حکومت اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے مستعفی ہوجائے:مولانا حامد الحق حقانی

حکومت اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے مستعفی ہوجائے:مولانا حامد الحق حقانی

  



پبی(نما ئندہ پاکستان)جمعیت علمائے اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس آج لاہور میں منعقد ہوا، مرکزی امیر مولانا حامد الحق حقانی نے صدارت کی، اجلاس میں ملکی اور بین الاقوامی سیاسی صورتحال پر غور کیا گیا اراکین شوریٰ نے جمعیت کی سیاسی جدوجہد کے لئے اپنی آراء کا اظہار کیا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا حامد الحق حقانی نے واضح کیا کہ اگر حکومت اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے جلد مستعفی نہ ہوئی تو جمعیت قوم کی آواز کے مطابق احتجاجی تحریک کا فیصلہ کرے گی، کرپشن،اقربا پروری پر قائم حکومت نے جو مہنگائی،بیروزگاری،کرپشن یوٹیلٹی بلوں میں ہوشربا اضافے اور تاجروں پر ظالمانہ ٹیکس مسلط کررکھے ہیں ان سے تجارت تباہ ہوگئی اور عوام کی کمر ٹوٹ رہی ہے، جمعیت قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے اس ظالمانہ نظام کے خلاف آواز بلند کرتی رہے گی،انہوں نے کہاکہ جمعیت جاگیردارانہ سرمایہ دارانہ استحصالی نظام کے خلاف انصاف اور امن کی علمبردار ہے۔انہوں نے کہاکہ کشمیریوں کے حق خودرادیت کوتسلیم کرتے ہوئے انہیں اپنے مستقبل کا فیصلے کا حق دیا جائے،بھارتی قبضہ نامنظور ہے،بھارتی وزیراعظم کے خلاف عالمی برادری،عالمی عدالت انصاف میں عالمی دہشت گرد کے طورپر مقدمہ چلائے،کشمیر سے بھارت حکومت کی طرف سے کرفیو ختم کرکے کشمیریوں کو آزاد فضا فراہم کی جائے،مولانا حامد الحق حقانی نے کہاکہ چیف آف آرمی سٹاف پاک فوج کی طرف سے آزادی کشمیر کے لئے اقدام کا اعلان کریں،پوری قوم پاک فوج کے ساتھ ہوگی،فلسطین،بیت المقدس اور ارض مقدس کی اسلامی حیثیت کو تبدیل کرنے کے لئے امریکی صدر کے نام نہاد اس فارمولے کو مسترد کرتے ہیں،فلسطین کی زمین اسلام اور مسلمانوں کی زمین ہے، یہودیوں اور امریکیوں کا وجود وہاں برداشت نہیں کریں گے۔مولانا حقانی نے کہاکہ حکومت ملک میں امن وانصاف قائم کرنے،روزگار فراہم کریاور مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے، اسے فوری طورپر مستعفی ہوجانا چاہیے۔ سیاستدان جمہوریت کے نام پر قوم کو دھوکہ دینا بند کریں،ملک میں اسلامی شریعت کا منصفانہ نظام فوری طورپر نافذ کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ جمعیت اس سلسلہ میں اپنی جدوجہد جاری رکھے گی،اور مروجہ سیاست جو کرپشن اور اقرباپروری کی سیاست ہے کو مسترد کرتے ہوئے اسلامی سیاست کے احیاء کے لئے اپنی جدوجہد کا آغاز کرتے ہوئے ازسرنو جمعیت کو ہرسطح پر منظم کرے گی۔مولانا حامد الحق حقانی نے کہا کہ عالمی ایجنڈوں کے مطابق مدارس دینیہ کی آزادی،خودمختاری اور نظام نصاب کو ختم کرنے کی ہرکوشش کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی،مدارس اسلام کے قلعہ ہیں ان پر حملہ پوری امت پر حملہ ہے، مدارس کی حفاظت کے لئے جمعیت سینہ سپر ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جمعیت کو منظم اور فعال بنانے کے لئے مرکزی قائدین چاروں صوبہ کا دورہ کریں گے طے شدہ شیڈول کے مطابق 24تا 29فروری جمعیت کے شمالی پنجاب کے امیر مولانا عبدالقدوس نقشبندی مرکزی نائب امیر مولانا عبدالخالق ہزاروی،اورصوبائی جنرل سیکرٹری مولانا محمد ایوب خان دورہ کریں گے۔اسی طرح 5تا 15مارچ مرکزی نائب امیر مولانا بشیر احمد شاد، صوبائی جنرل سیکرٹری عبدالقیوم میرزئی،مولانا محمد طاہر شاہ صوبہ بلوچستان کا دورہ کریں گے۔ 11تا 20مارچ جنوبی پنجاب کے صوبائی امیر مولانا محمد اسعد درخواستی،صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا عتیق الرحمن اور مفتی ممتاز دورہ میں شریک ہوں گے، 5تا15 مارچ مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا سید یوسف شاہ اور صوبائی جنرل سیکرٹری حافظ احمد علی اور مولانا عبدالواحد خان سواتی کراچی اور اندرون سندھ دورہ کریں گے۔ مارچ کے پہلے عشرہ میں مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالروف فاروقی،مرکزی ڈپٹی سیکرٹری مولانا شاہ عبدالعزیز،صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا محمد اسرائیل،صوبہ کے پی کے کا تفصیلی دورہ کریں گے۔قبائلی علاقوں کے لئے بھی یکم تا 8 مارچ مولانا عبدالحئی حقانی،مولانا زرولی خان،مولانا عزت اللہ قبائل کا دورہ کریں گیاجلاس کی قراردادیں (1) ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیروزگاری کی مذمت کرتے ہیں، (2) شیخ الحدیث شہید قائد جمعیت مولانا سمیع الحق کے قاتلوں کو ہرصورت ڈھونڈ نکال کر تختہ دار پر لٹکایا جائے۔(3) مدارس میں حکومتی مداخلت برداشت نہ ہوگی۔ (4) بغیر مشاورت کے یکساں نصاب تعلیم کے نام پر مدارس پر قدغن برداشت نہ کی جائے گی،(5) ملک میں این جی اوز کے ایجنڈے کو بریک لگانی چاہیے، (6) جمعیت علمائے اسلام سوشل میڈیا گروپ میدان میں اتاریں جائیں، (7) ملک میں چلی ہوئی سیاسی گروپ بندی اور انتشار سے پرہیز کیا جائے،(8) پاکستان کسی ملک کی بھی جنگی حکمت عملی میں حمایت نہ کرے۔ (9) کشمیریوں کو اقوا م متحدہ کی قرارداد کے مطابق حق خودارادیت کے مطابق حق دیا جائے، (10) مظلوم کشمیری بھائیوں پر ہونے والے مظالم کے خاتمہ کے لئے عملی اقدام اٹھانے چاہیئیں، (11) کمانڈر ان چیف جنرل قمر باجوہ کو محمد بن قاسم کی طرح اپنی کشمیر ماؤں،بیٹیوں اور بہنوں اور کی حفاظت کے لئے جہاد کے علم کو بلند کرکے اپنی ماؤں بہنوں بیٹیوں کے تحفظ کا اعلان کریں، (12)ملک بھر میں کم انکم والے احباب محنت کش مزدور اور غریبوں کے چولہے بندکرکے اور کمرتوڑ مہنگائی کرکے مہنگائی کا جن بوتل سے نکلا ہے اس کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ (13) قومی اسمبلی اور سینٹ میں جو سفاکانہ بدفعلی ریپ کے ملزمان برسرعام پھانی دینے کی قرارداد پاس کا اعلان کرتی ہے اور ان وفاقی وزراء کو فی الفور وزارتوں سے ہٹانے کا اعلان کیا جائے، (14) حالیہ نوشہرہ زیارت کاکاصاحب میں چھ سالہ عوض نور کے قاتلوں کو فوراً لٹکایا جائے (15) انڈیا میں مسلمانوں پر مودی کی بربریت کی مذمت کی اور انڈیا کی پاکستان پر حملوں کو دھمکیاں ہندوستان کو خود ٹکڑے ٹکڑے کردے گی۔ (16): عالمی فورم پر افغانستان میں امن کی کوششوں اور طالبان سے مذاکرات جاری رکھنے کی حمایت کرتے ہیں۔ (17) فلسطین اور بیت المقدس کے لئے امریکی صدر کا فارمولا مسترد کرتے ہیں، قدس مسلمانوں کا ہے اس کی ایک انچ زمین بھی یہودیوں کو دی گئی تو عالم اسلام اس کے خلاف ہوگا اورارض مقدس کا تحفظ کیا جائے گا۔ (18) او آئی سی سعودیہ اور یمن تنازعہ ختم کرنے کا لائحہ عمل طے کرے، (19) ترکی ایران،سعودیہ،ملائیشا،امریکہ اور روس بیرونی قوتیں شام عراق لیبیا میں خونی مداخلت بند کریں،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اگرملکوں میں مداخلت کا خاتم نہیں کراسکتی تواعتراف کرے اور اپنے آپ کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کرے، (20)سعودی عرب کو یقین دلاتے ہیں کہ حرمین شریفین اور جزیرۃ العرب کے تحفظ کے لئے جمعیت کا بچہ بچہ ان کے ساتھ ہوگا۔ اجلاس میں مولانا حامد الحق حقانی، مولانا عبدالرؤف فاروقی،مولانا بشیر احمد شاد،مولانا شاہ عبدالعزیز،مولانا سیدمحمد یوسف شاہ، مولانا عبدالقدوس نقشبندی،غازی الدین بابر،محمد اسعد درخواستی،مولانا فہیم الحسن تھانوی، مولانا محمد ایوب خان، حافظ احمد علی، مولانا عبدالخالق ہزاروی،مولانا عتیق الرحمن،مولانا خلیل الرحمن حقانی، مولانا قاری اعظم حسین، حافظ محمد اکبر،مولانا مشتاق،عبدالقیوم میرزئی،مولانا محمد شفیق دولت زئی،مولانا عبدالحئی حقانی، مولانا طاہرشاہ، مولانا محمد یحییٰ محسن، مولانا قارث حضرت ولی، مولانا مفتی ممتاز، مولانا مخدوم منظو ر صاحب،مولانا اسد اللہ، مولانا سید محمد یوسف شاہ صابری،حاجی محمد عزیز شیخ الحدیث مولانا غلام رسول،قاری گلزار احمد آزاد،مولانا احسان الحق قاسمی،مولانا شبیر احمد عثمانی،عبدالسلام فانی،مولانا عبدالحق ملتان،مفتی حماد مدنی مولانا خلیل احمد،سید انوار اللہ باچا، مولانا عبدالسمیع عثمانی،مولانا عبدالواحد سواتی، حافظ محمد ارمان،مولانا عاصم مخدوم،میاں حضر حیات،حاجی محمد اعجاز حسین حقانی، حاجی نور حبیب،مولانا رفیع اللہ،مولانا عبدالجبار حاجی افتخار،محمد مسلم، مولانا عبیدالرحمن،مولانا محمد اکبر ساقی،مولانا حسین احمد شاد،محبوب زرگر مولانا عبدالرحمن جامی،مفتی محمد عابد،مولانا محمد ایاز لاڑ،مولانا محمد ارشد درخواستی،مولانا حسین احمد درخواستی، رحمت اللہ لاشاری شریک ہوئے

مزید : صفحہ اول