ڈرامہ نگار فاطمہ ثریا بجیا کو بچھڑے 4 سال بیت گئے

ڈرامہ نگار فاطمہ ثریا بجیا کو بچھڑے 4 سال بیت گئے

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)ایک عہد، ایک تہذیب اور ایک ادارے کی حیثیت رکھنے والی پاکستان کی نامور ڈرامہ اورناول نگار فاطمہ ثریا بجیا کوہم سے بچھڑے 4 سال بیت گئے ہیں۔فاطمہ ثریا بجیا پاکستان ٹیلی وژن اور ادبی دنیا کی معروف شخصیت تھیں۔ اپنی تحریروں سے لوگوں کے دلوں میں گھر کرنے والی شخصیت کی حامل فاطمہ ثریا بجیا نے یکم ستمبر1930کوحیدرآباد دکن میں آنکھ کھولی اور قیام پاکستان کے بعد کراچی میں سکونت اختیار کی۔ فاطمہ ثریا بجیا نے کئی لازوال ڈرامے لکھے۔مشہورڈراموں میں شمع،افشاں،انا،عروسہ،مہمان،گھر ایک نگر،پھول رہی سرسوں اور سسی پنوں،زینت سمیت ان گنت ڈرامے قابلِ ذکر ہیں۔فاطمہ ثریا بجیا کا خاندان بھی علمی دنیا میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ان کے بھائیوں میں احمد مقصود، انور مقصود اور بہنوں میں سارہ نقوی، زہرہ نگار اور پاکستان کی مایہ ناز شیف زبیدہ طارق ادبی اورتحریری دنیا میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے ٹیلی وژن کے علاوہ ریڈیو اور اسٹیج پر بھی کام کیا، سماجی اور فلاحی حوالے سے بھی ان کی خدمات قابل قدر ہیں۔ 1997 میں حکومت پاکستان نے انہیں تمغہ برائے حسن کارکردگی اور 2012 میں ہلا ل امتیاز سے نوازا صرف یہی نہیں بلکہ فاطمہ نے جاپان سمیت کئی بین الاقوامی اعزازات بھی حاصل کئے۔انہوں نے سندھ حکومت کی مشیر برائے تعلیم کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دیں۔فاطمہ ثریا بجیا طویل علالت کے باعث85 سال کی عمر میں 10 فروری 2016 کو اس جہان فانی سے کوچ کر گئیں لیکن ان کی ادب سے وابستگی اور خدمات رہتی دنیا تک یاد رہیں گی۔

مزید : صفحہ آخر