تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کا ملکر چیلنجز سے نمٹنے،مستقبل میں رابطے جاری رکھنے پر اتفاق

تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کا ملکر چیلنجز سے نمٹنے،مستقبل میں رابطے جاری ...

  



لاہور(جنرل رپورٹر، این این آئی) حکمران جماعت اور اتحادی مسلم لیگ (ق) نے ملک کو درپیش چیلنجز کیلئے اکٹھے چلنے اور مستقبل میں بھی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے،ہم اتحادی تھے ہیں او رہیں گے،جبکہ مسلم لیگ (ق) کے سینئر مرکزی رہنما و سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ عمران خان کی قیادت پر اعتماد ہے، ان کی نیت اور کوشش پرکوئی شک نہیں، چاہتے ہیں کہ عوام کے مسائل حل ہوں اورہم ڈلیور کرکے آئندہ عام انتخابات میں بھی اکٹھے چلیں، جبکہ حکومتی کمیٹی کے رکن و زیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ جو غلط فہمیاں تھیں انہیں دور کر لیا گیا، مسلم لیگ (ق) سمیت کوئی بھی اتحادی جماعت چھوڑ کر نہیں جارہی۔ تفصیلات کے مطابق گورنر پنجاب چودھری سرور، وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار، وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر منصوبہ و ترقی اسد عمر اور وزیر تعلیم شفقت محمود پر مشتمل وفد نے مسلم لیگ (ق) کے سینئر مرکزی رہنما، سپیکر پنجا ب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی سے ان کی رہائشگاہ پر ملاقات کی۔ اس موقع پر طارق بشیر چیمہ، چودھری مونس الٰہی اور کامل علی آغا سمیت دیگرپارٹی رہنما بھی موجود تھے۔ ملاقات میں حکومتی کمیٹی کے ممبران نے اتحادی جماعت (ق) لیگ کے تحفظات سے آگاہی حاصل کر کے انہیں دور کیا۔ اس موقع پر مہنگائی سمیت دیگر چیلنجز کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ حکمران جماعت اور مسلم لیگ (ق) نے ملک کے بہترین مفاد میں مشاورت اور رابطوں کو جاری رکھنے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو مسائل کی دلدل سے نکالنے کیلئے اکٹھے چلیں گے۔ ملاقات کے بعد حکومتی کمیٹی کے اراکین کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ حکومتی وفد سے ملاقات میں ہر ایشو زیر بحث آیا ہے اور الحمد اللہ اب بالکل وضاحت ہو گئی ہے،جو ایشوز آئے تھے ان پر بیٹھ کر بات ہو ئی ہے اور طے بھی ہوئے ہیں او راب ایسا کوئی ایشو نہیں ہے۔اس وقت حکومت کو جو چیلنجز درپیش ہیں اس حوالے سے بھی بات ہوئی ہے کہ ہم مل جل کر او رمشاورت کے ساتھ چلیں گے۔ ہر دور میں حکومت مختلف چیلنجز کا سامنا کرتی ہے لیکن جو بھی صورتحال آئے گی ہم مل کر سامنے کریں گے اور مشاورت کریں گے اور اس کا حل بھی ڈھونڈیں گے۔ ہم سارے نیک نیت لوگ ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ عمران خان کی قیادت میں جوتبدیلی آئی ہے اس کے ثمرات اس سطح تک جانے چاہئیں،یہ کیوں نہیں جارہے، اس میں کیا رکاوٹ ہے اس پر بھی بات ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک چیز بڑی واضح ہے کہ ہمیں عمران خان کی قیادت پر اعتماد ہے، ہمیں ان کی نیت اور کوشش پر کوئی شک نہیں، جو طریق کار ہے اس میں بہتری لانے کیلئے ہم سارے اکٹھے محنت او ر کوشش کریں گے اور جب نیک نیتی سے کوشش ہو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی مدد آتی ہے،ہم چاہتے ہیں کہ یہ اتحاد اسی طرح چلتا رہے اور ہم اگلے انتخابات تک چلیں اور ہم اگلے انتخابات میں بھی اکٹھے جائیں،ہم عوام کے سامنے ہوں تو انہیں بتائیں کہ ہم مسائل حل کر کے یہاں کھڑے ہیں اور ڈلیور کرکے آئے ہیں،اس کے لئے ہم مل کر سخت محنت او ر کوشش کریں گے تو اس میں برکت بھی ہو گی اور اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی کمیٹی سے مذاکرات اچھے رہے،اچانک ابہام پیدا ہو گیا تھا جس پر کھل کر بات ہوئی ہے،پنجاب میں سرکاری افسروں کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی، ہمارے لئے جہانگیر ترین بھی قابل احترام ہیں اور جو نئے آئے ہیں وہ بھی اسی طرح ہیں۔پرویز خٹک نے کہا کہ جو معمولی اور چھوٹی چھوٹی باتیں تھیں انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا اورلوگ سمجھ رہے تھے کہ شاید ہمارے درمیان نا اتفاقی ہے،ہم شروع سے رابطے میں ہیں، یہ ہمارے پہلے بھی ساتھی تھے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے، جو غلط فہمیاں تھیں ہم انہیں دور کرنے آئے تھے،ہمارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں ہے،ہم نے بہت سے معاملات پر بات کی ہے،کچھ مسئلے ایسے تھے جنہیں مل کر حل کرنا تھا وہ ہو بھی گئے ہیں، ہم نے آئندہ ملک کے لئے مل جل کر فیصلے کرنے ہیں، اگر اتحادیوں کے ساتھ بات نہ کی جائے اور رابطے نہ رہیں تو پھر صورتحال خراب ہوتی ہے،ہم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ رابطے رہیں گے، جو بھی غلط فہمیاں تھیں وہ دور ہوگئی ہیں۔ یہ تاثر غلط ہے کہ ہمارے اتحادی ساتھ نہیں ہیں،مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم پاکستان سمیت کوئی بھی اتحاد چھوڑ کر نہیں جا رہا،ایشوز آتے رہتے ہیں اور یہ تو گھر میں بھی ہو جاتے ہیں،ہم نے معاملات خوش اسلوبی سے طے کرنے ہیں اورہم آئندہ بھی تین سال تک اتحادی رہیں گے۔

اتفاق

مزید : صفحہ اول