شبرزیدی کی بیماری کے بعد اب ریونیو کی ذمہ داری کس شخصیت کو سونپے جانے کا امکان ہے؟ ایسا نام سامنے آگیا کہ تحریک انصاف کے کارکنان بھی حیران پریشان رہ جائیں گے

شبرزیدی کی بیماری کے بعد اب ریونیو کی ذمہ داری کس شخصیت کو سونپے جانے کا ...
شبرزیدی کی بیماری کے بعد اب ریونیو کی ذمہ داری کس شخصیت کو سونپے جانے کا امکان ہے؟ ایسا نام سامنے آگیا کہ تحریک انصاف کے کارکنان بھی حیران پریشان رہ جائیں گے

  



اسلام آباد( ویب ڈیسک) ایک دلچسپ پیشرفت ، وزیر اعظم عمران خان نے پیر کو پی ایم سیکرٹریٹ میں منعقدہ اکنامک ٹیم کے اجلاس میں ن لیگ کی گزشتہ حکومت کے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے ریونیوہارون اختر خان کی ملک کی مجموعی معیشت اور ٹیکس محصولات سے متعلق رائے سنی۔

روزنامہ جنگ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اقتصادی ٹیم کے منعقدہ اس اجلاس میں ہارون اختر خان کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا،مسٹر ہارون اختر خان کو کسی بھی وقت وزیر اعظم کے مشیر برائے ریونیو کے عہدے کی پیش کش کی جاسکتی ہے جس میں ان کی پسند کے نئے چیئرمین ایف بی آر کی تقرری کا بھی امکان موجود ہے۔

چیئرمین ایف بی آر کے لیے مختلف نام زیر غور ہیں جن میں طارق پاشا ، مجتبیٰ میمن ، جہانزیب خان ، نوشین جاوید اور جاوید غنی شامل ہیں۔جہانزیب خان جو اس وقت ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن کی حیثیت میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں وہ اگست 2020 میں ریٹائر ہوں گے۔

قبل ازیں ایک بار حکومت نے حماد اظہر کو ریونیو کا وفاقی وزیر مقرر کیا تھا لیکن ان کا پورٹ فولیو 24 گھنٹے میں تبدیل کر دیا گیا اور انہیں وزیر برائے اقتصادی امور مقرر کر دیاگیا۔ شماریات ڈویژن پہلے ہی وزارت خزانہ کے دائرہ اختیار سے الگ کر دیا گیا ہے ، ڈاکٹر عشرت حسین کے مشورے پر ری سٹرکچرنگ پلان کیلئے اسےوزارت منصوبہ بندی کے دائرہ اختیار میں منتقل کیا گیا ہے۔

مبینہ طور پروزیر اعظم عمران خان نے یہ واضح کردیا ہے کہ مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان ڈاکٹر رضا باقرکی تبدیلی پر کوئی غور نہیں ہو رہا، تاہم انہوں نے ایف بی آر کے موجودہ چیئرمین شبر زیدی کی صحت کی بنیاد پر ممکنہ استعفے کے امکان پر اپنی معاشی ٹیم کو نئے چیئرمین کی تلاش کی ہدایت کی ہے۔

سابق وفاقی وزیر ہمایوں اخترخان اور ہارون اختر خان حقیقی بھائی ہیں لیکن دونوں کا تعلق مختلف سیاسی جماعتوں سےہے، ہمایوں اختر خان نے گزشتہ الیکشن تحریک انصاف کے ٹکٹ پر لڑا تھا لیکن ہارون اختر مسلم لیگ (ن) سے وابستہ رہے۔ تاہم سپریم کورٹ آف پاکستان نے اکتوبر 2018 میں انہیں دہری شہریت کے سبب نااہل کردیا تھا۔

پیر کے روز جب ہارون اختر خان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے انہیں معیشت اور ٹیکس محصولات سے متعلق رائے دینے کیلئے بلایا تھا جس پر معاشی ٹیم کے اجلاس میں انہوں نے شرکت کی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ وزیر اعظم کے مشیر برائے ریونیو بن کر حکومت میں شامل ہورہے ہیں ، تو انہوں نے جواب دیا آج کے اجلاس میں اس پر کوئی بات نہیں ہوئی۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد