2014ءکے دوران حکومت سے توقعات

2014ءکے دوران حکومت سے توقعات
2014ءکے دوران حکومت سے توقعات

  


 2013ءاپنے دامن میں توانائی کے بحران، امن و امان کی بد ترین صورت حال ، دہشت گردی، غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی اور بجلی، پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سمیت بہت سے مسائل اپنے دامن میں لئے رخصت ہوااور 2014ءاپنے ساتھ نئی توقعات و خدشات لے کر طلوع ہوگیا ہے۔ رخصت ہونے والے سال میں جن مسائل کا سامنا صنعت و تجارت اور عوام کو رہا اُن کی ذمہ داری مکمل طور پر مسلم لیگ ن کی حکومت پر عائد نہیں ہوتی، کیونکہ مئی میں قومی انتخابات منعقد ہوئے اور اُس کے کئی دنوں بعد نواز شریف حکومت نے اقتدار سنبھالا۔ یقیناً اس قدر قلیل وقت میں تمام مسائل پر قابو پانا ممکن نہیں، لیکن قابل اطمینان بات یہ ہے کہ حکومت نے اپنی سمت درست رکھنے کی کوشش کی اور کئی اچھے اقدامات کئے، مگر اس کے ساتھ ہی روپے کی قدر میں کمی اور بجلی، پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں بارہا اضافوں نے کاروباری برادری کے تحفظات میں اضافہ بھی کیا۔

 جی ایس پی پلس سٹیٹس کے حصول کے لئے عرصہ دراز سے تگ ودو کی جارہی تھی، لیکن کامیابی موجودہ حکومت کو حاصل ہوئی ، بالخصوص وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے اس کے لئے بہت محنت کی ،جس پر ان کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ اس سٹیٹس نے پاکستان کے لئے بہت اہم تجارتی مواقع پیدا کئے ہیں۔ اگر منصوبہ بندی سے کام کیا جائے تو جی ایس پی پلس سٹیٹس کی سہولت سے برآمدت میں ایک ارب ڈالر سے زائد اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ یورپین یونین سے تجارت کرتے ہوئے تمام عالمی معیارات،بالخصوص ماحولیاتی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا بہت ضروری ہے، کیونکہ یورپین یونین اُن ممالک سے اشیاءدرآمد کرنے سے گریز کرتا ہے، جو موحولیاتی معیارات سے ہم آہنگ نہیں۔ اس کے علاوہ عام تاثر یہ پایا جارہا ہے کہ جی ایس پی پلس سٹیٹس سے صرف ٹیکسٹائل سیکٹر کو فائدہ ہوگا، لیکن ایسا نہیں ہے۔ سینکڑوں دیگر ایسی اشیاءہیں جو یورپین یونین کو برآمد کرکے بھاری زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔

 رخصت ہونے والے سال کے دوران حکومت نے ٹیکس نظام کو آسان بنانے کے لئے تاجر برادری کی تجاویز تسلیم کر کے کاروباری برادری کی خدمات اور اس کی اہمیت کا اعتراف کیا ہے،جس سے یقینا کاروباری ماحول بہتر ہو گا، لیکن ضروری ہے کہ2014ءکے دوران کاروباری برادری کے لئے مزید آسانیاں پیدا کی جائیں۔ اگرچہ حکومت نے برسر اقتدار آتے ہی توانائی کے بحران ، بالخصوص سرکلر ڈیبٹ پر قابو پانے کے لئے بہترین اقدامات کئے، جن کے بہت اچھے نتائج برآمد ہوئے، لیکن صورت حال بتدریج اپنی پرانی حالت پر واپس آرہی ہے۔ ایک طرف تو توانائی کا بحران دوبارہ شدت اختیار کررہا ہے اور دوسری طرف سرکلر ڈیبٹ بھی دوبارہ 225ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ صنعتوں کا پہیہ رواں رکھنے کے لئے تو توانائی ناگزیر ہے ہی، لیکن ایک اور اہم بات یہ کہ اگر توانائی کا بحران حل نہ ہوپایا تو پھر جی ایس پی پلس سٹیٹس کی صورت میں حاصل ہونے والا ایک بہت نایاب موقع بھی ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

میری تجویز ہے کہ حکومت 2014ءکو توانائی کا سال قرار دے دے۔ سرکلر ڈیبٹ کے خاتمے کے لئے ناہندگان اور بجلی چوروں کے خلاف کاررروائی عمل میں لائی جائے۔ حکومت کو کوشش کرنی چاہیے کہ 2014ءکے دوران پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ یا تو مکمل ہو جائے یا پھر تکمیل کے نزدیک ضرور پہنچائے، کیونکہ گیس کی قلت بہت بڑی پریشانی کا باعث بنتی جارہی ہے۔ سردیوں کے آغاز پر صنعت اور سی این جی سٹیشن کی گیس یہ کہہ کر بند کردی گئی تھی کہ گھریلو صارفین اولین ترجیح ہیں، لیکن گھروں میں بھی گیس میسر نہیں اور لوگ گیس بندش کے خلا ف مظاہرے کرتے نظر آتے ہیں۔ حکومت نے گیس چوروں کے خلاف سخت ایکشن کیا ور کروڑوں روپے کی گیس چوری پکڑی، لیکن سسٹم میں آنے والی یہ گیس کہاں گئی، یہ بیورو کریسی ہی بتا سکتی ہے۔ 2014ءکے وفاقی بجٹ میں حکومت کوکالا باغ ڈیم کی تعمیر کا اعلان بھی کرنا چاہیے، کیونکہ یہ ایک بہت اہم منصوبہ ہے، جس سے نہ صرف آبی ضروریات پوری ہوںگی، بلکہ انتہائی سستی اور وافر بجلی بھی پیدا کی جاسکے گی۔

 2014ءکے دوران حکومت کو پبلک سیکٹر انٹر پرائزز کے بارے میں فیصلہ کر لینا چاہیے کہ انہیں چلانا ہے یا نجکاری کرنی ہے ، کیونکہ یہ ادارے قومی خزانے پر بہت بڑا بوجھ بنے ہوئے ہیں اور ملک و قوم کو کوئی فائدہ دینے کے بجائے سالانہ کم و بیش 600ارب روپے ہڑپ کررہے ہیں، حالانکہ یہ جتنے بڑے ادارے ہیں ، انہیں ہر سال قومی خزانے کو 600ارب روپے کا فائدہ پہنچانا چاہیے۔ حکومت کو اس سلسلے میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا اور اُن رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا جو ان قومی اداروں کی درستگی یانجکاری کی راہ میں حائل ہیں۔ اگر ان اداروں کی درستگی کے لئے ٹھوس اقدامات نہ کئے گئے تو صورت حال ہرگزرتے دن کے ساتھ خراب ہو گی اور قومی خزانے پر بوجھ بڑھتا چلا جائے گا۔ ترقی یافتہ ممالک کے معاشی استحکام میں اُن کی علاقائی تجارت نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے، لہٰذا ہمیں بھی اس جانب توجہ دینا ہو گی۔ وزیراعظم میاں نواز شریف نے صنعتکاروں اور تاجروں کے ساتھ ملاقات کے موقع پر ریلیف پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے بزنس اور ایگریکلچر ایڈوائزری کمیٹیاں تشکیل دینے کا اعلان کیا جوتاجر برادری کا بہت دیرینہ مطالبہ تھا۔

 معاشی معلاملات میںسٹیک ہولڈرز کی شمولیت یقینا بہت بہترین نتائج کی حامل ہوگی، لیکن یہ ضروری ہے کہ ان کمیٹیوں کو بھرپور طریقے سے فعال کیا جائے ، بالخصوص انہیںکسی بھی صورت میں بیورو کریسی کے رحم وکرم پر نہ چھوڑا جائے۔ قرضوں کا بھاری بوجھ پاکستان کے معاشی مسائل کی بہت بڑی وجہ ہے جس پر ماضی کی حکومتوں کو شرمندہ ہونا چاہیے، کیونکہ کھربوں ڈالر کے وسائل ہونے کے باوجود اندھادھند قرضے لے کر انہوں نے ثابت کیا کہ انہیں ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی میں کوئی سبب نہیں۔ موجودہ حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تو خزانہ تقریباً خالی تھا، جس کی وجہ سے آئی ایم ایف سے رجوع کئے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا ، لیکن ماضی کی حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت قرضے لینا عادت نہ بنائے، بلکہ 2014ءکے دوران اقتدار میں پیدا ہونے والے سنگین مسائل میںسے ایک بڑا سنگین مسئلہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں 80فیصد سے زائد کمی تھا، یہ بڑی اطمینان بخش بات ہے کہ موجودہ حکومت نے اس اہم مسئلے کو نظر انداز نہیں کیا ، جس کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاری کی صورت حال بتدریج بہتر ہورہی ہے۔

 جولائی تا نومبر 2012ءکے مقابلے میں جولائی تا نومبر 2013ءکے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری میں 4.7فیصداضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ حکومت کو چاہیے کہ سرمایہ کاروں کے لئے ون ونڈو آپریشن شروع کرے ، تاکہ بیوروکریٹک رکاوٹوں کی وجہ سے وہ بددل نہ ہوں، سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے حکومت کو بجلی وگیس کا بحران بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہوگا۔ 2014ءکے دوران حکومت کو عوامی فلاح و بہبود پر خصوصی توجہ دینی چاہیے، کیونکہ عوام کے ایک بہت بڑے حصے کی تعلیم و صحت کی بنیادی سہولتوں تک بھی رسائی نہیں ہے۔ مجھے ان گنت تاجروں نے بارہا افسر شاہی کی چیرہ دستیوں اور ناروا اقدامات کے بارے میں شکایات کی ہیں،لہٰذا حکومت بیورو کریسی کے صوابدیدی اختیارات کم کرے ، جس سے نہ صرف تاجر برادری اور سرکاری مشینری کے درمیان تعلقات خوشگوار اور مستحکم ہونے، بلکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے محاصل بھی بڑھیں گے۔ صنعتکار، تاجر اور عوام موجودہ حکومت کے ساتھ بڑی امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں اور توقع ہے کہ حکومت ان کے مسائل کے حل اور ملک کے معاشی استحکام کے لئے پانچ سال مکمل ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے 2014ءکے دوران ہی اپنے اہداف حاصل کرنے یا کم از کم اُن کے نزدیک پہنچنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔

(مضمون نگار افتخار علی ملک حال ہی میں چوتھی بار سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر منتخب ہوئے ہیں)۔٭

مزید : کالم


loading...