حالات سے فرار اور علیم ڈار کا ایڈونچر!

حالات کا دباؤ ہے ہر کوئی محسوس کرتا ہے تاہم بعض حضرات مضبوط دل اور ذہن کے ہوتے اور ان کی قوت برداشت بھی زیادہ ہوتی ہے، ایسے حضرات تو ہنس کر بھی بات ٹال جاتے ہیں۔ مسئلہ ہم جیسے کمزور لوگوں کے لئے ہوتا ہے جن کو ہر بات خطرہ محسوس ہونے لگتی ہے اور پھر اس سے راہ فرار حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

آج بھی کچھ ایسی ہی کیفیت ہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے ذہن پر بوجھ چلا آرہا ہے ایسے میں اگر کسی عزیز، دوست کی طرح سے چند لمحے تفریح کے لئے میسر آ جائیں تو انہیں غنیمت ہی جاننا چاہئے۔ علیم ڈار ایک بڑا نام ہے۔ کرکٹ کی دنیا میں نیک نام۔ ذہین اور دیانت دار شخصیت ہیں۔

ان کے بھائیوں میں سے وسیم ڈار کے ساتھ سیر صبح کی دوستی ہے اور وہ پارک کی ناشتہ پارٹی کے بھی رکن ہیں۔ دو چار دن سے وہ بتا رہے تھے کہ علیم ڈارکے جوہر ٹاؤن والے پلاٹ پر ایک شاندار ریسٹورنٹ بنا دیا گیا ہے اور اس کا افتتاح بھی ہوگیا ہے۔

ان کی طرف سے وہاں آنے کی دعوت تھی۔ ہم نے سوچا چلو اسی بہانے یہ اندازہ ہوگا کہ علیم ڈار جیسی شخصیت کرکٹ کے ساتھ ایسا کاروبار شروع کرے تو اس کی کیا صورت ہوگی۔ منگل کی شام دفتر سے کام نمٹاکر گھر گئے اور بچوں کے ساتھ جوہر ٹاؤن کا رخ کیا۔


ہم عرصہ سے خود کو محدود کئے ہوئے ہیں زیادہ تر دفتر اور گھر وقت گزرتا ہے یا پھر کسی دوست یا پریس کلب کی طرف سے کسی پروگرام میں شرکت لازم ہو تو چلے جاتے ہیں اس لئے شہر میں ہونے والی تبدیلیاں نظر میں نہیں آتیں۔

حالانکہ یہاں ہر روز کوئی نہ کوئی تبدیلی ہوتی رہتی ہے (معاف کیجئے گا۔ یہ تبدیلی تحریک انصاف یا چیئرمین عمران والی نہیں۔ معاشرتی ہے) پہلے تو ہمیں روز مرہ کے اہم مسئلے ٹریفک جام سے واسطہ پڑتا ہے تو شہر کی بڑی بڑی سڑکوں کو ناکافی دیکھتے ہوئے بہت تکلیف ہوتی ہے کہ بے ہنگم اور سڑکوں پر پارکنگ ٹریفک جام کا ذریعہ بنتی ہے اور اگر چلتی رہے تو رفتار بہت ہی کم ہوتی ہے، چنانچہ یہ دعوت قبول کرتے ہوئے ہمیں ذاتی طور پر بعض نئے منظر دیکھنا پڑے کہ جونہی ڈاکٹر ہسپتال سے آگے جاکر جوہر ٹاؤن کی طرف مڑے ایک نئی دنیا نظر آنا شروع ہو گئی۔

کمرشل ایریا تو منظور شدہ ہے وہ تو سامنے آیا اور ہر نوع، ہر قسم کے کاروبار والی دوکانیں اور دفتر بھی نظر آئے یوں بہت ہی بارونق علاقہ ہوگیا اور یہ گزشتہ پانچ، دس سالوں کے دوران ہی ہوا ہے۔ جیسے جیسے آگے بڑھتے چلے گئے یہ سلسلہ بھی دراز ہوتا چلا گیا۔

ہر نوع ہر قسم کے کاروبار کی دوکانیں تھیں تاہم ان میں نمایاں کھابے والے ڈیرے اور ریسٹورنٹ تھے یوں محسوس ہوتا تھا کہ لاہوریوں کو کھانے اور سیر کرنے سے فرصت نہیں اور وہ اچھی اچھی کاریں رکھنے کے بھی شوقین ہیں، ایسی مارکیٹوں سے اندازہ تو یہ ہوتا ہے کہ یہاں غربت نام کی کوئی شے نہیں۔


ہم نے اس کا اظہار کیا تو ہمارے ہی صاحبزادے عاصم چودھری نے اپنی علمیت دکھائی اور بولے! یہ مصنوعی ویلتھ ہے جو بنکوں کی مرہون منت ہے اور پھر یہ سب شہروں میں ہے۔

ذرا ہٹ کر دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سب شو بازی ہے۔ بہر حال یہاں تو دولت اور خوشحالی ہی نظر آتی تھی کہ لوگوں کو پارکنگ کے لئے جگہ نہیں مل رہی تھی یوں بھی کھابے کی اتنی بڑی تجارت اور گاہگی بھی دلچسپ ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ علیم ڈار نے ہوا کے رخ کا اندازہ لگایا اور پہلے سے خریدے گئے پلاٹ پر یہ ایڈونچر کر ڈالا، بہر حال صاحبزادے کی ڈرائیونگ نے ’’ڈارز ڈیلائٹو‘‘ پہنچا دیا باہر سے ہی نظر ڈالی تو عمارت ہی جاذب نظر تھی اورپھر باورچی خانہ ایک طرف ہونے کے باوجود باہر سے بھی نظر آرہا تھا اور کارکنوں کو کام کرتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے برادرم وسیم ڈار نے استقبال کیا اور پھر پوری عمارت کی سیر کرائی جسے بڑی اہلیت اور خوبصورتی سے ڈیزائن کیا گیا تھا، پوچھا کہ آرکیٹیکٹ کون ہے تو بتایا گیا کہ خود ہی بھائی ہیں اور باہمی مشاورت سے یہ نقشہ بن گیا۔

ہر شے صاف ستھری اور انتظامات بھی بہتر تھے بقول وسیم ڈار یہ اس لئے بھی ہے کہ ان کے ساتھ خاندان کے اور افراد بھی ڈیوٹی دے رے ہیں، پوچھا کہ علیم ڈار کو کیا سوجھی؟ تو بتایا گیا کہ یہ منصوبہ بھائیوں اور رفاہ عام کے لئے بھی ہے کہ علیم ڈار نے منافع کی صورت میں رقم کو فلاحی کاموں پر ہی خرچ کرنے کی ہدائت کی ہے، برادرم کے مطابق اب تک یہاں نامور کرکٹر سے لے کر اعلیٰ سرکاری افسروں تک آتے رہتے ہیں۔


بہر حال پر سکون ماحول، نفیس ڈائننگ ہال اور بااخلاق ملازمین آنے والوں کے لئے سہولت پیدا کررہے تھے، بچوں نے اپنی پسند سے خوراک کا آرڈر دیا ہمارے لئے خوشنما حیرت یہ تھی کہ ہر شے تازہ اور گرم دکھائی دی۔

کھانا یقیناً اعلیٰ معیار کا تھا، ہمیں بتایا گیا کہ سب کچھ تازہ ہی تیار کیا جاتا ہے کہ مصالحہ وغیرہ بنارکھا ہوتا ہے، آرڈر پر اسی سے تازہ تازہ خوراک تیار ہو جاتی ہے، اس کا تجربہ جھینگوں کی ڈش سے ہوا کہ اسے تیار ہوتے آنے میں کچھ وقت تو لگا لیکن ذائقہ بہت اچھا تھا، اسی طرح باقی خوراک بھی تھی، وسیم ڈار کے مطابق ماحول کو بہتر رکھنے کے ساتھ معیار کا بھی خصوصی خیال ہے اور یہاں ہر نوعیت کے سالن کی جدید ڈشیں بھی مل جاتی ہیں، علیم ڈار کا یہ جذبہ کہ منافع ہو تو اللہ کے نام پر ایک خاص حصہ خرچ کیا جائے، مستحسن ہے، علیم ڈار جو آئی، سی،سی کے ایلیٹ پینل والے امپائر ہیں، ان دنوں بھی کھیل کے میدان میں مصروف ہیں اور فیصلے دے رہے ہیں، کھلاڑی آؤٹ ہوتووہ بائیں ہاتھ کی انگلی سے آؤٹ قرار دیتے ہیں، اس کی توضیح یہ ہے کہ دائیں ہاتھ کی انگشت شہادت ہے، امپائر بھی انسان ہے اس سے غلطی ممکن ہے اس لئے بایاں ہاتھ ہی استعمال کرتے ہیں ان کی یہ بات درست کہ آج کے جدید دور میں کمپیوٹر کی مدد سے ٹی وی امپائر کا جو نظام ہے اس میں بھی سب سے کم ترغلطی کرنے والے امپائر ہیں، بہر حال خوشگوار اور اچھا وقت گزرا تھوڑا معمول سے ہٹ گئے تھے۔جذبہ نیک ہے، اللہ استقامت دے۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...