نیشنل ایکشن پلان ،منزل کے قریب

نیشنل ایکشن پلان ،منزل کے قریب
 نیشنل ایکشن پلان ،منزل کے قریب

  



دہشت گردی کا ناسور پاکستان کی سلامتی کے لئے بہت بڑا خطرہ رہا ہے اور ہم بحیثیت قوم ایک دہائی سے دہشت گردی اور انتہا پسندی میں جکڑے ہوئے تھے۔ انتہا پسند ذہنیت ہماری جڑوں میں اس حد تک سرایت کر چکی تھی کہ اس سے چھٹکارا ناممکن تھا۔ پاکستان نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے بھاری قیمت ادا کی ہے اور بڑی تعداد میں شہری، سپاہی، بچے اور عورتیں ملک کو دہشت گردی کے ناسور سے بچانے کے لئے اپنی جان کا نذرانہ دے چکے ہیں۔ ہماری مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے ادارے، حکومت اور عوام دہشت گردی کے خلاف نبرد آزما ہیں جو محض میدان جنگ تک محدود نہیں ،بلکہ نفسیاتی جنگ بھی ہے، تاکہ شدت پسند ذہنیت میں تبدیلی آ سکے۔ شدت پسندوں سے بات چیت کے بعد حکومت نے دہشت گردوں کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی نیشنل ایکشن پلان مرتب کیا اور آپریشن کا فیصلہ کیا۔

نیشنل ایکشن پلان اور آپریشن ضربِ عضب کی بدولت ہی دہشتگردی کے خلاف کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ فاٹا کے دشوار گزار علاقوں میں دہشتگردوں نے جسطرح اپنی پناہ گاہیں قائم کر رکھی تھیں۔ تربیتی مراکز بنا رکھے تھے اسلحے کے کارخانے اور زخیرے بھی موجود تھے ان سب کو ختم کرنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ پاک فوج کی بہادری سول حکومت اور عوام کی حمایت کی بدولت دہشت گردی کے خلاف جنگ محض دو سال میں جیت لی گئی اور ان کی مزاحمت اور مقابلے کی قوت دم توڑ گئی۔ آپریشن سے قبل جب حکومت نے دہشتگردوں کو مذاکرات کی دعوت دی تو انہوں نے غیر منطقی مطالبات پیش کیے جن کو تسلیم کرنا کسی بھی حکومت یا ریاست کے بس کی بات نہیں تھی۔

دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ گئی ،لیکن وقتاًفوقتاً وہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے رہے۔ سانحہ کوئٹہ کے بعد سیاسی و عسکری قیادت نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل کرنے سے ہی اس کے مقاصد پورے ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ نیشنل امپلی مینٹیشن کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کمیٹی میں سیکرٹری داخلہ، صوبوں کے نمائندگان، ایڈیشنل سیکرٹری اور متعلقہ ایجنسیاں بھی شامل ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کے 20نکات کے بغور مطالعے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ معاشرے میں موجود security lacunas کا خاتمہ ہو، تاکہ اس کی تمام شعبوں پر عملدرآمد ہو سکے۔ نیشنل ایکشن پلان کا ہر نکتہ کے لئے مکمل سٹریٹجی اور مشاورت درکار ہے ،تاکہ معاشرے میں کسی قسم کا بگاڑ نہ ہو۔ کمیٹی کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا جن میں دہشت گردی، اور دہشت گردی کو فروغ دینے والے عناصر اور ریاستی عناصر شامل ہیں۔ پہلی کیٹیگری میں ان جماعتوں کو شامل کیا گیا،جو ملک میں فرقہ واریت کو فروغ دے رہی ہیں اور ان میں کالعدم تنظیمیں بھی شامل ہیں۔ ان ہی دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے آپریشن ضرب عضب کا آغاز ہوا جس میں فوج کو سول قیادت اور عوام کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ ضرب عضب میں شاندار کامیابی کے بعد دہشت گردی کی باقی ماندہ قیادت افغانستان چلی گئی جہاں ان کو ریاست مخالف عناصر کی حمایت حاصل ہے۔

نیشنل ایکشن پلان 20نکات پر مشتمل تھا۔ ان نکات میں سے بیشتر نکات ایسے تھے جن پر صوبائی حکومتوں کو عمل کرنا تھا، لیکن، یہ صوبائی اور وفاقی حکومت دونوں کی ذمہ داری ہے کہ اس کی شقوں پر مشترکہ طور پر عملدرآمد کیا جائے۔ حال ہی میں وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ملکی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔نیشنل ایکشن پلان قومی سلامتی کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ اس کی تمام شقوں پرعمل ہو رہا ہے اور اسی منصوبے کے تحت ملک میں امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنایا گیا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان درحقیقت دہشتگردی کے خاتمے کا روڈ میپ ہے۔ وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والا اجلاس نئی عسکری قیادت اور سول انتظامیہ کی پہلی میٹنگ تھی جس میں علاقائی، داخلی اور بیرونی سلامتی کی صورتحال کے مختلف امور پر غور کیا گیا اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے متعلق پالیسی آپشنز کو بھی زیر غور لایا گیا۔ نیشنل ایکشن پلان کی تمام شقوں پر من و عن عمل کا عزم اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم خوش آئند ہے کیونکہ اس عزم کی بدولت ہی ہم دہشت گردی پر قابو پا سکے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی کو فروغ دینے والوں کے حربے جن میں لاؤڈ سپیکر کا استعمال، قابلِ نفرت تقریریں، انتہا پسند لٹریچر اور فرقہ واریت کو سختی سے نمٹا جائے۔ وزارت داخلہ اور صوبوں کو اس ضمن میں پالیسی مرتب کرنی چاہیئے۔ صوبائی حکومتوں کو بھی چاہیئے کہ مانیٹرنگ نظام مرتب کیا جائے اور آڈیو، ویڈیو سی ڈیز، لٹریچر اور ایسے مواد کے خلاف ایکشن لیا جائے۔ علماء کا بورڈ بنایا جائے۔ نظام میں تبدیلی کے لئے از حد ضروری ہے کہ ایسا نصاب مرتب کیا جائے جس سے نوجوانوں میں صبر و تحمل پیدا ہو۔وزارت داخلہ نے دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والوں کے خلاف بھی سخت اقدامات کیے ہیں اس ضمن میں For Ex Regulation کے تحت Financial Monitoring Unit Communication Network بہترین کام کر رہی ہے۔ دہشت گردوں کو حکومت نے بہترین حکمت عملی کی بدولت بہت نقصان پہنچایا ہے۔ غیر رجسٹرڈ Simsکو مستقل طور پر بند کر دیا گیا ہے ،لیکن انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر ہونے والی دہشت گردی موجود ہے، اس سے نمٹنے کے لئے حکومت کو مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

مدرسوں کی رجسٹریشن اور Regulationسے متعلق حکومت کے اقدامات قابلِ تعریف ہیں۔ صوبوں کو تمام مدرسوں کی نگرانی سپرد کر دی گئی ہے۔ ان کا نصاب اور ڈیٹا شیئرنگ ہر صوبے کی وزارت کے تحت ہے۔ تاہم افغانستان مہاجرین کی رجسٹریشن سے متعلق جامع پالیسی تیارکرنے کی ضرورت ہے۔ نیشنل ایکشن پلان جو کہ تمام جماعتوں کا متفقہ فیصلہ تھا، اس پر پورے پاکستان میں بلا امتیاز عملدرآمد ہونا چاہیئے ،تاکہ پاکستان میں سے انتہا پسندی اور شدت پسندانہ کارروائیوں کا خاتمہ ہو سکے۔ اس پر عملدرآمد سے ہی پاکستان اپنی کھوئی ہوئی شناخت واپس حاصل کر سکا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کو 1973کے بعد دوسری اہم دستاویز قرار دیا جا رہا ہے۔ اس پر عملدرآمد صوبوں اور وفاق کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ حکومت کو بھی چاہیئے کہ نیشنل ایکشن پلان سے متعلقہ کسی بھی معاملے میں تمام صوبوں کو اعتماد میں لیا کرے ۔

مزید : کالم