چین سے آنیوالے مسافروں کو صرف بخار ٹیسٹ کیے جانے کا انکشاف، سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ میں انتظامیہ کا بھانڈا پھوٹ گیا

چین سے آنیوالے مسافروں کو صرف بخار ٹیسٹ کیے جانے کا انکشاف، سینیٹ کمیٹی کو ...
چین سے آنیوالے مسافروں کو صرف بخار ٹیسٹ کیے جانے کا انکشاف، سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ میں انتظامیہ کا بھانڈا پھوٹ گیا

  



اسلام آباد (ویب ڈیسک ) سینیٹ قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستانی ایئرپورٹ پر چین سے آنے والے مسافروں کا صرف بخار ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔کمیٹی نے ووہان میں کروناوائرس سے محفوظ پاکستانیوں کو واپس لانےکی تجویز آج وزیر اعظم کو پیش کرنےکی ہدایت کردی۔ روزنامہ جنگ کے مطابق پیر کو سینٹ فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس مصطفی نواز کھوکھر کی زیر صدارت ہوا۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پیمرا ویب ٹی وی کو ریگولیٹ کرنا چاہ رہاہے ،چیئرمین پیمرا نے بتایا کہ یہ صرف پروپوزل ہے، ہم الیکٹرانک میڈیا کو ریگولیٹ کر رہے ہیں تو اس کو بھی ریگولیٹ ہونا چاہیئے ،ہم اس حوالے سے یوٹیوب سے بھی رابطہ کریں گے ، ویب ٹی وی کی فیس کا ابھی پروپوزل ہے اس میں کمی بیشی ہو سکتی ہے، پروپوزل پر فیڈ بیک 14 فروری تک دیاجا سکتا ہے۔

عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ کیا آپ کے پاس آن لائن میڈیا کوریگولیٹ کرنے کا دائرہ اختیار ہے بھی یا نہیں؟ اگر آپ نے ریگولیٹ کرنا ہے تو پہلے پارلیمنٹ کو اس معاملے پر بحث کرنے دیں۔عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ سب سے پہلے سرکاری ٹی وی کو پیمرا کے ماتحت ہونا چاہیے،دو نجی ٹی وی چینل اے آر وائے اور بول نیوز کسی کو جواب دہ نہیں ہیں ،اگر وہ پابند نہیں ہیں تو پھر تو کسی چینل کو پابند نہیں ہونا چاہیئے۔

دو ٹی وی چینل مسلسل سیاسی لیڈرشپ کے خلاف مسلسل پراپیگنڈا کر رہے ہیں، محمود خان اچکزئی پر دو چینل غداری کے الزامات لگا رہے ہیں لیکن جسے عدالتوں نے غدار قرار دیا ہے اس پر کوئی بات نہیں کرتے، وہاں پیمرا کوئی ایکشن نہیں لیتا۔

پیمرا وہاں بالکل خاموش ہے، پیمرا پارلیمنٹ کو جوابدہ نہیں ہے صرف اداروں کو جوابدہ ہے،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پیمرا کے دائرہ اختیار پر کمیٹی کو مطمئن نہیں کیا سکا، ان کا دائرہ اختیار ہی نہیں ہے، اجلاس میں ووہان میں موجود پاکستانیوں کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد