سینیٹ،چین کیساتھ اظہار یکجہتی کی قرار داد منظور

  سینیٹ،چین کیساتھ اظہار یکجہتی کی قرار داد منظور

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں) سینیٹ میں تشدد اور زیر حراست ہلاکت کے تدارک اور کنٹرول کا بل " زیر حراست ہلاکت(تدارک اور سزاء)بل 2020 " پیش کر دیا گیا، بل کے متن کے مطابق دوران حراست ملزم پر تشدد پر3تا10سال قید کی سزا اور20 لاکھ،دوران حراست تشدد سے ہلاکت پر عمر قید اور 30 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو گا، جو کوئی زیر حراست ہلاکت یا زیر حراست زنا بالجبر کا ارتکاب مرتکب یاشریک جرم ہوگا اسے عمر قید اور 30لاکھ روپے تک جرمانہ ہو گا،تشدد سے نہ روکنے پر سرکاری ملازم کو تین سال تک سزا اور 10لاکھ جرمانہ ہو گا، چیئرمین سینیٹ نے مزید غور کیلئے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔ سینیٹ نے چین کیساتھ اظہار یکجہتی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی، سینیٹر مشاہد حسین سید کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہم مشکل کی اس گھڑی میں چین کے عوام اور حکو مت کیساتھ ہیں،چین کی حکومت نے کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے جو اقدامات کئے ہیں ہم ان کی بھر پور حمایت کرتے ہیں، چین نے پاکستان کے شہریوں بالخصوص پاکستانی طلبہ کیساتھ اپنے شہریوں کی طرح سلوک کیا۔پیر کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی صدارت میں ہوا، اجلاس میں سینیٹر شیری رحمان نے تشدد، زیر حراست ہلاکت کے تدارک اور کنٹرول کا بل تشدد،" زیر حراست ہلاکت(تدارک اور سزا)بل 2020، سینیٹر سسی پلیجو نے "پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پارلیمانی خدمات ترمیمی بل "2020 جبکہ سینیٹر محسن عزیز نے "دی اسلام آباد ریئل اسٹیٹ (انضباط اور ترقی)بل "2018پیش کئے۔سسی پلیجو کا بل متعلقہ کمیٹی کو ارسال کر دیا گیاجبکہ محسن عزیز کا بل مختلف ترامیم کے بعد منظورکرلیا گیا، سینیٹر شیری رحمان نے بل پیش کرتے ہوئے کہا گزشتہ سالوں میں پولیس حراست میں تشدد سے اموات کے کیسز سامنے آ رہے ہیں، تشدد کے کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے،پاکستان میں تشدد کیخلاف کوئی قانون نہیں، پولیس حراست کے دوران وحشیانہ تشدد ہو رہا ہے، پنجاب پولیس کے نجی ٹارچر سیلز سا منے آئے ہیں، گزشتہ سال زیر حراست 52 لوگ فوت ہوئے، دوران حراست تشدد پر سزا دی جائے، دوران حراست تشدد کی تحقیقاتی رپورٹ 14 روز میں آنی چاہیے،ملزم کے بارے میں گواہی حاصل کرنے کسی شخص کو نظر بند نہ کیا جائے۔کوئی مرد کسی خاتون کو حراست میں نہیں رکھے گا، صرف خاتون سرکاری ملازم قانونی طور پر خاتون کوحراست میں لے سکتی ہے،تشدد کے زریعے حاصل بیان نامنظور ہو گا اورگواہی تسلیم نہیں کی جائے گی،تشدد کی شکایت کرنیوالے شخص کا عدالت بیان ریکارڑ کرنے گی جس شخص پر تشدد ہوا اس کا طبی، نفسیاتی معائنہ کرایا جائے، دوران حراست تشدد کے کیس پر سزا کیخلاف اپیل تیس دن میں دائر ہو گی۔دریں اثناء سینیٹ میں اپوزیشن نے ملک میں پولیو کیسز میں اضافے کا ذمہ دار انسداد پولیو کے سابق فوکل پرسن بابر بن عطاء کو ٹھہراتے ہوئے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا، بابر بن عطاء کو عہدے سے ہٹانے کا مطلب اس نے کوئی کرپشن کی ہے، اس کیخلاف کیا کارروائی کی گئی،بتایا جائے۔ملک میں پولیو کا بڑھنا مجرمانہ غفلت ہے،غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے جبکہ وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم خان سواتی نے کہا اگر کسی نے جرم کیا ہے تو اس کو بچ کر نہیں جانا چاہیے، جس نے مجرمانہ غفلت کی ہے تو اس کو سزا ضرور ملے۔اجلاس میں سینیٹر سسی پلیجو نے پولیو کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد پر ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کو زیر بحث لانے کی تحریک پیش کی تھی۔سینیٹر محسن عزیز نے کہا پولیو ورکرز کو سکیورٹی دی جانی چاہیے جو لوگ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں پلاتے ان کے شناختی کارڈ بلاک ہونا چاہیے۔اجلاس میں مسلم لیگ(ن) کے سینیٹر مشاہداللہ خان نے الزام عائد کیا کہ اسحاق ڈار کے گھرکو پناہ گاہ بنا دیا گیاجبکہ چیزیں چوری کرلی گئیں، بتایا جائے گھر پر کیسے قبضہ کیا گیا؟ پناہ گاہ بنانا ہے توبنی گالہ کوبنایا جائے۔اسحاق ڈار نے ملک کی خدمت کی، لیکن ان پر جھوٹا کیس بنا دیاگیا۔اسحاق ڈار کو واپس نہیں آ نے دیا جاتا اور کہتے ہیں کہ واپس آؤ۔

سینیٹ اجلاس 

مزید : صفحہ آخر