جسٹس مظاہرعلی سرکاری وکلاء کے بغیر تیاری پیش ہونے پر برہم

  جسٹس مظاہرعلی سرکاری وکلاء کے بغیر تیاری پیش ہونے پر برہم

  



لاہور (نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے سینئر جج مسٹر جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نے کیسوں میں سرکاری وکلاء کے بغیر تیاری کے پیش ہونے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب جمال احمد سکھیرا اور سیکرٹری قانون نذیر احمد گجانہ کو فوری نوٹس پر طلب کر کے جھاڑ پلا دی،فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ اگر صوبہ اسی طرح چلنا ہے تو خدا ہی حافظ ہے،اس ملک کا بیڑہ غرق کرنے میں اور کسی نے ابھی کسر پوری کرنی ہے تو وہ بھی ہمیں بتا دیں، تحریری آرڈر جاری کروں گا کہ میری عدالت میں ایڈووکیٹ جنرل آفس کا کوئی لاء افسر پیش نہ ہو،فاضل جج نے فوری طلبی کے نوٹس جاری کرنے کے بعد کیس کی دوبارہ سماعت شروع کی تو ابھی تک ایڈووکیٹ جنرل عدالت میں نہیں پہنچے تھے،فاضل جج نے یڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب ظفر حسین احمد سے استفسار کیا کہ کہاں ہیں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب؟ عدالت میں آئے ہیں؟ اگر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نہیں آرہے تو ہم ان کے پاس چلے جاتے ہیں، اسی دوران ایڈووکیٹ جنرل اور سیکرٹری قانون عدالت میں پیش ہو گئے،فاضل جج کے کہاایڈووکیٹ جنرل پنجاب جمال احمد سکھیرا صاحب آپکے علم میں ہے کہ آپ کے لاء افسر تیاری کیساتھ پیش نہیں ہوئے؟ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ بتایا گیا کہ لاء افسر ظفر حسین احمد تیار نہیں تھے، عدالت نے استفسار کیا کہ تو اس کا کون ذمہ دار ہے؟ایڈووکیٹ جنرل نے کہایقینا ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب ظفر حسین احمد کی ذمہ داری تھی جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ایڈووکیٹ جنرل سے پوچھا کہ آپ کے پاس کتنے لاء افسر ہیں؟ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل آفس میں 68 لاء افسران ہیں ان میں سے 42 پرنسپل نشست پر ہیں، فاضل جج نے کہا کہ عدالت ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے دفتر کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ میرا خیال ہے میری عدالت میں آئینی کیسز نہ لگائے جائیں، میں یہ سب کچھ اپنے آرڈر میں بھی لکھوا دیتا ہوں، فاضل جج نے میسرز سردار محمد اشرف ڈی بلوچ پرائیویٹ لمیٹڈ کی درخواست کی سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کی طرف سے مناسب عدالتی معاونت نہ کرنے پر یہ کارروائی کی۔یاد رہے کہ مسٹر جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں قائم فل بنچ نے گھی ملز کیس میں ایڈ ووکیٹ جنرل کے پیش نہ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب کو بھی طلب کر رکھا ہے۔

تیاری برہم

مزید : پشاورصفحہ آخر