مذہبی دل آزاری پر مبنی کیس کی سینٹرل جیل میں سماعت‘ تفتیشی اور کانسٹیبل پر جرح مکمل

مذہبی دل آزاری پر مبنی کیس کی سینٹرل جیل میں سماعت‘ تفتیشی اور کانسٹیبل پر ...

  



ملتان (کو رٹ رپورٹر)سینئر سول جج جہانیاں نے گزشتہ روز گیارہویں امام ہونے کے مبینہ دعویدار ملزم فرحان احمد کے خلاف مذہبی دل آزاری پر مبنی کیس کی (بقیہ نمبر55صفحہ12پر)

سماعت سینٹرل جیل میں کی۔اس دوران محمد امین سب انسپیکٹر و تفتیشی اور رفیع احمد کانسٹیبل پر جرح مکمل آئندہ سماعت 22 فروری ہو گی اور مستغیث ایس ایچ او شکیل اختر اور کانسٹیبل عابد محمود پر مز ید جرح کی جائیگی قبل ازیں فاضل عدالت میں کمپیوٹر آپریٹر یوسف کمال اور محرر عابد محمود کے بیانات پر جرح مکمل کی گئی، سماعت کے دوران ملزم(فرحان) کے وکیل سید اطہر شاہ بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کا موکل نے تصوف پر دو درجن سے زائد کتب لکھیں وہ کیسا ایسا دعویٰ کرسکتا ہے اور یہ سازش ٹھٹھہ صادق آباد کی فوزیہ سردار نامی ایک خاتون نے رانا محمد فریاد کے ساتھ مل کر رچی ہے بعدازاں پولیس کے ساتھ مل کر مذہبی دل آزاری کا مقدمہ درج کرادیا اور پولیس نے بھی تحقیق کیے بغیر اس نوجوان کو ملزم جان کر جیل بھجوا دیا اور اس کے خلاف نہ صرف مذہبی دل آزاری بلکہ 16 ایم پی او کا مقدمہ بھی درج کر لیا گیا۔

دل آزاری

مزید : ملتان صفحہ آخر