الطاف حسین نے پرانے موقف دہرائے کو ئی نئی بات نہیں کی

الطاف حسین نے پرانے موقف دہرائے کو ئی نئی بات نہیں کی
الطاف حسین نے پرانے موقف دہرائے کو ئی نئی بات نہیں کی

  

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی جس تقریر کا شدت سے انتظار تھا، اس میں اس لحاظ سے کوئی نئی بات نہیں تھی کہ جن خیالات کا اظہار کیا گیا، وہ پہلے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے لانگ مارچ کے وہ شروع سے ہی حامی رہے ہیں، اب انہوں نے اتنا کہا ہے کہ لانگ مارچ میں ضرور شریک ہوں گے۔ دو روز قبل ان کی جانب سے یہ اپیل بھی سامنے آچکی ہے کہ لانگ مارچ کے شرکاءکے لئے گرم کپڑے عطیہ کئے جائیں۔ جہاں تک بلدیاتی نظام کے بارے میں اُن کے موقف کا تعلق ہے، یہ بھی معلوم ہے۔ ان کی جماعت نے طویل مذاکرات کے بعد پیپلز پارٹی سے اپنا مطالبہ منوایا تھا۔ اس کے نتیجے میں سندھ میں بلدیاتی آرڈی ننس جاری ہوا جس پر سندھ کی قوم پرست قوتیں احتجاج کررہی ہیں۔ الطاف حسین کی تقریر میں بلدیاتی نظام کا ذکر بھی آگیا اور کہا کہ اگر ہمارے مطالبے کو ردّ کیا گیا تو اُردو بولنے والے الگ صوبے کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ یہ بات وہ ماضی میں بھی کہہ چکے ہیں، لیکن اب تو ان کا مطالبہ مان کر آرڈی ننس بھی جاری ہوچکا ہے تو سوال یہ ہے کہ اب انہیں کیا خدشہ ہے؟ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کسی وقت قوم پرستوں کے دباﺅ میں آکر ریورس گیئر لگا سکتی ہے۔ دُہری شہریت کے حق میں وہ پہلے بھی تھے، اب انہوں نے اس کی حمایت کی۔ وہ جو ”سیاسی ڈرون حملہ“ کرنا چاہتے تھے یا تو انہوں نے فی الحال روک لیا ہے یا پھر لانگ مارچ میں شریک ہونے کا اعلان ہی ”سیاسی ڈرون حملہ“ کہلائے گا۔ اس حملے کے نقصانات کا بھی اندازہ نہیں۔

مزید :

تجزیہ -