کولین لاروز سے جین جہاد تک

کولین لاروز سے جین جہاد تک
کولین لاروز سے جین جہاد تک

  


پنسلوانیا کی پچاس سالہ کولین لاروزکو دس سال قید کی سز ا سنا دی گئی ہے ۔ کولین پر الزام ہے کہ اس نے نبی اکرم ﷺ کے گستاخانہ خاکے بنانے والے کارنونسٹ لارس ولکس کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ اس جرم میں اسے عمر قید ہوسکتی تھی، لیکن امریکی نظام عدل کے مطابق اس کے وکیل نے اس سے اعتراف جرم کرا کے سزا میں تخفیف کی درخواست کی۔ کولین نے عدالت میں کہا کہ اس وقت وہ جہادکے جذبے سے سرشارتھی اور صبح وشام اسی کے بارے میں سوچتی تھی، اب وہ ایسا نہیں سوچتی۔ کہا گیا ہے کہ کولین نے یہ بھی کہا کہ اسے اب اصل اسلام کے بارے میں پتہ چلا ہے ۔ جج پیٹریس ٹکر نے کہا ہے کہ اگر لاروز کو موقع مل جاتا تو وہ ملعون آرٹسٹ کو ضرور قتل کردیتی۔ لاروز نے آن لائن سرچ کرکے ولکس کو ڈھونڈ نکالا تھا۔ جج ٹکر نے ریمارکس دیئے کہ یہ کہنا ناقابل یقین ہے کہ بے گھر اور بور ہونے کی وجہ سے لاروز نے کمپیوٹر سے دل لگالیا اور اس طرح اس کا رابطہ ان لوگوں سے ہوگیا، جنہوں نے اسے ملعون آرٹسٹ کے خاتمے کے مشن پر لگادیا۔

ایک سترہ سالہ پاکستانی نژاد لڑکا بھی اس مقدمے میں ملوث ہے، جس نے جان ہوپکنز یونیورسٹی کی سکالر شپ حاصل کی تھی۔ محمد حسین خالد جو میری لینڈ میں رہتا تھا اور اب وفاقی جیل میں ہے، حالانکہ اس عمر کے لڑکوں کو بالعموم عام جیل میں نہیں بھیجا جاتا۔ خالد نے بھی عدالت میں اعتراف جرم کرلیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ جب وہ پندرہ سال کا تھا ،اس نے انٹرنیٹ پر پنسلوانیا کی عورت (کولین لاروز ) سے پیغامات کا تبادلہ شروع کیا تھا۔ اب خالد کی عمراٹھارہ سال ہے، اس پر دہشت گردکی مادی مدد کرنے کے الزامات ہیں ،جس پر اسے پندرہ سال سزا ہوسکتی ہے۔ ایک دوروز میں اس کو بھی سزاسنائے جانے کا امکان ہے۔ مقدمے کے مطابق ہونہار لڑکا ایک طرف ایک شان دار اور ذہین طالب علم تھا،تو دوسری طرف آن لائن دہشت گردوں کی مدد کرنے کے لئے فنڈز جمع کرنے پر آمادہ تھا۔ خالد کے وکیل نے کہا کہ یہ نہایت افسوس ناک ہے، کہ ایک ہونہار طالب علم اس قسم کے جرم میں ملوث ہوا۔ کیا خالد کو پاکستان سے آنے کی وجہ سے تنہائی کا احساس تھا، کہا جاتا ہے کہ وہ کیمپس میں کوئی بہت نمایاں لڑکاتو نہیں تھا، مثلاًفٹ بال ٹیم کا کپتان وغیرہ، لیکن وہ ان لڑکوں میں بھی نہیں تھا، جو سب سے آخری قطار میں چپ چاپ بیٹھتے ہیں اور تنہائی محسوس کرتے ہیں۔

محمد حسین خالد الیکاٹ سٹی ریاست میری لینڈ میں اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ رہتا تھا، اس کے ماں باپ امریکی ڈالر کمانے کے لئے سخت محنت کرتے ہیں۔ خالد کا رابطہ جیٹ روم میں کولین لاروز اور نائیجیریا کے علی شرف دماش سے ہوا۔ علی شرف پر بھی فرد جرم عائد ہوچکی ہے۔ دماش اس وقت آئرلینڈ میں زیرحراست ہے۔ اسے امریکہ لائے جانے کے بعد خالد اور اس کو سزادی جائے گی۔ خالد کے وکیل نے کہا ہے کہ وہ آن لائن پر مختلف نظریات وغیرہ کا کھوج لگاتا تھا۔ اس کی بدقسمتی کہ اس کی مڈبھیڑ کولین لاروز سے ہوگئی۔ ان دنوں کولین لاروز کی جہادی وڈیویوٹیوب پر موجود تھیں اور ایف بی آئی اس پر نظر رکھ رہی تھی، (سوڈن کے انکشافات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایف بی آئی ہراس میل آن لائن سرچ ،حتیٰ کہ وڈیو گیمز کی بھی مسلسل جاسوسی کرتی رہتی ہے) اس طرح وہ دہشت گردوں کے جال میں پھنس گیا۔

کولین لاروز کی کہانی بھی نہایت درد انگیز ہے۔ اس کا گھر اس کے لئے ذہنی اور جسمانی اذیت کا ناقابل برداشت ٹھکانہ تھا۔ تیرہ چودہ سال کی عمر میں ہی اس نے گھر چھوڑ دیا۔ معاشرے نے اس کی نسوانیت کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔ جوانی میں وہ ایک خوبصورت نیلی آنکھوں والی لڑکی تھی، اب وہ پچاس سال کی ہوگئی ہے۔ اس نے اپنے وکیل کے کہنے پر اعتراف جرم بھی کیا اور یہ بھی کہا کہ وہ آئندہ جہاد کے چکر میں نہیں پڑے گی ،اسے جو دس سال کی سزا ہوئی ہے وہ تین چارسال میں ختم ہوجائے گی، کیونکہ وہ چارسال پہلے ہی جیل میں گزار چکی ہے ۔ جیل کی سزا میں مہینہ تیس دن کا گنا جاتا ہے۔ ہرسال پورا کرنے پر کچھ رعایت ملتی ہے اور جیل میں قیام کے دوران اگر رویہ اچھا ہو تو مزید کچھ رعایت مل جاتی ہے، لیکن اس کے بعد اسے پانچ سال نگرانی میں کاٹنا ہوں گے، جس میں اسے مہینے میں ایک دوبار ایک دفتر میں حاضر ہونا ہوگا۔ کوئی نہ کوئی ملازمت کرنا ہوگی اور کسی مجرم یا کسی بھی غلط کام سے دور رہنا ہوگا۔ اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہی تو اسے دوبارہ جیل بھیجا جاسکے گا۔

 بعض لوگوں کے لئے جیل سے رہائی کے بعد یہ نگرانی نہایت مشکل اور تلوار کی دھار پر چلنے کے مترادف ہوتی ہے۔ کولین لاروز نے 2009ءمیں امریکہ واپس آکر خود کو قانون کے حوالے کیا تھا۔ اس کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں ہے کہ وہ واپس کیوں آئی اور خود کو قانون کے حوالے کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟....اگر کولین لاروز کی گزشتہ زندگی کو مورد الزام ٹھہرایا جائے تو یہ شاید صحیح نہ ہو۔ امریکہ میں اس قسم کے جرائم عام ہیں۔ اسی روز جب کولین کو سزا سنانے کی خبر آئی ہے، اسی اخبار میں اس قسم کی کتنی ہی خبریں ہیں اور کتنی ہی خبریں ہوں گی جو اخبار کے صفحات تک پہنچ نہیں پائیں۔ ان ایک روز کی خبروں میں اس ماں کی خبربھی ہے، جسے دس سال سزاسنائی گئی ہے۔ اس تیس سالہ ماں نے اپنی کمزورسی دس سالہ بچی کو ایک الماری میں بند کر رکھا تھا جو بچی کے پیشاب اور پاخانے سے بھی بھری ہوئی تھی۔ ایک خبر ژیل یونیورسٹی کے پروفیسر کی ہے جو ایمفٹا میں اور اسی قبیل کے نشے کا عادی تھا اور بالآخر حد سے زیادہ نشے سے جان ہار گیا۔ ٹیکساس میں گیارہ سالہ لڑکی کو اپنی ماں کو نوبار چھری کے وار کرکے گھائل کرنے کے جرم میں گرفتار کرلیا ہے۔ ماں کی حالت نازک ہے۔

اوہائیومیں ایک 43سالہ شخص کو تیز رفتاری سے کارچلانے پر روکا گیا تو اس سے پچاس بم ،چار بندوقیں اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا۔ اینڈریو سکاٹ بوگسلاوا کی کے پاس سے نیوی کے ایک اڈے کے نقشے بھی برآمد ہوئے۔ ایک اور سرخی ہے کہ ”دماغی طورپر کمزور اٹھارہ سالہ نوجوان کو پولیس نے نارتھ کیرولینا میں اپنے گھر میں کتے کی موت ماردیا“۔ اس نوجوان کو گھروالے ایمرجنسی روم میں علاج کے لئے لے جانا چاہتے تھے، لیکن وہ جانے پر آمادہ نہیں ہورہا تھا۔ گھروالوں نے نائین ون ون کو کال کرکے پولیس کی مدد طلب کی، دوپولیس والے آکر اسے چلنے کے لئے آمادہ کررہے تھے کہ اتنے میں کہیں سے تیسرا پولیس والا آیا اور اس نے آتے ہی نوجوان پر گولیاں برسا دیں۔ لوسیانا میں چھبیس سالہ عورت کو اس کے منشیات فروش منگیتر نے چھریوں کے پے درپے وار کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ مقتولہ نے منشیات کے عادی اور منشیات فروش منگیتر سے شادی کرنے سے انکار کردیا تھا۔ وچیتاکنساس میں ایک عورت ریستوران سے رات کا کھانا لے رہی تھی کہ اسے دورہ پڑا اوروہ گر گئی ۔ دونوعمر لڑکے اس کا سیل فون، پرس اور شادی کی انگوٹھی لے اڑے۔ بعد میں پولیس نے ان لڑکوں کو گرفتار کرلیا۔

 جارجیا میں پولیس نے ایک گھر سے آٹھ سال ،بارہ سال ،تیرہ سال اور چودہ سال کے بچے برآمد کرکے سرکاری تحویل میں دے دیئے۔ ان کا گھر گندگی سے بھرا ہوا تھا،بچے جوﺅں سے بدحال اور بری حالت میں تھے، ان کی ماں اور انکل ساتھ رہتے تھے۔ انکل پر جنسی جرائم کے الزامات ہیں۔ میکسیکو کے بارڈر پر ایک چھپن سالہ شخص کو گرفتار کیا گیا جو تھائی لینڈ کی ایک عورت کو سوٹ کیس میں بند کرکے امریکہ سمگل کرنے کی کوشش کررہا تھا۔اکیس سالہ میری کونی نے مسلمان عورتوں کی طرح نقاب اوڑھ کر اپنی سہیلی کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا، جس سے اس کا چہرہ اور سینہ بری طرح جل گیا۔ بتایا گیا ہے کہ موصوفہ کو سہیلی کے حسن سے حسد تھا۔ شکرہے میری کونی پکڑی گئی، ورنہ کسی مسلمان عورت پر الزام آجاتا۔ اب بھی تیزاب پر پابندی کی بجائے نقاب پر پابندی پر زیادہ زور دیا جائے گا۔

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

یہ ایک دن کے اخبار کے جرائم کی مختصر خبریں تھیں، ہرایک کے پیچھے کوئی درد ناک داستان چھپی ہوئی ہے۔ کولین لاروز کے ساتھ کیا بیتی اور وہ کولین لاروز سے ”جہاد جین“ کیسے اور کیوں کر بنی؟ وہ اب تک حجاب لیتی ہے، لیکن اب وہ جہاد سے تائب ہوگئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ملعون آرٹسٹ کو قتل کرنے میں اس لئے ناکام رہی، کیونکہ اس کے ساتھ اس کی شریک جرم پاﺅلین رامیرز اس کا ساتھ نہیں دے پائی۔ اب پاﺅلین بھی سزا کا انتظار کررہی ہے۔ ذرا سوچئے اگر یہ تمام لڑکیاں گوری نہ ہوتیں یا تنہا محمد حسین خالد نے یہ سب کچھ کیا ہوتا تو خبر کے اثرات کس قسم کے ہوتے اور میڈیا اس وقت کتنا چیخ چلا رہا ہوتا؟ یقین کیجئے مجھے یہ خبر ڈھونڈنے میں خاصی دشواری پیش آئی، یہ گوگل کی خبروں میں شامل نہیں تھی ۔مَیں نے اس کی تفصیلات ”میل آن لائن“ سے حاصل کی ہیں۔ ٭

مزید : کالم


loading...