مہمند،تحصیل امبار جدید سہولتوں کے دور میں بھی محروم

مہمند،تحصیل امبار جدید سہولتوں کے دور میں بھی محروم

  



مہمند (نمائندہ پاکستان) مہمند، قبائلی ضلع مہمند کے دور افتادہ تحصیل امبار جدید دور میں مسائلستان بن چکا ہے۔ علاقے کے معدنیات پر با اثر افراد کا قبضہ ہے۔ معمولی سی دستخط کیلئے یکہ غنڈ جاتا پڑتا ہے۔ کاغذات میں اربوں روپے سکیمیں ہیں مگر گراؤنڈ پر اُن کا کوئی اثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوان در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ علاقے میں اب تک ہائی سکول نہیں ہے۔ کوئی پرسان حال نہیں۔ ان خیالات کا اظہار تحصیل امبار کے داراؤں بازار سرہ شاہ کے عوام مولانا گلاب نور، زاہد اللہ، خانوادہ، ڈاکٹر انور شاہ، امجد، وحید، مولانا نسیم ودیگرنے مقامی میڈیا سے کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ لوئر مہمند کے تحصیل امبار اس جدید دور میں مختلف مسائل کا شکار ہے۔ زمینداروں کو شبقدر سے یوریا کھاد لانے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ علاقے میں بجلی سرے سے آتی نہیں۔ اور جو بجلی بھی آتی ہے وہ بھی کم وولٹیج کی وجہ سے ناکارہ ہے۔ شناختی کارڈ، ڈومیسائل کیلئے چالیس کلومیٹر سفر طے کر کے یکہ غنڈ جاتے ہیں مگر وہاں پر بھی مٹھی گرم کرنے کے بغیر کان نہیں ہوتا۔ ہمارے نوجوانوں کی اسامیوں پر دوسرے علاقوں کے لوگ ملی بھگت کر کے بھرتی ہو جاتے ہیں۔ نوجوان بے روزگاری کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ مہمند ڈیم میں بھی کئے گئے وعدے پورا نہیں کئے گئے۔ 8 ہزار ووٹرزکا اندراج یکہ غنڈ میں ہوتا ہے ہم نے اس سلسلے میں بار بار اعلیٰ حکام کو آگاہ کئے ہیں مگر کوئی ایکشن نہیں لے رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ہمارے علاقے کے یونین کونسل بھی کم ہوئے ہیں۔ معدنیات پر بااثر افراد کا قبضہ ہے۔ اور بند کمروں میں لیز دیکر ہم پر مسلط کئے جا رہے ہیں۔ عوام مزید حکومت کی اس طرح اقدامات سے تنگ آگئے ہیں۔ انہوں نے حکومت اور پارلیمنٹرینز پر بھی شدید تنقید کیا۔ کہ اب تک ہمارے ساتھ کئے گئے وعدے پورا نہیں کئے گئے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ہماری مشکلات حل نہ کئے گئے تو ہم کسی قسم کے احتجاج سے گریز نہیں کرینگے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر