پاکستانی مدد کے بغیر امریکن آرمی کی حالتِ زار(1)

ارادہ تھا کہ آج کسی ہلکے پھلکے موضوع پر لکھوں گا۔ قومی اور بین الاقوامی سطح کے موضوعات، ہرچند کہ بڑے معلوماتی ہوتے ہیں لیکن ان کی ڈکشن از راہِ جبر خشک اور بوجھل ہوجاتی ہے۔ ہر روز قورمہ کھانے کے بعد دل کرتا ہے کہ دال ساگ کی طرف دیکھا جائے۔ ایسی ہی ایک ڈش یہ بھی تھی کہ :’’ بچوں کو جھوٹ بولنے کی ترغیب دیجئے۔ یہ بڑے کام کی چیز ہے‘‘۔


بظاہر یہ موضوع اخلاقی اعتبار سے بڑا اشتعال انگیز ہے لیکن اس کے بعض پہلو حیرت انگیز حد تک فکر انگیز ہیں۔۔۔۔ میں اس پر لکھنے لگا تو جب آج صبح کے اخبارات دیکھے تو پاک امریکہ تعلقات پر ایک ایسا مضمون نظر آیا جو بڑا جاذبِ توجہ تھا۔ اس کا عنوان تھا : ’’ پاکستان سے نمٹنے کی ایک بہتر حکمتِ عملی‘‘۔

کئی بار پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ مودی کی مذہبی شدت پسندی کے باوجود بھارتی میڈیا میں کئی سنجیدہ اور حق شناس کالم نگار لکھ رہے ہیں کہ امریکہ سے دوستی اور پاکستان سے دشمنی ہمیں مہنگی پڑے گی۔

اس لئے ہوش کے ناخن لینے چاہیں اور اعتدال کی راہیں تلاش کرنی چاہیں۔۔۔ کچھ ایسا ہی حال آجکل امریکی میڈیا اور وہاں کے صاحبانِ ہوش و خرد کا ہے جو اپنے صدر کی پاکستان کے خلاف شمشیرکشی کی پالیسی کے خلاف ہیں۔

حد یہ ہے کہ وزارت خارجہ کے آفیسرز بھی ٹرمپ کو سمجھا جارہے ہیں کہ وہ توازن کی راہ اختیار کریں اور پاک افغان مسئلے کو زیادہ عمیق نگاہ سے دیکھنے کی طرف توجہ دیں۔ یہ مضمون جس کا عنوان اوپر دیا ہے وہ رچرڈ اولسن(Richard Olson) نے لکھا ہے جو آج (10 جنوری 2018ء) کے ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ کے صفحہ اول پر شائع ہوا ہے۔

اولسن چار سال تک اسلام آباد میں امریکہ کے سفیر (2012ء تا2016ء) رہے۔ یہ سفارت کار لوگ جس جگہ جاتے ہیں وہاں کے سیاسی، سفارتی، عسکری اور سماجی موضوعات پر گہری نظر رکھتے ہیں، کیرئر ڈپلومیٹ ہوتے ہیں، ایک طویل عرصہ دشتِ سفارت کی سیاحی میں گزارا ہوتا ہے اور گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہوتا ہے اس لئے ان کا تجزیہ بہت وزن دار اور معلوماتی ہوتا ہے۔

امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے اور اس کے سفیر جہاں جاتے ہیں اپنے ملک کی خارجہ پالیسی کے تناظر میں وہاں کی عوامی اور حکومتی خواہشوں اور امنگوں کا مشاہدہ اور مطالعہ کرکے واشنگٹن کو مطلع کرتے رہتے ہیں۔

اس لئے میں نے سوچا کہ دیکھوں اولسن صاحب کی رائے کیا ہے۔ کیا وہ بھی ٹرمپ کے طرفدار ہیں یا ان سے مختلف نقطۂ نظر رکھتے ہیں اور اگر رکھتے ہیں تو ان کا تجزیہ قابلِ توجہ ہونا چاہئے۔

وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے مشیروں کی جو ٹیم بیٹھی ہے ان میں دو ٹیمیں بہت وقیع شمار کی جاتی ہیں۔ ان کا تعلق پینٹاگون اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ یعنی وزارت دفاع اور وزارت خارجہ سے ہوتا ہے۔

چونکہ یہ مضمون ایک ایسے سفیر کا ہے، جس نے ابھی چند ماہ پہلے اسلام آباد میں چار سال رہ کر متعدد بار جی ایچ کیو اور وزیراعظم ہاؤس میں جا کر آرمی چیف اور چیف ایگزیکٹو سے کئی ملاقاتیں کیں اور ان کی تفصیلات واشنگٹن میں وزارت خارجہ کو ارسال کیں تو ان کے خیالات، مشورے اور سفارشات، ٹرمپ کے مشیروں کے لئے فوری توجہ کا مواد ہوں گی اور چونکہ ’’دی نیویارک ٹائمز‘‘ امریکہ کی تین سر برآوردہ پرنٹ میڈیا مطبوعات میں سے ایک ہے اس لئے بھی رچرڈ اولسن کا یہ آرٹیکل ایک خاص اہمیت کا حامل ہوگا(باقی دو اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ اور’ دی وال سٹریٹ جرنل‘ میں)


میرا خیال تھا کہ اولسن نے جن اہم افکار و خیالات کو آرٹیکل میں بیان کیا ہے ان کو بنیاد بنا کر اپنے کالم کا مواد بنا دوں۔ لیکن پھر سوچا کہ اگر اس کا ترجمہ کردوں تو اس کا اثر زیادہ، براہِ راست اور قابلِ توجہ ہوگا۔

اس لئے یہ ترجمہ حاضر ہے۔ اس میں میں نے بعض انگریزی الفاظ و اصطلاحات کو اردو میں ترجمہ کرنے کی بجائے اردو میں املا کر دیا ہے۔کچھ عرصے سے یہ اصطلاحات اور یہ الفاظ پرنٹ میڈیا کے قارئین کے لئے زیادہ اجنبی نہیں رہے۔۔۔ اولسن لکھتے ہیں:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گزشتہ ہفتے پاکستان کی فوجی امداد معطل کرنے کا صدر ٹرمپ کا فیصلہ جو اُن الزامات کے جلو میں آیا کہ ’’پاکستان نے ہمیں سوائے ’جھوٹ اور فریب‘ کے کچھ بھی نہیں دیا تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی ایڈمنسٹریشن نے اس ہارڈ لائن اپروچ کی پیروی کی ہے جس کا اشارہ صدر موصوف نے اگست 2017ء میں دیا تھا۔


گزشتہ جمعرات کو وزارت خارجہ نے اس بات کی توثیق کر دی کہ پاکستان کو ملنے والی وہ تمام فوجی امداد معطل کر دی گئی ہے جس میں وہ ’’کولیشن سپورٹ فنڈ‘‘ بھی شامل ہے جو پاکستان کو انسدادِ دہشت گردی کے آپریشنوں کی مد میں اس کی طرف سے خرچ کی گئی رقوم کی واپسی کے طور پر دیا جاتا تھا۔

اور اس کے علاوہ وہ ’’فارن ملٹری فنانسنگ پروگرام‘‘ بھی روک لیا گیا ہے جس سے امریکی اسلحہ جات خریدے جاتے تھے اور امریکی ٹریننگ اور دوسری خدمات فراہم کی جاتی تھیں۔ یہ فیصلہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کو دی جانے والی 1.3 ارب ڈالر (1300 ارب روپے) امداد روک دے گا۔


جذباتی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ فیصلہ شاید ایک ایسے ملک کو سزا دینے کے عمل میں اطمینان بخش محسوس ہوگا کہ جس نے گزشتہ 16 برسوں سے افغانستان میں امریکی دشمنوں کی مدد کی ہے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایڈمنسٹریشن کی یہ اپروچ بیکار ثابت ہو گی۔ بہت سے امریکی لوگوں کے خیال کے برعکس ہمارے مقابلے میں پاکستان کو ہم پر دباؤ ڈالنے کے زیادہ مواقع اور وسائل فراہم ہیں۔


پاکستان کی پالیسی اور امریکی آپشنز کی محدودات (Limitations) کو بہتر طور پر سمجھنے کی چابی خطے کے جغرافیئے اور اس کی تاریخ میں چھپی ہوئی ہے۔ پاکستان کا جغرافیہ یہ ہے کہ وہ دریائے سندھ کے دونوں اطراف میں ایک باریک سے ایسے زمینی ٹکڑے کی طرح واقع ہے جس کا دفاع ممکن نہیں۔ اس ٹکڑے کے مشرق میں ہموار میدانی علاقے ہیں اور مغرب میں ایسے پہاڑ ہیں جن میں جارحانہ طبع والے قبائل آباد ہیں۔ پاکستان کا یہ کمزور اور نازک جغرافیہ کوئی ایسی بڑی محدودیت نہ ہوتی اگر اس کی تاریخ ایک ایسے حریف کی طویل دشمنی سے عبارت نہ ہوتی جس کا نام انڈیا ہے۔


1947ء میں اپنے قیام سے لے کر آج تک پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ اس کی قومی سلامتی اس کے مشرق میں واقع ایک عجیب و غریب شکل کے انڈین جانور (Behemoth) کی طرف سے معرضِ خطر میں ہے۔

پاکستانی ایک طویل عرصے سے اس خوف میں مبتلا ہیں کہ ان کے مشرق میں ان ہموار میدانوں میں انڈین پنجاب کی جانب سے یلغار کرتے ہوئے بھارتی ٹینک آئیں گے اور لاہور اور اس سے بھی پرے نکل جائیں گے اور ان کو روکنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ ہم امریکی، پاکستان کی طرف سے پیش کئے جانے والے اس بھارتی خطرے کی حقیقت سے لاکھ اتفاق نہ کریں لیکن میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ پاکستان کا ہر فرد انڈیا کو اپنے وجود کے لئے ایک خطرہ تصور کرتا ہے۔


انہی حقیقی یا خیالی بھارتی خطرات کے پیش نظر پاکستان ان سے نمٹنے کے لئے غیر روائتی عسکری حل تلاش کرتا رہا ہے۔۔۔ بالخصوص پراکسی جنگوں کی شکل میں۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان آرمی اور اس کی جاسوس ایجنسی (آئی ایس آئی) چوری چھپے ہر قسم کے اینٹی انڈیا اور اینٹی افغان گروپوں کو سپورٹ کرتی آرہی ہے۔


1980ء کے عشرے میں امریکہ نے سوویت یونین کے خلاف ایسی ہی ایک پراکسی وار کی حمائت کی تھی لیکن جب 1989ء میں سوویت افواج افغانستان سے نکل گئیں تو امریکہ نے پاکستان کی حمائت کرنے کی پالیسی ترک کر دی۔ اور 1990ء میں پریسلر ترمیم کے ذریعے ہم نے پاکستان کو سزا دینے کی خاطر اس کی امداد اس لئے بند کر دی کہ پاکستان جوہری ہتھیار بنا رہا تھا۔


لیکن پاکستان کا مسئلہ یہ تھا کہ اس کی سرزمین پر وہ مجاہدین آکر بیٹھ اور بس گئے تھے جنہوں نے افغان جہاد میں امریکہ کی مدد کی تھی اور جس کے نتیجے میں سوویت یونین کو واپس جانا پڑا تھا۔ اس کے علاوہ فاٹا میں پشتونوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جس کے باعث پاکستان، افغانستان سے قطع تعلق نہیں کر سکتا تھا۔

اس لئے پاکستان نے طالبان کو بشمول حقانی نیٹ ورک کہ جس نے صدر ریگن کے دور میں امریکہ کی مدد کی تھی،اپنی سرزمین پر سے آپریٹ کرنے کی اجازت دے دی اور گاہے گاہے ان کو خاموش سپورٹ بھی فراہم کرتا رہا۔


وہ جغرافیائی حالات جو پاکستان کے لئے تشویش کا باعث بنے تھے، وہی امریکہ کو بھی در پیش ہیں۔ گزشتہ 16برسوں میں ہم جو زمین بند (Land-Locked) افغانستان میں آپریٹ کر رہے ہیں تو اس کا انحصار پاکستانی فضاؤں کے استعمال پر ہے۔

ایسی پروازیں ایران کی فضاؤں میں نہیں کی جا سکتیں کیونکہ ان کے ساتھ ہمارا اس سلسلے میں کوئی اس طرح کا معاہدہ نہیں جس طرح کا پاکستان کے ساتھ ہے۔ ان دونوں ملکوں کے علاوہ کوئی اور آپشن اچھی آپشن نہیں۔

وسط ایشیائی ریاستوں کی طرف سے شمالی افغانستان کو انصرامی مدد پہنچائی جا سکتی ہے لیکن اس کے بارے میں مزید کچھ کہنا یا تبصرہ کرنا بے سود ہوگا۔ چنانچہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے تعاون کے بغیر ہماری آرمی کی حالتِ زار اس وہیل مچھلی کی طرح ہوگی جو سمندر سے نکل کر خشکی پر آکر تڑپنے لگتی ہے۔(جاری ہے)

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...