پنجاب حکومت کا دوبارہ پٹواری نظام متعارف کروانے کافیصلہ

  پنجاب حکومت کا دوبارہ پٹواری نظام متعارف کروانے کافیصلہ

  



راولپنڈی(آن لائن)صوبے میں اراضی ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کرنے کے بجائے پنجاب حکومت نے اصلاحات کے نام پر لینڈ ریونیو ڈپارٹمنٹس میں دوبارہ پٹواری نظام متعارف کروانے کا آغاز کردیا۔اس ضمن میں پنجاب لینڈ ریونیو اتھارٹی کے ایک سینئر عہدیدار نے میڈیا کو بتایا کہ پنجاب بورڈ آف ریونیو نے ضلعی کمشنرز کو ہر ضلع میں ریونیو کے 2 حلقے مختص کرنے کا کہا ہے جسے قانون گوئی کہا جاتا ہے اور سے تحصیل دار اور پٹواری کنٹرول کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق راولپنڈی میں پنجاب بورڈ آف ریونیو کی جانب سے ضلعی کمشنرز کو جنوری کے اوآخر میں ارسال کردہ خط کے جواب میں مندرا اور چکری علاقوں کا انتخاب کیا گیا، ان 2 حلقوں میں آزمائشی بنیادوں پر اصلاحات متعارف کروائی جائیں گی۔عہدیدار کا کہنا تھا کہ اراضی کے ریکارڈ کا مینوئل طریقہ کار پورے قانونی نظام پر بوجھ بنا ہوا ہے کیوں کہ پٹواری اور فیلڈ ریونیو عہدیدار اس میں تبدیلی کرسکتے ہیں، تاہم کمپیوٹرائزڈ نظام نے اسے ختم کردیا تھا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب کی بیوروکریسی حکومت کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ مینوئل نظام کمپوٹرائزڈ نظام سے بہتر ہے۔پی ایل آر اے کے عہدیدار کے مطابق پٹواری نظام کو دوبار متعارف کروانے سے 115 نئے ریکارڈ سینٹرز سے 589 اہلکاروں کی نشستیں واپس لی جاسکتی ہیں۔پی ایل آر اے کے عہدیدار نے کہا کہ ریکارڈ سینٹر کے اہلکاروں کا کردار صرف ڈیٹا انٹری تک محدود ہوجائے گا۔دوسری جانب وزیر قانون پنجاب راجا بشارت نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پٹواری نظام کی تجدید کی تجویز دی گئی تھی تاہم حکومت نے اب تک اس سلسلے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لینڈ ریونیو ریکارڈز کے 2 متوازی نظام ایک ساتھ چلانا ممکن نہیں، انہوں نے زمینی ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنانے کے منصوبے کی تعریف کی اور کہا کہ اسے ہر جگہ مکمل کیا جانا چاہئے۔

پٹوار نظام

مزید : صفحہ آخر