چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے شانگلہ سب جیل بشام کا سنگ بنیاد رکھ دیا

چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے شانگلہ سب جیل بشام کا سنگ بنیاد رکھ دیا

  



الپوری(ڈسٹرکٹ رپورٹر)چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ وقار احمد سیٹھ نے کہا ہے کہ بنچ اور بار کا چھولی دامن کا ساتھ ہے۔وکلا کے مسائل کو جلد حل کیا جائے گا۔شانگلہ سب جیل کے قیام سے یہاں کے لوگوں کو سہولیات میسر آئے گی۔شانگلہ وکلاء برادری کا 25سال سے درینہ مطالبہ پورا ہوگیا سب جیل میں تمام لوازمات مہیا کئے جائینگے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے پیر کے روز شانگلہ کے سب جیل بشام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر آئی جی جیل خانہ جات مسعود خان،رجسٹرار پشاور ہائی کورٹ خواجہ وجیح الدین،پرنسپل سٹاف آفیسر محمد زیب خان،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج حیات گل مہمند شانگلہ،ڈسٹرکٹ پولیس افیسر شانگلہ ملک اعجاز،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کولئی پالس کوہستان سیف اللہ جان،سینئر سول جج ایڈمن شیر علی خان، چیئر مین صوبائی بار کونسل حق نواز خان، صدر شانگلہ بار فیاض احمد خان چکیسری سمیت صدر کوہستان بار دیگر جوڈیشر ی افسران،وکلا برادری کے سینئر رہنماء بھی انکے ہمراہ تھے۔ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ وقاراحمد سیٹھ نے نئی تعمیر شدہ جیل کا دورہ کیا۔آئی جی جیل خانہ جات اور ڈسٹرکٹ سیشن جج حیات گل مہمند نے تفصیلی بریفنگ دی۔انہوں نے بتایا کہ سال 1996سے شانگلہ ضلع اپنے قیام سے لیکر تاحال جیل کی ضرورت و سہولت سے محروم تھا اور جیل جانے والے ملزمان کو کبھی سوات کبھی دیر لور تیمرگراہ اور کبھی ڈگر بونیر جیل میں رکھیں جاتے رہے،دور دراز پیشیوں کے باعث ہر سال سرکاری خزانے پر یک کروڑ پچاس لاکھ سے زائد کا اضافی بوجھ تھا۔چار بار ضلع شانگلہ میں مختلف جگہوں پر جیل کی تعمیر کیلئے زمین مضتص کرنے کی کوشش کی گئی جوکہ ناکام رہی۔ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے شانگلہ سب جیل بشام کی تعمیر کیلئے ساڑے ساتھ ملین روپے مختص کیے اور ریکارڈ مدت میں سب جیل کی سنگ بنیاد رکھ کر پجیس سال سے شرمندہ تعبیر رہنے والے اس خواب کو حقیقت کا جامہ پہنایا۔اس موقع پر سینئر وکلاء محمد نعیم خان ایڈوکیٹ،سلطان روم خان ایڈوکیٹ،جواد علی نور ایڈوکیٹ،شاہ عالم ایڈوکیٹ، ابراہیم خان ایڈوکیٹ، عبدالبر خان ایڈوکیٹ،مجید اللہ خان ایڈوکیٹ،صبور خان ایڈوکیٹ،فتایاب علی خان ایڈوکیٹ،شاہ ولی خان ایڈوکیٹ،اسرار عالم ایڈوکیٹ،،افتاب عالم ایڈوکیٹ،اقبال حسین ایڈوکیٹ ودیگر وکلاء،پراسیکیوشن افسران سمیت جوڈیشری افسران اور اہل کاروں نے کسیر تعداد میں شرکت کی۔

مزید : صفحہ اول