ایک اور دھرنا۔۔۔گھر پھونک ، تماشا دیکھ!!

ایک اور دھرنا۔۔۔گھر پھونک ، تماشا دیکھ!!
ایک اور دھرنا۔۔۔گھر پھونک ، تماشا دیکھ!!

  

علامہ طاہر القادری کی قیادت میں متحدہ اپوزیشن نے 17جنوری سے حکومت مخالف تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ علامہ نے یہ اعلان کرتے ہوئے اپنا پرانا ڈائیلاگ بھی دہرایا ہے کہ ’’ اب استعفے مانگیں گے نہیں ، زبر دستی لیں گے ۔

‘‘واضح رہے کہ پہلے علامہ نے 31دسمبر کی ڈیڈ لائن دی تھی کہ حکومت از خود مستعفی ہوجائے، پھر 30دسمبر کے اجلاس میںیہ ڈیڈ لائن 7جنوری کر دی گئی اور اب 8جنوری کے اجلاس میں 17جنوری کی حتمی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔

مبینہ طور پر بار بار ڈیڈ لائن آگے بڑھانے کی وجہ یہ تھی کہ قادری صاحب حسبِ سابق ’’معاملات‘‘طے کرنے کی کوشش کرتے رہے، لیکن جب ان کے ’’ مطالبات‘‘ پورے نہ ہوئے تو انھوں نے یہ پتا پھینکا ہے۔

یہ بات بھی معنی خیز ہے کہ جب یہ اہم اعلان کیاجا رہا تھا تو آصف علی زرداری ، عمران خان اور سراج الحق سمیت کسی نمایاں اتحادی جماعت کا کوئی مرکزی رہنماء علامہ کے دائیں بائیں موجود نہیں تھا ۔

اس سے اعلان کردہ ڈیڈ لائن کی ’’اہمیت‘‘ کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ تمام ’’ مقتدیوں ‘‘ کا اپنے ’’ امام ‘‘کی اس بات پر بھی اختلاف سامنے آچکا ہے کہ’’ کوئی پارٹی دھرنے یا احتجاجی جلوس میں اپنا جھنڈا نہیں لہرائے گی ۔

‘‘ اتحادیوں کے خیال میں اس طرح سارا ’’کریڈٹ ‘‘علامہ کو چلا جائے گا۔ گویا ان غیر فطری اتحادیوں کا ایک بڑا ہدف کریڈٹ اورنمبرنگ یا’’ ریٹنگ اور ٹی آر پی‘‘ کا حصول بھی ہے۔

پارلیمان میں موجود حزب اختلاف کی ان تمام سیاسی جماعتوں کا مقصود یہ ہے چونکہ پارلیمان میں مسلم لیگ ن کی عددی برتری کے باعث وہ حکومت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے لہٰذا حکومت کو گرانے کے لئے انھوں نے طاہر القادری کو آگے لگا کر اپنی اپنی سیاست چمکانے اور حکومت کوٹف ٹائم دینے کے لئے نمبر گیم اور پارلیمان سے باہر نکل کر ایک مشترکہ دھکا دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسرے الفاظ میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ 2014ء کے دھرنے میں جس مقام اور جس کیفیت میں عمران خان اور طاہرالقادری کھڑے تھے ، اب ان کے ساتھ مزید کچھ جماعتیں پیپلز پارٹی ، جماعت اسلامی، مسلم لیگ ق اور پاک سر زمین پارٹی بھی شامل ہو گئی ہیں۔ِ

شریف خاندان کی مخالفت نما دشمنی میں اب یہ اتحاد تو جیسے تیسے ہوگیا ،چونکہ جھنڈا نہ لہرانے کے فیصلے سے ان جماعتوں کو اپنی موجودگی اور قوت کے اظہار کا موقع نہیں ملے گا، لہٰذا اس غیر فطری اتحاد کا پہلا اختلاف اسی بات پر سامنے آچکا ہے۔

اس بات میں کوئی کلام نہیں کہ کسی بھی معاملے پر احتجاج کرنا ہر پاکستانی کا بنیادی جمہوری حق ہے، لیکن اس ضمن میں بھی آئین و قانون میں حدود متعین کر دی گئی ہیں۔ یہ بات بہر صورت محل نظر رہنی چاہئے کہ احتجاج کے نام پر پارلیمنٹ ، سپریم کورٹ ، غیرملکی سفارتخانوں کا گھیراؤ کرنا ، پی ٹی وی اور دیگر قومی املاک پر حملہ کرنا، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر فائرنگ ، پتھراؤ، لاٹھی چارج کرنا ، عوام کے جان و مال کو نقصان پہنچانااور اہم شاہراہوں کو بند کرنا ، آئین اور قانون میں کسی طور جائز نہیں ہے،لیکن کیا کریں کہ ان ’’ پیراشوٹرز ‘‘ کا ، جوعوامی مینڈیٹ کو بلڈوز کر کے ڈائریکٹ پیرا شوٹ کے ذریعے تختِ شاہی پر نزول کی خواہش رکھتے ہیں ۔

پیرا شوٹرز کی یہ محدود اقلیت جب واضح اکثریت پر غالب آنے کے لئے ہر جائز و ناجائز ہتھکنڈہ استعمال کرتی ہے تو در حقیقت اس عمل میں ایک آمرانہ سوچ کا ر فرما ہوتی ہے۔ یہ اقلیتی سوچ اس غلط فہمی کا شکار ہوتی ہے کہ وہ درست ہے اور اکثریت کی حامل قوت غلط ہے۔

طاہر القادری اسی آمرانہ سوچ کے علمبر دار ہیں۔ حصولِ اقتدار کے جنونی جذبہ اور نفسانی خواہش نے ان کی اس آمرانہ سوچ کو دو دھار ی تلوار بنا دیا ہے۔ علامہ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ عوام کے اندر ان کی پذیرائی نہیں، اس لئے ووٹ کی طاقت سے وہ کبھی بر سرِ اقتدار نہیں آسکیں گے ، لہٰذا انھوں نے ’’ شارٹ کٹ ‘‘ کی ہر تھیوری کو آزمانے کا تہیہ کر رکھا ہے۔

اس کے لئے ان کو دھرنے دینا پڑے، لاشوں کی سیاست کرنا پڑی، مذہب کو سیاست کے لئے استعمال کرنا پڑا ، سکہ بند کرپٹ لوگوں اور جماعتوں سے اتحاد کرنا پڑا ، قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے خلاف جلاؤ گھیراؤاور مارپیٹ کرنی پڑی،قومی اداروں کو بے بنیاد الزامات لگا کر بد نام کرنا پڑا، عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ پر تبرا بازی کرنا پڑی ، عوام کے منتخب کردہ وزیر اعظم اور اراکین اسمبلی کی قبریں کھودنا پڑیں ، الطاف حسین جیسے غدارِ وطن سے اتحاد کرنا پڑا ، سادہ لوح اور عفت مآب خواتین کو فوجی تربیت دے کر ڈھال کے طور پر استعمال کرنا پڑا۔ انھوں نے یہ سب کیا ، کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔

ان کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ امریکا دہشت گردی کی جنگ میں شہید ہونے والے 70ہزار پاکستانیوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر پرویز مشرف اور آصف علی زرداری کی حکومتوں کو دئیے ہوئے 33ارب ڈالرکا حساب مانگ رہا ہے اور پاکستان کی فوجی امداد بند کر چکا ہے۔

قادری صاحب کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ ہماری مشرقی اور مغربی سرحدیں حالتِ جنگ میں ہیں۔علامہ کو کوئی فکر نہیں کہ پاکستان کی معیشت ان دھرنوں ، غیر یقینی صورتحال ، سازشوں ، جلاؤ گھیراؤ اور مفاد پرستیوں کی وجہ سے کس تیزی سے روبہ زوال ہے۔

وہ اس احساس سے بھی محروم ہیں کہ ملک کے اندرامن و امان کی صورت حال کس قدر مخدوش ہے اور پاکستان کے دشمن ان کے ایسے غیر جمہوری اقدامات سے کتنا فائدہ اٹھاتے ہیں۔موصوف کے دماغ میں بس ایک ہی سودا سمایا ہوا ہے کہ انھوں نے کسی بھی طرح شریف خاندان کو اقتدار سے الگ کرنا ہے اور خود اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہونا ہے۔

اس کے لئے چاہے پورا ملک تاریکیوں میں پھر ڈوب جائے، ان کو ذرہ بھر پروا نہیں ، کیونکہ خدانخواستہ پاکستان پر کوئی کڑا وقت آیا تو ان کی اربوں روپے کی جائیدادیں کنیڈا اور برطانیہ میں موجود ہیں ، جہاں انھوں نے اپنی آل اولاد کے ساتھ واپس لوٹ جانا ہے۔

حصولِ اقتدار کی ہوس کے ساتھ حصولِ زر اور حصولِ شہرت کی ہوس بھی موصوف میں وافر پائی جاتی ہے۔شہرت کا فارمولا تو وہ آزما چکے ہیں ، جس کا برملا اظہاروہ اپنی نجی گفتگو میں اکثر فرماتے رہتے ہیں کہ ’’ جب تک امن سے اشاعتِ دین میں مصروف رہا ، کسی ٹی وی چینل کے نیوز بلیٹن میں میرا تذکرہ محال تھا ،تو کوئی اخبار بھی از خود میری دو کالمی خبر لگانے کا روادار نہیں تھا، لیکن جب سے ’’ڈنڈا‘‘ ہاتھ میں لیا ہے اور دھرنا سیاست شروع کی ہے، ہر اخبار اور ٹی وی چینل کی شہ سرخیوں اور نمایاں خبروں کی زینت بن گیا ہوں ۔‘

‘اب وہ اس مفت کی کوریج اور شہرت کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ ہر تھوڑے عرصہ کے بعد ان کے اندر موجود نام وری کی خواہش ان کو کچوکے لگاتی ہے اور وہ لَٹھ لے کر میدان میں نکل پڑتے ہیں۔ان کی حصولِ زر کی ہوس بھی اس دھرنا پالیٹکس سے خوب مٹ رہی ہے۔

اس ضمن میں علامہ موصوف نے چند روز قبل مختلف یورپی ممالک میں قائم منہاج القرآن کے ذمہ داران کو دھرنے کے لئے ایک ارب روپے چندہ جمع کرنے کا ٹاسک دیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے معتقدین بہت چندہ دیں گے، لیکن اس بات کا بھی قوی امکان موجود ہے کہ امریکا، انڈیا اور اسرائیل جیسے پاکستان دشمن ممالک غیر محسوس طریقے سے اس فنڈ میں بھر پور حصہ ڈالیں گے، تاکہ پاکستان میں انارکی ، خانہ جنگی اور عدم استحکام کا کام وہ بغیر ہاتھ پیر ہلائے اس حکومت مخالف تحریک اور دھرنے سے پورا کروا لیں۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس فارن فنڈنگ پر خصوصی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

علامہ طاہر القادری کی قیادت میں جاری ان تما م سرگرمیوں کاسر دست ایک نکاتی ایجنڈا ہے کہ مارچ سے قبل حکومت کو کسی بھی قیمت پر چلتا کیا جائے، تاکہ سینیٹ کے الیکشن نہ ہو سکیں۔تحریک لبیک یا رسول اللہ اور پیر آف سیال شریف کی سر گرمیوں کوبھی اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

اس تمام تر صورتحال میں دو باتیں واضح طور پر سامنے آئی ہیں کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی ایک جمہوری حکومت کے خلاف یہ سب جماعتیں ’’ جمہوریت بیزار‘‘ہونے کے ساتھ اس بات سے مایوس دکھائی دے رہی ہیں کہ عوام اب انھیں ووٹ نہیں دیں گے ۔اگر قادری صاحب اور دیگر جماعتوں کو جمہوریت اور عوام کی طاقت پر یقین ہوتا توجہاں ساڑھے چار سال گزار لئے وہاں چند ماہ اور صبر کر لیتے اور جنرل الیکشن میں ووٹ کی طاقت سے مسلم لیگ ن کو شکست دینے کے لئے محنت کرتے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ2013ء سے اب تک اپوزیشن کے تما م تر عدم تعاون کے باوجود مسلم لیگ ن کی بہترین کارکردگی نے ان تمام اتحادیوں کو عوام سے دور اور ’’ امپائر‘‘ کے قریب کر دیا ہے۔

دوسری چیز یہ واضح ہو کر سامنے آئی ہے کہ طاہر القادری کی قیادت میں جمع ہونے والی جماعتوں کو اعلیٰ عدلیہ پر اعتماد نہیں رہا ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ باقر نجفی رپورٹ کو عدالت میں لے کر نہیں جا رہے ۔

جس عدلیہ نے دو تہائی اکثریت سے منتخب ہونے والے مضبوط ترین وزیر اعظم کو محض’’ بلیک ڈکشنری ‘‘دیکھ کر نا اہل کر دیا ، اس طاقت ور عدلیہ کے پاس جانے سے قادری صاحب اور ان کے دیگر تما م اتحادی اس لئے گریزاں ہیں کہ باقر نجفی ررپورٹ میں صاف لکھا ہوا ہے کہ ’’ اس رپورٹ کو کوئی بھی اپنے حق یا مخالفت میں استعمال نہیں کر سکتا ۔

‘‘ یعنی جس رپورٹ کی بنیاد پر عرصہ سے پنجاب حکومت کے خلاف واویلا کیا جا رہا تھا ، وہ رپورٹ قادری صاحب کے حق میں بے اثر نکلی ہے۔مزیدبات یہ ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا کیس ابھی عدالت میں چل رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ جب یہ مقدمہ ایک عدالت میں چل رہا ہے، تو عدالتی فیصلہ آنے سے قبل انصاف نہ ملنے کا شور کیوں مچایا جا رہا ہے؟ یہ سراسر عدلیہ پر عدم اعتماد نہیں تو اور کیا ہے؟

ملک کے داخلی و خارجی محاذوں پر سکیورٹی اداروں کی اعلیٰ خدمات اورلازوال قربانیاں بلا شبہ قابل صد ستائش اور ناقابل فراموش ہیں مگر ان مذہبی پریشر گروپوں کے پے در پے دھرنوں نے ملک میں جاری آپریشن رد الفساد پر بھی بہت سے سوالات اٹھا دئیے ہیں۔

ان دھرنوں کے ذریعے جس طرح عوام کی نقل و حرکت بند کر کے استحصال کیا جاتا ہے، عوا م کو ذہنی اور جسمانی اذیت کا نشانہ بنا یا جا تا ہے، جس طرح عوام کے تعلیمی ، کاروباری ، تفریحی ، دفتری اور گھریلو معمولات کو درہم برہم کیا جاتا ہے، جس طرح ملک کی معاشی ، ترقیاتی اور تجارتی سرگرمیوں کا پہیہ جام کر کے ریاستِ پاکستان کو نقصان پہنچایا جا تا ہے، کیا یہ سب کچھ فساد کے زُمرے میں نہیں آتا؟

کیا ان پریشر گروپس کے ایسے اقدامات سے پاکستان دشمن ممالک کے ناپاک عزائم پورے نہیں ہوتے؟ یقیناًایسا ہی ہے، تو پھر ان پریشر گروپس کو بھی آپریشن رد الفساد کے دائرہ کار میں شامل کیوں نہیں کیا جاتا ؟جس طرح کراچی میں شورش کو دبانے کے لئے بہ امر مجبوری ایم کیو ایم میں کچھ گمراہ پاکستانیوں پر آپریشن لانچ کیا گیا ، جس طرح کے پی کے میں امن بحالی کے لئے پاکستانی قومیت کے حامل دشمن ملک کے آلہ کار مخصوص پشتونوں پر آپریشن لانچ کئے گئے، جس طرح فرقہ واریت کی آگ سرد کرنے کے لئے سنی شیعہ مسالک کے انتہا پسند وں کے خلاف آپریشن کیا گیا ، جس طرح بلوچستان کے باغی گروپس کے خلاف آپریشن جاری ہے، اسی طرح ملک میں سیاسی، معاشی و انتظامی عدم استحکام اور انارکی و بے یقینی پھیلانے والے ان مذہبی انتہاء پسند پریشر گروپس کے خلاف آپریشن رد الفساد کیوں نہیں کیا جاتا ؟

ہمیں ہر حال میں پاکستان کی داخلی و خارجی سا لمیت کو یقینی بنانا ہوگا۔ اگر داخلی فسادیوں کو ہم نے اسی طرح کھلی چھوٹ دئیے رکھی تو خارجی حملوں کا دفاع کرناہمارے لئے ممکن نہیں رہے گا۔

اسٹبلشمنٹ اور دیگر اداروں کی طرف سے محض یہ کہنا کافی نہیں ہوگا کہ ’’ ہم جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں‘‘، اب اس بات کو ’’ بروقت‘‘ سینیٹ اور جنرل الیکشن کا انعقاد یقینی بنا کر عملاًثابت بھی کرنا ہوگا۔

ہمیں جلد از جلد اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ ہم اپنے پیروں پر کلہاڑی مارتے ہوئے ملک کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے ایجنڈے سے ہٹ کر دھونس ، دھمکی ، دھرنے اور پریشر پالیٹکس جیسے بے ثمر تماشوں میں کیوں الجھ کر رہ گئے ہیں۔

اگر ہم نے اس بات کا احساس نہ کیا تو پھر ہمیں کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں پڑے گی، بلکہ ہم اپنی تباہی کے لئے خود ہی کافی ثابت ہوں گے۔ شائد ایسے ہی حالات کی ترجمانی کرتے ہوئے ممتاز شاعر آلِ رضا نے کہا تھا، ’’ گھر پھونک، تماشا دیکھ!!‘‘

مزید : رائے /کالم