انسان کامل ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم    (1)   

 انسان کامل ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم    (1)   
 انسان کامل ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم    (1)   

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 روزِ ازل تا ابد اس کائنات میں اربوں انسان  پیدا ہوئے اور ہوتے رہیں گے۔ان میں ایک لاکھ سے اوپر انبیاء کرام علیہم السلام بھی اس دنیا میں تشریف لائے۔ وہ سبھی یقینا اللہ کے برگزیدہ بندے تھے اور سبھی اپنی اپنی جگہ صاحب کمال اور عزت و تکریم کے قابل ہیں مگر ہم پر خدائے بزرگ و برتر کا یہ ایک احسانِ عظیم ہے کہ اس نے ہمیں اپنے بڑے ہی محبوب اور جلیل القدر نبی اور ہادیئ برحق حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت میں پیدا کیا کہ جن کے کمالات، خصائل حمیدہ اور اعمال رشیدہ، مراتب عالیہ اور مقامات رفیعہ سب نبیوں اور پیغمبروں سے اعلیٰ اور ارفٰع اور ممتاز و یکتا ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس یتیم ِ مکہ کو ان جاودانی عزتوں سے نوازا اور اس اْمّی کو سرِ نہاں خانہ تقدیر کا محرم بنا دیا کہ جس نے تمام ظاہری اسباب کے فقدان کے باوجود ہر میدان میں فتح و نصرت عطا فرمائی۔ ایک عام انسان اور انسانِ کامل میں بنیادی فرق ہی کردار کی پختگی، عمل کی طاقت، صبر کی توفیق، شکر کی چاشنی، عجز و انکسار کی رعنائی،سوچ و فکر کی پاکیزگی،بصیرت کی گہرائی، دیانت و امانت کی چھاپ اور صداقت کی رعنائی میں پنہاں اور پوشیدہ ہے اور ان ساری خوبیوں اور صفات سے مرصّع اس کائنات میں ایک ہی ہستی ہے کہ جن کی حیات مبارکہ کا ایک ایک لمحہ تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہو کر پوری آب و تاب کے ساتھ جگمگا رہا ہے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بچپن کی معصومانہ ادائیں ہوں یا جوانی کے پاکیزہ اور معطّر شب و روز ہوں، یہ نجابت و شرافت اور سعادت انکی محبوبیت میں ہر آن پوری شان کے ساتھ جلوہ فگن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پوری کائنات میں یگانہ اور عدیم النظیر بنایا اور صدف امکان کو آپ جیسا موتی آج تک نصیب نہیں ہوا۔
 دنیا میں احترام کے قابل ہیں جتنے لوگ
میں سب کو مانتا ہوں مگر مصطفی ؐ کے بعد                         

                                               
اعلانِ نبوت سے قبل کے چالیس سال کفرو شرک اور الحاد و بت پرستی میں گرے معاشرے میں گزارے مگر اپنے دامن کو ہر آلائش اور ہر خرابی سے پاک رکھا اور جب نبوت کا بر محل اعلان فرمایا تو ساتھ قرآن کے الفاظ میں یہ بھی فرمایا، کہ اس سے قبل میں ایک عرصہ تمہی لوگوں میں رہا ہوں تم جانتے نہیں ہو کہ میرا کردار کیا تھا اور دم بخود مگر منکرین حق کے مجمع میں ایک بھی آواز نہ اٹھی کہ جس نے اس دعوے کی تردید کی ہو بلکہ سبھی نے اقرار کیا کہ واقعی آپ اعلان نبوت سے پہلے بھی صادق اور امین تھے۔ دوست احباب تو کسی کے کردار کی تعریف و توصیف بھی کر دیتے ہیں اور بعض اوقات خامیوں کو نظر انداز کر جاتے ہیں مگر دشمنوں اور منکرین حق سے حْسن کردار اور اپنے اخلاقی محاسن پر مہر تصدیق ثبت کرانا یہ صرف محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہی کمال تھا کہ جن کے اخلاق و کردار کی مہک سے چشم دل تازہ اور مشام روح معطر ہو رہی تھی۔اور کن لوگوں کے درمیان بشریت کاملہ کے اس مرقّع زیبا اور  پیکر حسن وجمال نے اپنے حسن کردار کی شمع روشن کر رکھی تھی جن کے ذہن کفر و شرک کے تعفن کے باعث ایسے ماؤف ہو چکے تھے کہ جو اس انسان کامل،ختم المرسلین، داعی حق، محسن انسانیت اور رحمت العالمین صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ابدی شمع کو بجانے کے درپے تھے۔شاید وہ نہیں جانتے تھے کہ نور حق کی یہ شمع بجھنے کے لیے نہیں بلکہ تا ابد فروزاں رہنے کے لیے پیدا ہوئی ہے اور اس کی نورانی کرنیں انسان کے گلستان حیات میں نیکی، تقویٰ، پاکیزگی اور خوش اخلاقی کے سدا بہار پھول بن کر پوری آب و تاب کے ساتھ سدا چمکتی اور دمکتی رہیں گی۔


  اس انسانِ کامل نے نسلِ انسانی کی بقا، احترام آدمیت، عدم مساوات کے خاتمے، جرأت اظہار و کردار، غریب و مظلوم کی داد رسی،انسانی سربلندی اور عظمت انسانی کی توقیر اور   عافیت، اور گناہوں میں لتھڑے انسانوں کی روز محشر نجات کی طرف رہنمائی، مدد اور اعانت فرمائی۔اگر صرف عورت کی عزت و عظمت، رفعت اور توقیر کی بات ہی کر لی جائے تو یہ روشن حقیقت واضح ہوگی کی اس معاشرے میں جہاں معصوم بچیوں کو زندہ زمین میں گاڑ دیا جاتا تھا، جہاں عورت کا وجود باعث ننگ و عار سمجھا جاتا تھا مگر سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد سے اسی مظلوم و مقہور بیٹی کو وہ شان ملی کہ کہ وہ باعث عار ہونے کی بجائے اپنے والدین کے لیے وجہ صد ا فتخار بن گئی۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی لخت جگر سیدہ کائنات بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو وہ بے مثل  پیار، عزت و توقیر اور انس و محبت دے کر لوگوں کو اس پیغام جاں فزاں دیا کہ وہی عرب جو بیٹی کو بوجھ متصوّر کرتے تھے اسے اپنی عزت و تکریم کا باعث سمجھنے لگے۔اور اس کریم آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے  تا قیامت لوگوں کے دلوں سے یہ بات راسخ کر دی کہ بیٹی ایک ناگوار بوجھ کی بجائے خاندان کے لئے باعث رحمت اور باعث صد افتخار ہے اور پھر اسی بات کی تقویت اللہ تعالیٰ نے عورت کو وراثت میں حصہ دار بنا کراور عورت کے انسانی اور قانونی حقوق پر مہر تصدیق ثبت کر کے کر دی۔


غرض زندگی کا کوئی ایسا پہلو نہیں جس پر خاتم النبین صلی اللہ علیہ و آل وسلم کے اعلٰی اخلاق و کردار کی چھاپ موجود نہ ہو۔ اسی بلند کرداری کی بدولت اس انسانِ کامل صلی اللہ علیہ و آل وسلم نے عرب کے بوریا نشینوں میں ایمان کی ایسی تخم ریزی کی اور عہدِ جاہلیت کی کئی قبیح اور سنگ دلانہ رسمیں اپنے پاؤں تلے روندیں اور پھر دنیا نے دیکھا کہ اس انسانِ کامل صلی اللہ علیہ و آل وسلم کے رب کی بڑائی کا پرچم بحر و بر، دشت و جبل اور عرش و فرش پر ایک شان سے لہرایا۔    (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -