ایک خوبصورت انسان ’’اوم پوری‘‘

ایک خوبصورت انسان ’’اوم پوری‘‘
ایک خوبصورت انسان ’’اوم پوری‘‘

  

18اکتوبر 1950ء کو انبالہ میں پیدا ہونے والے اداکار اوم پوری 6 جنوری 2017 ء کو 66 سال کی عمر میں ممبئی میں انتقال کرگئے اور ہندوستان و پاکستان کے کروڑوں امن پسند مداحین کو اداس کرگئے۔ ان کی موت کاسبب حرکت قلب بند ہونا بتائی گئی، لیکن اب تازہ ترین خبروں کے مطابق یہ شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ’’ را‘‘ نے ان کو قتل کرایا ہے اور وجہ اس قتل کی، ان کا پاکستان اور مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھانا ہے۔ طبعی موت ہے یا قتل؟وقت اس کا فیصلہ کردے گا، لیکن یہ بات صاف ہے کہ وہ ایک نڈر اور بے وقوفی کی حد تک صاف گو انسان تھے۔ ان کی زندگی کے حالات اور فلموں کے بارے میں بہت کچھ لکھا جارہا ہے، اس لئے اس پر بات کرنے کی بجائے اس مختصر کالم میں بات صرف ان کی پاکستان کے حوالے تک ہی محدود رہے گی۔اوم پوری ہر طرح کے مذہبی، لسانی، علاقائی تعصبات کے خلاف تھے۔بی بی سی کو چار ماہ پہلے ایک انٹر ویو میں انہوں نے کہا :’’میں پاکستان چھ بار گیا ہوں، پاکستان میں کام کرنے کا تجربہ بہت ہی اچھا رہا،میری مہمان نوازی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی‘‘۔۔۔ ایک اور سوال کے جواب میں اوم پوری نے کہاکہ ’’مجھے اپنے لئے ہر دورے میں پاکستان میں کہیں بھی نفرت دکھائی نہیں دی، بلکہ صرف مہمان نوازی اور محبت ہی دکھائی دی‘‘۔۔۔انہوں نے مزید کہا: ’’ہندوستان اور پاکستان میں صرف پانچ فیصد لوگ ہی ایسے ہیں جنہیں بنیاد پرست یا دہشت گرد کہا جاسکتا ہے، لیکن ان کی وجہ سے دونوں ممالک بدنام ہو رہے ہیں،اکثریت امن پسند ہے‘‘۔۔۔ حال ہی میں ریلیز ہونے والی کامیاب پاکستانی فلم ’’ایکٹر ان لاء‘‘میں ان کا کردار بڑا پسند کیا گیا ہے، اس کا حوالہ دینے کے بعداور حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ دوبارہ پاکستان جانا چاہیں گے؟ تو انہوں نے کہا:’’وہ بلائیں گے تو پھر جاؤں گا،جہاں بھی مجھے کوئی چیز اچھی ملتی ہے،وہ کہیں بھی ہو، جس میں انسانیت کی بات ہو،دوستی کی بات ہوتو میں ضرور جاتا ہوں اور جاؤں گا‘‘۔

اپنی زندگی کے آخری مہینوں میں پاکستانی اداکاروں کی کھل کر حمایت کرنے اور امن کی آواز اٹھانے پر انہیں انڈیا کے متعصب ہندوؤں، خصوصاً شیو سینا کی کڑی تنقید اور مخالفت کا سامنا رہا، لیکن وہ ڈٹے رہے اور ببانگ دہل امن اور پاکستان کے حق میں آواز بلند کرتے رہے۔ پاکستانی قوم بھی ان کے پیار میں یک جان نظر آتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اوم پوری چیچک کے نشان چہرے پر لئے ایک بد صورت انسان تھے، لیکن ہمیں تو ان میں کہیں بھی بدصورتی دکھائی نہیں دی، ان کا چہرہ بھی خوبصورت تھا اور شخصیت بھی۔ ظاہر بھی اور باطن بھی۔ ہم ان کو مخاطب کرکے یہی کہیں گے کہ جناب آپ نے پاکستان کے حق میں بات کی، امن کی بات کی ، ہماری نظر میں آپ دنیا کے خوبصورت، بلکہ ’’خوبصورت ترین‘‘ انسان ہیں۔

مزید :

کالم -