سر ہند شریف، اللہ والوں کی سرزمین(1)

سر ہند شریف، اللہ والوں کی سرزمین(1)
سر ہند شریف، اللہ والوں کی سرزمین(1)

  

سرہند کو فقیروں اور درویشوں کی دنیا میں ہمیشہ قدر و منزلت کا مقام حاصل رہا ہے۔ یہ اللہ کے وہ برگزیدہ بندے تھے، جنہوں نے سینکڑوں سال تک اس سرزمین میں نیکی اور پاکیزگی کے بیج بوئے اور بھٹکے ہوئے لوگوں کو سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کا مقدس فرض ادا کیا۔ سرہند کو طویل عرصے تک ہندوستان میں بہت اہم مقام حاصل رہا ہے ۔ یہ شہر صدیوں تک علاقے میں ہزاروں لوگوں کی تقدیر سنوارنے اور بدلنے کا مرکز و محور بنا رہا ہے۔ خاص طور پر ہندوستان میں مغلیہ حکمرانوں کے دور میں سرہند کو سیاسی و دینی اعتبار سے قیادت و سیادت کا مرکز بنے رہنے کا شرف حاصل رہا۔ سرہند نشیب و فراز کے بے شمار ادوار سے گزرا، کئی بار خانہ جنگی ہوئی، کئی بار یہ میدان جنگ بنا اور ہر بار پنجاب کی ریاست پٹیالہ کا یہ تاریخی شہر تاریخ کا رخ بدلنے میں اپنا کردار ادا کرتا رہا۔ یہ عجیب بات ہے کہ سرہند مسلمانوں کی تگ و تاز کا ہی محور نہیں رہا، بلکہ سکھوں کے کئی اہم معرکے بھی اسی سرزمین پر سر کئے گئے یہی وجہ ہے کہ حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کی ابدی آرام گاہ، جسے علاقے کے مسلمان روضہ شریف کے نام سے یاد کرتے ہیں، سے آدھے میل کے فاصلے پر سکھوں کا متبرک مقام گوردوارہ فتح گڑھ صاحب بھی واقع ہے۔

روضہ شریف مسلمانوں کے جداگانہ تشخص کوبحال اور برقرار رکھنے کی اس عہد آفرین جدوجہد کی گواہی دیتا ہے، جو حضرت شیخ احمد سرہندی رحمتہ اللہ علیہ نے مغلیہ حکمرانوں اکبر اور جہانگیر کے دور میں نہایت استقامت اور اولوالعزمی کے ساتھ انجام دی۔ اسی طرح سکھوں کا یہ متبرک مقام ہندوو¿ں کے اقتدار اعلیٰ کے خلاف سکھوں کے کئی معرکوں کا مظہر ہے۔ سرہند شریف مسلمانوں کے قلب و نگاہ کو نئی روح عطا کرتا ہے، اس لئے کہ اس کے چپے چپے پرمسلمانوں کے ان اسلاف کے مدفن ہیں، جنہوں نے ظلمت و تاریکی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں اسلام کی نورانی شمع کو فروزاں رکھا اور اس اعلیٰ وارفع نصب العین کی خاطر کسی بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ سرہند میں حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کا مدفن دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے اسی طرح کشش کا باعث ہے، جس طرح آگرہ میں تاج محل، ایک مسلمان بادشاہ اور اس کی ملکہ کی دائمی اور ابدی محبت کا نشان بن کر عقیدت مندوں کے لئے مرکز نگاہ بنا ہوا ہے۔

روضہ شریف کو اس بنا پر زیادہ فوقیت حاصل ہے کہ تاج محل تو محض دو دلوں کی محبت کا ایک لازوال نشان ہے، جبکہ حضرت شیخ احمد سرہندی رحمتہ اللہ علیہ نے لاکھوں دلوں کو مسخر کیا، انہیں ایمان و ایقان کی روشنی عطا کی اور اپنے کردار و عمل سے ایسی ضوفشانی کی کہ گم کردہ راہ مسلمان اپنے حقیقی راستے پر واپس آنے لگے اور ان کے ذہنوں میں جو الجھاو¿ پیدا ہو گئے تھے، حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کی شب و روز کاوشوں سے وہ سلجھ گئے اور اسلام کے افق پر رنج و غم، مایوسی اور افسردگی کے جو بادل منڈلانے لگے تھے، وہ چھٹ گئے اور مطلع پُوری طرح صاف ہو گیا۔ شیخ احمد سرہندی رحمتہ اللہ علیہ کا یہ کارنامہ کہ انہوں نے نہایت پُر امن طریقے سے اسلام کے احیاءکی جنگ اس قدر کامیابی سے لڑی کہ انہوں نے برصغیر ہندو پاک کے تمام مذاہب کے پیروکاروں پر یہ حقیقت و اشگاف کر دی کہ اسلام امن وعافیت کا دین ہے اور اس کا پیغام اخوت و محبت کا پیام ہے اور یہ پیغام صرف انہی کے لئے نہیں ہے جو حلقہ بگوش اسلام ہیں، یہ پیغام تو تمام مذاہب کے پیروکاروں کے لئے ہے کہ وہ اللہ کی طرف لوٹ آئیں اور اس کے آخری نبی حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کے دین اسلام میں جوق در جوق داخل ہو جائیں کہ یہی دین انسانوں کو راستی کی طرف لے جاتا ہے اور اسی میں دنیا اور آخرت کی فلاح مضمر ہے۔

 حضرت شیخ احمد فاروقی سرہندی رحمتہ اللہ علیہ عالمگیر پیغام محبت کو لے کر اٹھے اور سرہند کو تصوف کی دنیا میں ایک غیر فانی مقام عطا کر گئے۔ انہوں نے سرہند کے مرکز ملت سے سارے ہندوستان کے مسلمانوں کو آواز دی اورا نہیں خواب غفلت سے بیدار کرنے کا اہتمام کیا۔ دین اسلام کی حقانیت پر ان کا ایمان اس قدر پختہ تھا کہ یہ فقیر خدا منش نہ وقت کے حکمرانوں کے سامنے جھکا، نہ اس نے منبر و محراب سے اٹھنے والی علمائے سوءکی مخالفت کی کوئی پروا کی ۔ انہوں نے تصوف کی دنیا کے سیاہ کاروں کے تاروپود بھی بکھیرے اور جو لوگ دین کے پردے میں لادینیت کی جڑیں مضبوط کر رہے تھے، ان کو بھی بے نقاب کیا ۔ وہ برسوں کی صبر آزما جدوجہد سے لوگوں پر یہ حقیقت واضح کر سکے کہ اسلام کا اصل چہرہ کیا ہے اور علماءنے اس چہرے پر کیسے کیسے نقاب ڈال رکھے ہیں؟ سرہند ہمیشہ سے اللہ کے نیک بندوں کی مساعی جمیلہ کا مرکز رہا ہے، یہاں بدھ مذہب کے بھی اثرات رہے اور سکھوں کی مختلف تحریکیں بھی اپنے اثرات دکھاتی رہیں۔ یہ تاریخی شہر سکھوں کے ایک اہم شہر پٹیالہ سے 35کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ پٹیالہ، انبالہ، چنڈی گڑھ اور لدھیانہ سے اس کا ایک جیسا فاصلہ ہے۔

 سرہند کے بارے میں البیرونی کی روایت یہ ہے کہ یہاں ابتداءمیں ثریاد انشی حکمرانوں نے اپنا اقتدار قائم کیا اور بعد میں یہ پال بادشاہت کا ایک اہم سرحدی شہر بن گیا۔ ایک اور روایت کے مطابق سرہند کابل کی برہمن بادشاہت کا مشرقی سرحدی شہر بھی رہا۔ گیارہویں صدی عیسوی میں جب محمود غزنوی نے ہندوستان پر حملہ کیا تو سرہند پر ہندوبادشاہوں کی حکمرانی ختم ہونے کی راہ ہموار ہوئی اور ہندو حکمرانوں کا سرہند پر راج اس وقت انجام کو پہنچا، جب1193ءمیں محمد غوری نے پرتھوی راج چوہان کو شکست دی، بعد ازاں خاندانِ غلاماں کے سلطان آرام شاہ نے سرہند پر اپنے اقتدار کا پرچم لہرایا۔ نصیر الدین قباچہ نے 1210ءمیں سرہند کو فتح کیا، لیکن کچھ عرصے بعد سلطان التتمش نے یہ علاقہ دوبارہ فتح کر لیا۔ بلبن کے بھانجے شیر خاں نے سرہند میں ایک پُر شکوہ قلعہ تعمیر کیا، بعد ازاں لودھی خاندان نے سرہند پر حکمرانی کی اور جب 1526ءمیں پانی پت کی پہلی لڑائی لڑی گئی اور بابر نے ابراہیم لودھی کو شکست سے دوچار کیا تو سرہند مغل بادشاہوں کی حکمرانی میں آگیا۔نقشبندی سلسلے کے صوفیاءنے ہندوستان میں تجدید احیائے دین کی جدوجہد میںنہایت اہم کردار ادا کیا، اس جدوجہد کی ابتداءنقشبندی سلسلے کے بانی حضرت خواجہ باقی باللہ رحمتہ اللہ علیہ نے کی ۔ خواجہ باقی باللہ رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت خواجہ بہاو¿ الدین نقشبند بخاری رحمتہ اللہ علیہ سے اکتساب فیض کیا تھا۔ جنہوں نے حقیقت میں نقشبندی سلسلے کی پہلی اینٹ رکھی تھی۔ حضرت خواجہ بہاو¿الدین نقشبند بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت خواجہ باقی باللہ رحمتہ اللہ علیہ نے سلسلہ نقشبندیہ متعارف ضرور کرایا تھا، لیکن اس سلسلے کو نئی روح اور تازگی حضرت شیخ احمد فاروقی سرہندی رحمتہ اللہ علیہ نے بخشی، جو حضرت مجدد الف ثانی کے لقب سے موسوم ہوئے۔

حضرت شیخ احمد سرہندی رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت باسعادت 5جون 1564ءکو ہوئی۔ روایات میں آیا ہے کہ ان کی ولادت کی نوید برسوں پہلے ہی دے دی گئی تھی اور حضرت خواجہ باقی باللہ رحمتہ اللہ علیہ کی ہندوستان آمد اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت شیخ احمد سرہندی رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت کی خوشخبری پانچ سو برس پہلے دے دی تھی اور اپنے بیٹے شیخ عبدالرزاق کو وہ خرقہ بھی عطا فرما دیا تھا، جو نسل درنسل منتقل ہو کر حضرت شیخ احمد سرہندی رحمتہ اللہ علیہ کو عطا کیا جانا تھا۔ یہ کام آخر کار1604ءمیں سید سکندر قادری رحمتہ اللہ علیہ کے ہاتھوں پایہءتکمیل کو پہنچا۔ سید سکندر قادری کا تعلق عظیم مسلمان صوفی حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے خاندان سے تھا۔ حضرت شیخ احمد سرہندی کی ولادت کے بارے میں بہت سی روایات ہیں، جن میں سے ایک روایت یہ ہے کہ جب وہ دنیا میں تشریف لائے تو تمام وہ صوفیاءجو اس وقت تک گزر چکے تھے۔ حضرت شیخ احمد رحمتہ اللہ علیہ کی والدہ محترمہ کو مبارک باد دینے کے لئے تشریف لائے اور حضرت شیخ احمد ؒ کے والد حضرت شیخ عبدالاحد کو خواب میں حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ حضرت شیخ عبدالاحدنے خواب میں دیکھا کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کئی دوسرے انبیائے کرام کے جلو میں نوزائیدہ بچے کے کانوں میں اذان دے رہے ہیں۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ جب حضرت شیخ احمد کی ولادت ہوئی تو اس کے ساتھ ہی آلات موسیقی بجنا از خود بند ہو گئے اور اسے اس بات کا اشارہ سمجھا گیا کہ موسیقی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پسندیدہ نہیں ہے۔ اسی بنا پر کئی موسیقاروں نے اس شغل سے توبہ کر لی۔

 دلچسپ امر یہ ہے کہ حضرت شیخ احمد کے والد شیخ عبدالاحد اگرچہ تصوف میں اعلیٰ مقام رکھتے تھے، لیکن انہیں نقشبندی سلسلے سے کوئی سروکار نہ تھا۔ جب 1598-99ءمیں ان کے والد نے داعی اجل کو لبیک کہا تو حضرت نے فریضہ حج ادا کرنے کے لئے مکہ مکرمہ جانے کا قصد کیا اور راستے میں دہلی قیام کیا، یہیں آپ کی ملاقات حضرت خواجہ باقی باللہ رحمتہ اللہ علیہ سے ہوئی۔ آپ نے حضرت خواجہ باقی باللہ رحمتہ اللہ علیہ کے پاس قیام کا فیصلہ کیا اور حج پر جانے کا ارادہ ترک کر دیا اور یہیں اپنے روحانی پیشوا کے قدموں میں رہ کر دولت ایمانی حاصل کر لی۔ حضرت باقی باللہ رحمتہ اللہ علیہ نے دو ماہ تک شیخ احمد رحمتہ اللہ علیہ کو تزکیہ کے عمل سے گزارا ، پھر انہیں سرہند چلے جانے کا حکم دیا۔ چار سال تک آپ سرہند میں ایمان و ایقان کی روشنی بکھیرتے رہے ، پھر جب آپ دوبارہ حضرت خواجہ باقی باللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو حضرت خواجہ باقی باللہ نے ان کی غیر معمولی پذیرائی کی ۔ یہ پذیرائی حضرت باقی باللہ ؒ کے دوسرے مریدوں میں بدگمانی کا سبب بھی بنی، جس پر آپ پھر سرہند تشریف لے آئے۔(جاری ہے)

مزید : کالم