور بائزئی کے بے گھر افراد کی باعزت واپسی،گرسل گیٹ کو تجارتی مقصد کے لئے کھولنے،کیڈٹ کالج میں مقامی افراد کو نوکریاں دینے اور پاک افغان سرحدی دیہات اور تحصیل امبار میں ترقیاتی منصوبے جلدشروع کرنے کے مطالبات۔ ڈی سی مہمند نے جاری منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی۔تفصیلات کے مطابق پیر کے روز صوبائی وزیر قانون سلطان محمد نے عوامی رسائی مہم کے سلسلے میں قبائیلی ضلع مہمند کا دورہ کیا۔ اس سلسلے میں ہیڈ کوارٹر غلنئی جرگہ ہال میں اپر مہمند اور بائزئی سب ڈویژن کے لئے عوامی رسائی مہم کی ایک بڑی تقریب منعقد ہوئی جس میں قبائلی مشران، سیاسی جماعتوں کے نمائندوں، فلاحی و سماجی تنظیموں کے رہنماؤں، نوجوانوں اور مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔اس موقعہ پر ڈپٹی کمشنر ضلع مہمند افتخار عالم، ایم این اے ساجد خان، ضلع چارسدہ کے ایم پی اے خالد خان، سابق سینیٹر حاجی عبدالرحمن فقیر، نوید احمد مہمند، اسسٹنٹ کمشنر اپر مہمند حامد اقبال،اسسٹنٹ کمشنر بائزئی عبدالوہاب خلیل،اسسٹنٹ کمشنر لوئر مہمندقیصر خان اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر افتخار عالم نے شرکاء کو قبائیلی ضلع مہمند میں جاری اور حال ہی میں مکمل شدہ ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی۔اس کے بعد قبائیلی مشران ملک آیاز حلیمزئی، ملک سلطان بائزئی، ملک صاحب داد، ملک حاجی احمد خویزئی، ملک زیارت گل اتمر خیل، ملک موجودصافی، سیاسی رہنماوں محمد سعید خان، ملک فردوس صافی، محمد اسلام صافی، رضاخان ایڈوکیٹ اور دیگر نے علاقائی مسائل کے بارے میں صوبائی وزیر کو آگاہ کیا۔ اور کہا کہ بائزی سب ڈویژن اور تحصیل صافی دہشت گردی کی جنگ میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقے ہیں۔ یہاں سے بڑی تعداد میں لوگوں نے نقل مکانی کی ہے۔ گھر بار تباہ ہونے اور بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے متاثرین کی واپسی مکمل نہیں ہوئی ہے۔ جس کی وجہ سے مردم شماری میں تعداد بہت کم رجسٹرڈ ہوئی ہے اس لئے دوبارہ مردم شماری کرکے متاثرین کو معاوضے دے کر باعزت واپسی یقینی بناکر دوبارہ آباد کیا جائے۔ معاشی بیتری اور بے روزگاری کے خاتمے کے لئے پاک افغان تجارتی راستہ گرسل کھول دیا جائے۔ علاقے میں مراکز صحت اور سکولوں کی کمی پوری کی جائے اور دیگر بنیادی ضروریات فراہمی کے منصوبے شروع کی جائے۔مہمند ڈیم اور مہمند کیڈٹ کالج میں ضلع مہمند کے مقامی افراد بھرتی کی جائے اور ضلع مہمند کے طالب علموں کو کیڈٹ کالج ٹسٹ سے مثتثنیٰ قرار دیا جائے۔ صوبائی وزیر قانون سلطان محمد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انگریز کے سو سال پرانے فرسودہ قانون ایف سی آر کے خاتمے کے بعد یہاں پر ترقیاتی انقلاب لایا جائیگا۔ قبائیلی اضلا ع کی ترقی پر دس سال میں ایک ہزار ارب سے زیادہ رقم خرچ کی جائیگی۔ ضم شدہ اضلاع کے سالنہ 83ارب روپے میں سے 13ارب روپے ریلیز ہوچکے ہیں۔ یہ رقم منتخب عوامی نمائندوں اور قبائلی عمائدین کی مشاورت سے میرٹ پر خرچ کی جائیگی۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ پارلیمینٹیرینز، قبائلی مشران اور جوانوں کے تجاویز کو فوقیت دے گی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر