بلوچستان کی نئی حکومت جلد تشکیل دیں

بلوچستان کی نئی حکومت جلد تشکیل دیں

نواب ثناء اللہ زہری کے استعفے کے بعد نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کی کوششیں جاری ہیں، تاہم بلوچستان کے سیاسی افق پر غیر یقینی کے بادل بدستور گہرے ہیں کیونکہ کسی بھی جماعت کو اسمبلی میں اکثریت حاصل نہیں اور سنگل لارجسٹ پارٹی مسلم لیگ ن میں بغاوت کی کیفیت ہے، مسلم لیگ ن نے اپنے وزیراعلیٰ کو استعفے پر آمادہ کرکے ایک ایسا سیاسی فیصلہ کیا ہے جس کے بعد ارکانِ اسمبلی نیا وزیراعلیٰ منتخب کرنے میں آزاد ہیں، اہم بات یہ ہے کہ کیا مسلم لیگ ن کے منحرف ارکان کسی ایسے امیدوار کی حمایت کریں گے جسے مسلم لیگی قیادت نامزد کرے گی، یا باغی ارکان اپنی مرضی کا وزیراعلیٰ لانا چاہیں گے، اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ استعفے کا عمل خوش اسلوبی سے طے ہوا اور یہی جمہوری طریقہ ہے۔

اگر کسی وزیراعلیٰ کو ایوان کے اندر اپنی ہی جماعت کی حمایت حاصل نہ رہے تو محض اتحادی جماعتوں کے تعاون سے کب تک حکومت چلائی جاسکتی ہے، اس لئے تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنے سے بہتر سیاسی طرز عمل یہی تھا کہ وزیراعلیٰ استعفا دے دیتے تاہم اب جو امیدوار میدان میں ہیں ان میں سے وزارت علیا کا تاج کس کے سر پر سجتا ہے اس پر مشاورت کا عمل جاری ہے، اس صوبے کی سیاست میں متلّون مزاجی ہمیشہ سے رہی ہے اسلئے ماضی میں بھی وزرائے اعلیٰ کو عدم اعتماد کی تحریکوں کا سامنا رہا اور زیادہ تر وزرائے اعلیٰ اپنی مدت پوری نہ کرسکے، فی الوقت نواب ثناء اللہ زہری کے استعفے کے فیصلے سے بلوچستان کی بے چینی دوسرے صوبوں تک پھیلنے سے وقتی طور پر رک گئی ہے اور اگر نیا وزیراعلیٰ خوش اسلوبی سے منتخب ہوگیا تو سیاسی عمل آگے کی طرف چل پڑے گا، بہتر تو یہی ہے کہ اسمبلی کا ایوان اگر اتفاق رائے سے نہیں تو اکثریت کے ساتھ وزیراعلیٰ کا فیصلہ کرلے کیونکہ اسمبلی کی مدت بھی اب پانچ ماہ سے کم رہ گئی ہے وزیراعلیٰ بھی اتنی ہی دیر تک اپنے عہدے پر فائز رہ سکے گا۔ اسلئے کسی ایسے امیدوار کے نام پر اتفاق رائے ہونا چاہئے جو اسمبلی کی باقی ماندہ مدت کو کامیابی کے ساتھ اس کے منطقی انجام تک لے جائے۔

مارچ میں سینیٹ کے انتخابات بھی ہونے والے ہیں یہ مرحلہ بھی خوش اسلوبی سے طے پا جائے تو انتخابات کے بارے میں جو شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں وہ اگر پوری طرح ختم نہیں بھی ہوتے تو کم ضرور ہوجائیں گے۔ مسلم لیگ ن کو اپنا وزیراعلیٰ لانے پر اصرار نہیں ہے، اور اگر اپوزیشن جماعتیں اپنا وزیراعلیٰ بنا سکتی ہیں تو بنا لیں، اب یہ ایوان کا امتحان بھی ہے۔ پہلے بھی اس نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کیا تھا اور اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے دوسری جماعتوں کے ساتھ تعاون کا جو فیصلہ کیا تھا اس کے تحت ڈاکٹر عبدالمالک کو وزیراعلیٰ بنایا گیا جن کا تعلق نیشنل پارٹی سے تھا، وہ ڈھائی سال تک اس عہدے پر فائز رہے، مدت کی تکمیل کے بعد انہوں نے استعفا دیدیا جن کی جگہ نواب ثناء اللہ زہری وزیراعلیٰ بنے لیکن بد قسمتی سے وہ دو سال ہی نکال سکے اور اپوزیشن جماعتوں نے ان کی اپنی جماعت کے ارکان کو استعمال کرکے ان کے خلاف تحریک عدمِ اعتماد پیش کردی جس کے بعد انہیں استعفا دینا پڑا، ثناء اللہ زہری بلوچستان کے نواب ہیں شاید یہی وجہ تھی کہ ان کے ارکانِ اسمبلی کے ساتھ قریبی تعلقات نہ بن سکے اور انہیں شکایات پیدا ہوئیں۔ اس صوبے میں عمومی طور پر ایسے ہی حالات میں وزرائے اعلیٰ رخصت ہوتے رہے ہیں اس لئے تازہ معاملے کو بھی کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں سمجھنا چاہئے، البتہ سینیٹ کے مڈٹرم الیکشن قریب آجانے کی وجہ سے اسے اس پس منظر میں دیکھا جارہا ہے کہ یہ کہیں انتخابات کو ملتوی کرانے کی سازش تو نہیں۔ اب اگر اسمبلی مدت پوری کرتی ہے تو امکان ہے کہ سینیٹ کے اتنخابات بھی اپنے وقت پر ہوجائیں گے۔

اپوزیشن جماعتوں نے نواز شریف کی یہ پیش کش قبول نہیں کی کہ وہ وزارتِ علیا کے لئے اپنا امیدوار لے آئیں، اپوزیشن کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کا حصہ نہیں بننا چاہتی اسلئے مسلم لیگ کو اپنا امیدوار لانا چاہئے، اپوزیشن اپنا کردار ادا کرتی رہے گی تاہم جہاں ضروری ہوگا حکومت کے ساتھ تعاون کیا جائیگا اور کسی غیر جمہوری عمل کی حمایت نہیں کی جائیگی اور نہ ہی نئی حکومت کو گرنے دیا جائیگا۔ اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالواسع کا کہنا تھا کہ حکومت کو تبدیل کرکے حکومت میں نہ جانا اصول کی تابعداری ہے، ہم حکومت اور وزارتیں نہیں چاہتے اقتدار کی نہیں، اقدار کی سیاست کرتے ہیں، اختر مینگل کا بھی یہی کہنا تھا کہ اگر کسی غیر آئینی طریقِ کار کا استعمال کیا گیا تو اپنا فیصلہ جمہوریت کو بچانے کے لئے کریں گے۔ یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ بلوچستان کی اپوزیشن جماعتیں جمہوریت کے ساتھ ہیں اور کسی غیر جمہوری اقدام کی حمایت نہ کرنے کا برملا اعلان کررہی ہیں یہ جذبہ جمہوریت کے لئے نیک شگون ہے، حکومت کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کرکے بھی اپوزیشن جماعتوں نے ثابت کردیا ہے کہ وہ اقتدار کی خاطر وزیراعلیٰ کی تبدیلی نہیں چاہتی تھیں، اگر اپوزیشن جماعتیں اپنے اس اعلان پر قائم رہتی ہیں اور یہ ثابت کرتی ہیں کہ ان کی تحریک عدم اعتماد کی سرگرمی کا مقصد نہ تو اسمبلی کا خاتمہ تھا اور نہ ہی وہ سینیٹ کے الیکشن میں کوئی رکاوٹ کھڑی کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں، ان کا مقصد اگر ثناء اللہ زہری کو ہٹانا تھا تو ان کے استعفے سے یہ مقصد پورا ہوچکا ہے۔

بلوچستان میں 2013ء کے انتخاب کے بعد سے اب تیسری حکومت بننے جارہی ہے، توقع کرنی چاہئے کہ اب جو بھی وزیراعلیٰ آئیگا وہ جمہوریت کی مضبوطی میں اپنا کردار ادا کرے گا، اور باقی ماندہ مدت کے لئے کسی نئے تجربے کی ضرورت نہیں پڑے گی، اب اصل اہمیت اس بات کو حاصل ہوگی کہ صوبے کو جو مسائل درپیش ہیں خصوصاً دہشت گردی کسی بھی طرح کنٹرول نہیں ہورہی۔ ان کا حل تلاش کیا جائے، نئے وزیراعلیٰ کو بھی اپنی ترجیحات میں سب سے اوپر دہشت گردی کے مسئلے کو رکھنا چاہئے، صوبے میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر بھی دہشت گردی ہوتی رہتی ہے اور مسلک کے اختلاف کی بنیاد پر بھی لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا جاتا ہے اور بعض اوقات صوبائی عصبیت بھی اس کا باعث بنتی ہے، گزشتہ دنوں پنجاب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو جو بیرون ملک جانے کے لئے انسانی سمگلروں کے ظلم کا نشانہ بنے ہوئے تھے گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا۔ ہزارہ قبیلے کے لوگ بھی بہت عرصے سے دہشت گردی کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ یہ سارے مسائل ایک مضبوط حکومت ہی حل کرسکتی ہے جس کی ٹانگیں نہ کھینچی جائیں توقع ہے صوبے اور ملک کے بہترین مفاد میں نئی حکومت تشکیل دی جائیگی جو دلجمعی سے مسائل کے حل پر توجہ دے سکے۔

مزید : رائے /اداریہ