محمد نوید مرزا کی دو کتابوں کی رونمائی اور مشاعرہ

محمد نوید مرزا کی دو کتابوں کی رونمائی اور مشاعرہ
 محمد نوید مرزا کی دو کتابوں کی رونمائی اور مشاعرہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

صدیق چنن فاؤنڈیشن اور بزم بشیر رحمانی کے اشتراک سے معروف شاعر ادیب محمد نوید مرزا کی دو کتابوں ’’روبرو محبت ہے‘‘ اور ’’شرح شکوہ جواب شکوہ‘‘ کی تقریب پذیرائی اور مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا۔ صدارت ، شاعر، ادیب اور براڈ کاسٹر ابصار عبدالعلی نے کی۔

تقریب کے مہمانان خصوصی ورسٹائل اداکار اور شاعر راشد محمود معروف سینئر شاعر قاری جمیل، ادارہ خیال و فن کے محمد ممتاز راشد لاہوری ، معروف شاعر اکرم سحرفارانی، جاوید صدیق بھٹی اور ادیب و کالم نگار سید عارف نوناری تھے۔ تقریب کی نظامت معروف شاعر آفتاب خان نے کی۔

حافظ ابن یوسف اور قاری نورالمصطفیٰ نے تلاوت قرآن پاکسے سماں باندھ دیا۔ جس کے بعد معروف نعت خواں فیض جلیل قریشی نے پہلے نوید مرزا کی حمد اور پھر شاعر درویش بشیر رحمانی کی نعت نہایت خوبصورت ترنم کے ساتھ سنا کر پورے ہال کی توجہ حاصل کی۔

آفتاب خان نے اپنے کلام کے ساتھ نوید مرزا کا تعارف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ نوید مرزا بیک وقت شاعر، ادیب ناول نگار، کالم نگار اور بچوں کے ادب کے مصنف ہیں ۔

معروف شاعر وسیم عالم نے کہا کہ ’’روبرو محبت ہے‘‘ میں نوید مرزا کی پختگی صاف جھلکتی ہے انہوں نے لفظوں کا بہترین چناؤ کیا ہے۔ ڈاکٹر تنویر دانش نے مختصراً نوید مرزا کی شاعری کا جائزہ لیا اور ان کی کاوشوں کو سراہا۔ بچوں کے معروف ادیب محمد نادر کھوکھر نے کہا کہ نوید مرزا اپنی تحریروں اور کتابوں کے ذریعے ادب کو پھیلا رہے ہیں۔

معروف شاعر آفتاب جاوید نے نوید مرزا کو ان کی بیک وقت دو کتابوں کی تقریب پر مبارک باد دی اور ان کے ایوارڈ یافتہ ناول ’’زندہ ہیں شاہین کے حوالے سے بھی سراہا۔ معروف شاعر اور نقاد نوید صادق نے انتہائی باریک بینی سے نوید مرزا کی شاعری کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ جب وہ انجینئرنگ یونیورسٹی میں پڑھتے تھے تو ان کا نوید مرزا سے ان کے ایک شعر کے ذریعے غائبانہ تعارف ہوا تھا اور شعر تھا:

’’آسماں پر نہ کیوں ہو اس کا دماغ

اس کی آنکھوں کا رنگ نیلا ہے‘‘

نوید مرزا کے دیرینہ دوست ادیب، صحافی اور نعیم مرتضیٰ فاؤنڈیشن کے چےئرمین محمد نعیم مرتضیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ نوید مرزا سے ان کی دوستی کا آغاز 1987 میں ہوا۔

جب ہم بچوں کے لیے کہانیاں و مضامین لکھا کرتے تھے نوید مرزا کی کتاب ’’روبرو محبت ہے‘‘ جدید تر حسیات اور گہرے عصری شعور کی حامل ہے۔ جو اپنے دامن میں اپنے خالق کی تخلیقی شخصیت کے مکمل تعارف کے ساتھ ساتھ اپنے عہد کا سماجی اور سیاسی منظرنامہ بھی سمیٹے ہوئے ہے۔

ان مقررین کے علاوہ نذر بھنڈر، محمد لطیف کھوکھر، کنور امتیاز احمد، ملک شہباز، معین ملک، زاہد محمودشمس نے بھی نوید مرزا کے فن اور شخصیت پر اظہار خیال کیا۔

اس کے بعد مہمانان خصوصی کی باری آئی تو شاعر و ادیب اور کالم نگار سید عارف نوناری نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ نوید مرزا کو اس وقت سے جانتے ہیں جب وہ روزنامہ ’’ مشرق‘‘ کے بچوں کے ایڈیشن میں لکھا کرتے تھے نوید مرزا کی شاعری معاشرے کی اصلاح کا وسیلہ ہے وہ حقیقی جذبوں کا شاعر ہے اور بطور ادیب و کالم نگار وہ معاشرے میں پائی جانے والی برائیوں کی نشاندہی کرتے نظر آتے ہیں۔

انھوں نے نوید مرزا کو ’’شرح شکوہ و جواب شکوہ‘‘ اور ’’روبرو محبت ہے‘‘ کی اشاعت پر مبارک باد دی دوسرے مہمان خصوصی معروف شاعر و ادیب، کالم نگار جاوید صدیق بھٹی نے بھی نوید مرزا کو کتابوں کی اشاعت پر مبارک باد دی اور کہا کہ نوید مرزا کی شاعری نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہے اور ان کی بہتر تربیت کا وسیلہ ہے۔

انہوں نے اقبال کی شاعری اور نظریات کی شرح کو آسان اور عام فہم زبان میں پیش کیا ہے ورسٹائل اداکار اورشاعر راشد محمود نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کی نوید مرزا سے ملاقات اپنے دوست محمد نعیم مرتضی کے توسط سے ہوئی وہ نہ صرف ایک اچھے شاعر ہیں بلکہ اعلیٰ ادیب بھی ہیں۔

انہوں نے ’شرح شکوہ و جواب شکوہ ‘‘ لکھ کر اقبال کی شاعری کو سمجھنے میں آسانی پیدا کر دی ہے۔ جس کے لیے وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔ راشد محمود نے کہا کہ نوید مرزا ایک درد مند انسان ہیں انھوں نے سانحہ پشاور کی یاد میں بچوں کے لیے ناول ’’زندہ ہیں شاہین‘‘ لکھ کر ایک تاریخ رقم کر دی ہے جو بلا شبہ بڑا کام ہے۔

معرف شاعر اکرم سحر فارانی نے کہا کہ نوید مرزا سے میری پہلی ملاقات 1990ء میں شاعر درویش بشیر رحمانی کے حجرے میں ہوئی جہاں استاد الشعراء علامہ ذوقی مظفر نگری مرحوم بھی تھے جو غزل کہہ رہے تھے اور بشیر رحمانی ان کے اشعار زینت قرطاس کر رہے تھے۔

اس وقت نوید مرزا کی ایک کتاب ’’ٹھنڈا سورج‘‘ شائع ہو چکی تھی۔ وہاں نوید مرزا ایک سامع کی حیثیت سے موجود تھے اور اسی ماحول میں نوید کے ادبی سفر کا آغاز ہوا۔ نوید مرزا مشرقی اقدار کا ذہین اور زندہ روایات کا وارث شاعر ہے۔ اس نے ذہنی پختگی اور جذباتی صحت مندی کے ساتھ غزل کے کینوس کو نئی نئی تصویروں سے آراستہ کیا ہے۔

معروف شاعرو ادیب محمد ممتاز راشد لاہوری نے کہا کہ نوید مرزا کا شعری سفر ان کے سامنے شروع ہوا انھوں نے بچوں کے لیے بھی اعلیٰ ادب تحلیق کیا۔ (روبرو محبت ہے‘‘ کے پہلے ایڈیشن پر بھی راشد صاحب نے مضمون لکھا تھا اور ریڈیو پر تبصرہ بھی کیاتھا) انھوں نے مزید کہا کہ ’’شرح شکوہ جواب شکوہ‘‘ لکھ کر نوید مرزا نے نئی نسل کی رہنمائی کی ہے اور ہمارے لیے تفہیم اقبال میں آسانی پیدا کر دی ہے۔

شاعر قاری صادق جمیل نے کہا کہ نوید مرزا کا شعری سفر میرے سامنے ہی شروع ہوا جب اپنے والد بزرگوار بشیر رحمانی صاحب کے ساتھ شعری محفلوں میں آنا شروع کیا تو اس نے لاہور کینٹ اور مغل پورہ میں ہونے والے مشاعروں میں تیزی سے اپنی جگہ بنائی جہاں شہزاد احمد، علامہ بشیر زرمی، اظہار شاہین اختر روحانی اور دیگر بزرگ شاعروں کے درمیان رہ کر بہت کچھ سیکھا اور آج اسے ادب اور صحافت کے میدان میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔

نوید مرزا نے اپنی گفتگو میں تقریب کے منتظمین جاوید صدیق بھٹی اور سید عارف نوناری کا شکریہ ادا کیا اور مختصراً اس تقریب اورمشاعرے کے حوالے سے بات چیت کی انہوں نے صدر مجلس جناب ابصار عبدالعلی اور مہمانان خصوصی کے علاوہ شعراء مقررین کا بھی شکریہ ادا کیا اور اپنے کلام سے نوازا اور حاضرین سے داد وصول کی۔

کتابوں کی تقریب رونمائی کے آخر میں صاحب صدرابصار عبدالعلی نے کہا کہ نوید مرزا ایک شاعر اور ادیب کی حیثیت سے جانے پہچانے ہیں۔ وہ امکانات سے بھری شاعری کرتے ہیں۔ ’’روبرو محبت ہے‘‘ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

’’شرح شکوہ جواب شکوہ‘‘ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کلام اقبال کی آسان شرح لکھ کر نوید مرزا نے آنے والی نسلوں پر احسان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے بچوں کے لیے بھی اعلیٰ ادب تخلیق کیا جس کے لیے وہ مبارک باد کے مستحق ہیں اس تقریب میں سازو آواز کا بھی اہتمام تھا معروف گلوکاروں نے نوید مرزا کی غزلوں کو بھی اپنی خوبصورت آواز میں پیش کر کے ڈھیروں داد وصول کی۔ آخر میں مہمانوں کی تواضح چائے اور دیگر لوازمات سے کی گئی۔ تقریب میں حاضرین کی خاصی تعداد شریک ہوئی۔

مزید : رائے /کالم