جنرل پرویز مشرف کے حامی

جنرل پرویز مشرف کے حامی
جنرل پرویز مشرف کے حامی

  


جنرل پرویز مشرف کے حامی کئی طرح کے ہیں ، ان میں سے چندایک درج ذیل ہیں :

٭....جن کو اپنے دورحکومت میں انہوں نے بے انداز نوازا تھا۔

٭.... جو فوج کے رعب تلے دبے ہوئے ہیں۔

٭.... مسلم لیگ (ن)کے مخالف ہیں۔

٭.... عدلیہ سے بیر رکھتے ہیں۔

٭.... فوج سے اس درجہ محبت رکھتے ہیں کہ اسے اعلیٰ و ارفع مانتے ہیں۔

٭.... جو سازش کی بو سونگھتے رہتے ہیں۔

٭.... جو کسی بھی صورت میںحکومت کی بلے بلے نہیں چاہتے۔

٭.... طالبان کے مخالف ہیں۔

٭.... ضیاءالحق اور اس کی باقیات کے خلاف ہیں۔

٭....جنرل پرویز مشرف کے پرانے سیاسی حلیف ہیں۔

 ٭....ان سے اپنا مستقبل باندھے ہوئے ہیں، یاپھر

٭.... کراچی کے مہاجر ہیں!

جنرل پرویز مشرف کے حامیوں کے تعصب کی کوئی بھی وجہ اور کوئی سا بھی انداز ہو ، انہیں اس بات کو سمجھنا چاہئے کہ قانون تمام تعصبات سے ماورا¿ ہوتا ہے اور آئین سب کا ہوتا ہے ، یہ الگ بات ہے کہ سب آئین کے ساتھ نہیں ہیں،چودھری شجاعت حسین تو آئین میں ترمیم کا رقعہ لے کر سینیٹ میں پہنچ چکے ہیں، خدا معلوم انہیں یہ رقعہ کس نے دیا ہے، وہ خود تو ایسے دکھائی نہیں دیتے تھے!

مشرف کے حامیوں کا سیاسی رویہ یہ ہے کہ دشمن کا دشمن آپ کا دوست ہے اور ان کے انداز دیکھ کر لگتا ہے کہ سیاسی رویہ سوائے پیوستہ مفاد (vested interest)کے کچھ نہیں ہوتا، ان کی پسند ہی نہیں منطق اور دلیل بھی علیحدہ ہے، وہ دھڑے کی سیاست پیٹنے کے لئے فوجی جرنیل کی سیاسی حمایت سے بھی باز نہیں آرہے اور ان کی اس روش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کراچی کے کامران خان یہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کے حوالے سے قوم منقسم ہے، لیکن کیا وہ اس بات سے اتفاق نہیں کریں گے کہ ایک جنرل پرویز مشرف ہی نہیں، لوگ ہر ایشو پر تقسیم شدہ سوچ کے حامل ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر سیالکوٹ میں جب دو بھائیوں کو لوگوں نے ڈنڈے مارمار کر قتل کردیا تھا، پھر ان کی نعشوں کو ٹرالی سے باندھ کر گھسیٹتے رہے تھے تو ہر کوئی چاہتا تھا کہ ایسا ظلم کرنے والوں کو عبرتناک سزا ہو لیکن پھر چشم ِ فلک نے دیکھا کہ کچھ لوگ ظالموں کے حق میں بھی بات کر رہے تھے۔

جنرل پرویز مشرف کے حامیوں کو سنا جائے تو وہ صرف اس بات سے ہی اختلاف نہیں رکھتے کہ 3نومبر 2007ءکے بجائے 12اکتوبر 1999ءسے جنرل پرویز مشرف پر مقدمہ چلایا جائے، بلکہ بعض تو جنرل ضیاءالحق، اور پھر جنرل ایوب اور بالآکر سکندر مرزا تک جا پہنچتے ہیں، ان کے لئے وقوعہ نہیں، بلکہ تاریخ وقوعہ اہم ہے، وہ مجرم سے زیادہ اس کے معاونین کی تلاش میں دلچسپی رکھتے ہیں اور آمریت کے خلاف الگ الگ ضمنی پر انحصار کئے ہوئے ہیں، یوں بھانت بھانت کی بولی بول کر ایک آسان کام کو مشکل بناتے جا رہے ہیں۔ کوئی بھی ملزم کو اقبال جرم نہیں کرنے دے رہا، وہ چاہتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کے ساتھ باقیوں کو بھی پکڑیں، پھر اس کو سزا دیں، ورنہ اس کو بھی چھوڑ دیں!

شہر کو برباد کرکے رکھ دیا اس نے منیر

شہر پر یہ ظلم میرے نام پر اس نے کیا

ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا رویہ سیاسی تو ہے ، جمہوری نہیں ، اگر ہمارا رویہ جمہوری ہو تو ہم سڑک پر گاڑی آرام سے چلائیں، باہم گفتگو آرام سے کریں اور مخالف کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کریں، لیکن ہمارا طرہ یہ ہے کہ ہمارا سیاسی رویہ جتنا غیر جمہوری ہے، ہم سیاست میں اسی شدومد کے ساتھ انوالو ہیں، کیونکہ پاکستان میں سیاست کاروبار بن چکی ہے اور کاروبار میں حصے داری ہوتی ہے، خواہ کسی فوجی آمر سے ہی کیوںنہ ہو۔٭

مزید : کالم


loading...