یکساں نظام تعلیم اور ایک ’’کتاب‘‘ ایک یونیفارم کی تجویز

یکساں نظام تعلیم اور ایک ’’کتاب‘‘ ایک یونیفارم کی تجویز

پاکستان سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ عام آدمی کے بچوں کے لئے نظام تعلیم میں واضح فرق موجود ہے جبکہ نظام تعلیم میں یکسانیت کی اشد ضرورت ہے انہوں نے تجویز پیش کی کہ اگر ملک میں ایک کتاب اور ایک یونیفارم کا نظام رائج کیا جائے تو بچوں کی تعلیم میں تفریق ختم ہوسکتی ہے، چیف جسٹس ثاقب نثار نے ان ریمارکس اور تجویز کا اظہار تین رکنی بنچ کے روبرو نظامِ تعلیم کے حوالے سے از خود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے کیا، یکساں نظام تعلیم کے ساتھ ساتھ ایک کتاب ایک یونیفارم کی تجویز اپنی جگہ بڑی اہمیت کھتی ہے، جہاں تک یکساں نظام تعلیم کی بات ہے قیام پاکستان کے موقع پر یکساں نظام تعلیم موجود نہیں تھا۔ انگریز کے دیئے ہوئے تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ مدرسوں کے ذریعے دینی تعلیم کا سلسلہ چل رہا تھا بعد میں انگلش میڈیم اور اردو میڈیم کا فرق بڑی شدت سے سامنے آیا تو انگلش کو بہت زیادہ اہمیت حاصل رہی، نصف صدی کے بعد وطن عزیز میں اردو میڈیم اور ٹاٹ سکولوں کی ’’اپ گریڈیشن‘‘ کی طرف حکومت اور نجی سکول مالکان نے توجہ دینا شروع کی یعنی اب تک ہمارے ہاں تین نظام تعلیم (دینی مدارس سمیت) رائج ہیں۔ اس وجہ سے تعلیمی معیار اور مسائل کا سلسلہ لازم و ملزوم ہوکر رہ گیا ہے، حکومتی کوششوں سے پنجاب میں نظام تعلیم کو بہتر بنانے اور طالب علموں کی تعداد میں اضافے اور انہیں زیادہ سہولتیں دینے کے لئے سب سے زیادہ توجہ دی گئی ہے، سندھ اور کے پی کے میں بھی ’’اپ گریڈیشن‘‘ کے نعرے کے ساتھ نظام تعلیم میں بہتری لانے کے لئے بجٹ میں تو زیادہ رقم مختص کی جاتی ہے لیکن حکومت مخالف حلقوں کا کہنا ہے کہ ساری رقم خرچ نہیں کی جاتی، کرپٹ مافیا بیشتر بجٹ ہضم کرلیتاہے، یہ صورت حال بلوچستان میں بھی ہے۔اس وقت پورے ملک میں تین کروڑ بچے سکول نہیں جارہے ہیں، اور جہاں سکولوں میں حاضری موجود ہے، وہاں بیشتر سکولوں میں جدید نظام اور دیگر سہولتیں غائب ہیں۔ مختلف نظام تعلیم ہی کا مسئلہ پریشان کن نہیں، بھاری بستے اور بیگ کی وجہ سے بھی بچوں کو اذیت اور بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ نصابی کتب کے ساتھ ساتھ الگ الگ اور مہنگے یونیفارم کا فیشن بھی طالب علموں اور ان کے والدین کے لئے مالی بوجھ بنا ہوا ہے۔ ماضی میں نظام تعلیم میں بہتری اور یکسانیت لانے پر توجہ نہ دینے سے جو پریشان کن صورتحال پیدا ہوچکی ہے، اس کی بہتری کے لئے تو بہت زیادہ اور زور دار نعرے لگائے جاتے ہیں جبکہ عملی طور پر موثر اقدامات نہ ہونے سے ماضی کی محرومیوں اور تکالیف میں زیادہ کمی نہیں لائی جاسکی۔ نظام تعلیم میں جدید تقاضوں کے مطابق پانچ سال سے سولہ سال تک کی عمر کے طالبعلموں کو تعلیم کی سہولت مہیا کرنا حکومت کا فرض ہے۔ ہمارے ہاں اس کے لئے بعض صوبوں میں نعروں کی حد تک کام ہوا ہے، جہاں عملی طور پر کچھ کام ہوا ہے وہاں ’’ڈنگ ٹپاؤ‘‘ رویے کی وجہ سے وہ بہتری نہیں آسکی، جس کی عام طور پر حکومت دعوے کرتی ہے، نظام کی خرابیوں اور نمایاں تفریق کی وجہ سے درپیش ملکی مسائل کو حل کرنے میں بہت دشواری ہورہی ہے۔ تعلیمی نظام کے پوری طرح معیاری نہ ہونے کے باعث لوگوں کے ذہنوں میں قانون کے احترام کو مکمل طور پر جگہ نہیں مل سکی۔ لوگ طاقتور اور ڈنڈے کا احترام ہی کرتے ہیں اور اس کی بات بھی مانتے ہیں۔ قانون کی حکمرانی قائم نہ ہونے سے معاشرتی بگاڑ کو درست کرنے کی رفتار بہت سُست ہے۔ اس سلسلے میں قانون سازی کا کام بھی ضرورت کے مطابق نہیں کیا جاسکا۔ اس طرف زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان حالات میں چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار کی طرف سے یکساں نظام تعلیم کو اہمیت دینے کی بات وقت کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جبکہ ایک کتاب اور ایک یونیفارم کی تجویز بھی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کی تائید ہونی چاہئے، حکومتی سطح پر اس تجویز کو جلد اور موثر طور پر عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرنی چاہئے، صرف پہلا مشکل اور بنیادی قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔

مزید : رائے /اداریہ