چنگھاڑتے ترک طیارے اور عدت کے مسائل

    چنگھاڑتے ترک طیارے اور عدت کے مسائل
    چنگھاڑتے ترک طیارے اور عدت کے مسائل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 سینیئر سول جج اسلام آباد نے گزشتہ دنوں ایک جوڑے کو سات سات سال قید با مشقت سنائی، اپیل کا حق باقی ہے، وہ ہائی کورٹ جا سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ کا دروازہ بھی کھلا ہے۔ روزانہ ایسے درجنوں فیصلے آتے رہتے ہیں۔ فریقین انہیں مان لیتے ہیں یا اپیل کا حق استعمال کرتے ہیں۔ فیصلے میں غلطی ہو تو اگلی عدالت دور کر دیتی ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ پرکاہ جیسے اس مسئلے پر بات کرکے مجھے توانائی ضائع کرنا چاہیے۔ اعلی عدلیہ کی کسی سنگین غلطی پر نقد و جرح کی ضرورت پڑے تو یہ کام میں کرتا رہتا ہوں۔ لیکن یہاں بھی میں نے خود کو زیادہ تر آئینی امور تک محدود رکھا ہوا ہے، لوگوں کی ذاتی زندگی کبھی میرا موضوع نہیں رہا۔

لیکن ہوا یہ کہ فیصلہ آتے ہی ذرائع ابلاغ کی ہر شکل پر تبصروں کا وہ طوفان بلا خیز اٹھا کہ گویا ملک کا اہم ترین مسئلہ یہی ہو۔ گزشتہ چار عشروں سے یہ بت سازی کروڑوں ذہنوں میں جاگزین ہو چکی ہے۔ یہ بت سازی لات و منات اور پوجا پاٹ کا جدید ایڈیشن ہے۔ پھر بھی میں یہ کچھ نہ لکھتا کہ انسان اگر گناہوں کی پوٹ ہے تو اوپر والا ستار العیوب۔ دعا ہے کہ وہ ہم سب کے گناہوں کو ڈھانپ کر رکھے۔ ہوا یہ کہ ہمارے ایک گروپ میں ایک دوست نے اس فیصلے کی وہ ملاحیاں لیں کہ میں تو کان دبا کر دبک گیا اور دبکا ہی رہتا لیکن عدت کے تفصیلی مسائل کے بیان کے بعد آخر میں ہمارے وہ دوست ملک کو بھی لپیٹ میں لے آئے: "ایسا صرف مملکت خداداد اور اسلامی جمہوریہ پاکستان ہی میں ہو سکتا ہے". موصوف پست ترین عدالتی درجے کے فیصلے پر برس رہے تھے جس پر اپیل کے کئی مراحل باقی ہیں اور ایسے درجنوں فیصلے روزانہ آتے رہتے ہیں۔

جب یہ صورت ہوئی تو مجھے 50 صفحے کا یہ فیصلہ مجبورا دو مرتبہ پڑھنا پڑا اور میں سٹپٹا کر رہ گیا۔ معلوم ہوا کہ اس مقدمے میں عدت کے مسائل کا نفس مضمون سے بہت کم تعلق ہے۔ دعوے میں مدعی نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 496 کے سہارے کہا کہ مدعا علیہ نمبر ایک نے بدنیتی اور فریب کاری کے ذریعے اولا میرے 28 سالہ گھر کو اجاڑا۔ میری بیوی کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کیے، میرے جوان بیٹے بیٹیاں ہیں، ایک تو اس حرکت کے سبب پاگل ہو چکا ہے۔ میں نے بیوی کو اس کے مطالبے پر اس امید پر طلاق دے دی کہ دوران عدت میں مصالحت ہو جائے گی۔ لیکن مدعا علیہان نے جانتے بوجھتے دوران عدت میں نکاح کر کے مجھے رجوع کے الہامی حق اور امکان مصالحت سے محروم کر دیا۔ یہ نکاح نہ ہوتا تو میرے رجوع کا حق اور امکان موجود تھا اور میری ازدواجی زندگی بچ جاتی۔

دعوے کے مطابق مقدمے کا واقعاتی آغاز 2014ءکے دھرنے سے ہوا جب مدعا علیہان نے روحانیت کے نام پر ملاقاتیں شروع کیں۔ سلسلہ بڑھتا رہا۔ دونوں میں قربت پیدا ہوئی جو بڑھتی چلی گئی۔ مدعا علیہا کو موکلوں کے ذریعے علم ہوا کہ فلاں تاریخ تک مرید اور مرشد اگر نکاح کر لیں تو مدعا علیہ وزیراعظم بن جائے گا۔ پھر دونوں نے دوران عدت نکاح کر کے میرا رجوع کا حق ختم کر دیا۔ پس انہیں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 497 کے تحت سزا دی جائے۔ مدعی نے تین گواہ پیش کیے جن پر خوب جرح ہوئی۔ جرح کے بعد بھی جج نے گواہوں کے بیان غیر متزلزل (unshaken ) پائے. ادھر مدعا علیہان کے وکلا کا زیادہ انحصار چیخ و پکار، شور شرابہ، ہر ممکن تاخیری حربوں اور عدالت کے اختیار سماعت پر رہا کہ نکاح لاہور میں ہوا تھا لہذا اسلام آباد میں اس جج کا اختیار سماعت نہیں۔

معاشرہ بہت بڑی حد تک سیاست زدہ ہو چکا ہے۔ یہ فیصلہ آگے چل کر ممکن ہے، بدل جائے۔ لیکن پورے فیصلے میں الحمدللہ سیاست کا شائبہ تک نہیں، یہ ایک متوازن فیصلہ ہے، ہمارے ان معزز دوست کو اپنی سیاسی وابستگی کے باعث اگر فیصلہ پسند نہیں تو مسند احمد کی وہ حدیث پڑھ لیں جس میں محرم راز خالق کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مقدمے میں فریقین کی یوں سرزنش کی تھی: "دیکھو! اگر تم نے چرب زبانی سے غلط کو صحیح ثابت کر لیا تو یاد رکھو, میں نے دلائل پر فیصلہ کرنا ہے۔ سن لو! زمین کا یہ زیر بحث ٹکڑا روز قیامت کو آگ کا گولا بن کر چرب زبان جھوٹے کے گلے میں لٹکا ہوگا". اس زیر نظر مقدمے میں بھی جج نے مکمل طور پر شواہد پر انحصار کر کے فیصلہ دیا ہے۔ آگے گواہ اور مدعی جانیں۔

کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ مرشد کے وہ موکل آج کہاں ہیں جنہوں نے ایک کو وزیراعظم اور دوسرے کو خاتون اول بنوایا تھا۔ کون نہیں جانتا کہ اس شجر خبیثہ کے موجد فاتح جلال آباد تھے۔ ماورائے بحر اوقیانوس سے سپہ سالار اول کا لولی پاپ دیے جانے پر موصوف نے اسے ایسا پراجیکٹ بنا ڈالا کہ بعد میں ہر رئیس مخابرات اسی پر عمل پیرا رہا۔ اور ملک "موکلوں" کے افکار سے "فیض" یاب ہوتا رہا پھر ادھڑ کر کرچی کرچی ہو گیا۔ آج اس کا خمیازہ معصوم جنرل بھگت رہا ہے۔ 2016ءمیں جب ترک فضاو_¿ں میں چنگھاڑتے طیارے اور سطح ارض پر ٹینک ترک آئین کو روند رہے تھے تو پورے 660 ترک ارکان پارلیمان،(چند بیمار اور مفلوج ارکان تو اسٹریچر اور ایمبولنس پر) ازخود ایک تہہ خانے میں جمع ہو گئے کہ بمباری کا خطرہ تھا۔ تمام 660 ارکان آگ اور دھوئیں کی لپٹوں میں اپنے وزیراعظم کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ سیاسی دشمن ارکان پارلیمان بھی آئین شکنی کی اس گھڑی میں سینہ تان اپنے ترک وزیراعظم کے ساتھ کھڑے رہے۔

 اپنے اسلامی جمہوریے میں 2014ءمیں فسادی ٹی وی پر قبضہ کر چکے تھے۔ کاش ! اس وقت برادر ملک ترکیہ کی طرح ہمارا پارلیمان فاتح جلال آباد کے مکروہ پروجیکٹ کو نذر آتش کر کے وہ کچھ نہ ہونے دیتا جو 2017ءمیں منصفوں کے نقاب میں پانچ دریدہ قلم افراد نے کیا۔انہوں نے ایک بھولے بادشاہ ( بھولا بادشاہ لکھنا ذرا مجبوری ہے) کو صادق اور امین کی سنہری جھنڈی دکھا کر ایک پٹیشن دائر کروائی۔ پھر 27 جولائی 2017ءکو ملک نے بحر ظلمات کی طرف جو لڑھکنا شروع کیا تو اب تک اسے قرار نہیں آ سکا۔ شخصیت کے سحر میں مبتلا ہر کسی کو نفسانی خواہشات عزیز ہوتی ہیں۔ فیصلہ بھی شخصیات پر مبنی تھا۔ اگر 2014ءکا ہمارا پارلیمان 2016ءکے ترک پارلیمان کی طرح اپنے وزیراعظم کا مکمل ساتھ دیتا تو آج ہم یہ کچھ نہ بھگت رہے ہوتے۔ اور ہاں قارئین کرام! بات تحفظ آئین کی ہے۔ یہاں آ کر میں طیب اردوان کے ان سیاسی مخالفین کا پیروکار ہوں جنہوں نے میرے اپنے لیکن ترک وزیراعظم کا ساتھ دیا تھا۔ اردوان کی طرح میری پرورش بھی تصور فریضہ اقامت دین میں ہوئی ہے۔ میں اسی فکر ہی کو سینے سے لگائے دنیا سے رخصت ہونے کا آرزو مند ہوں۔ چاہے اس فکر کا امیر سراج الحق ہی کیوں نہ ہو۔

مزید :

رائے -کالم -