ماربل اور گرینائٹ صنعت کو چینی ٹیکنالوجی سے، فروغ دیا جا سکتا ہے، صدر پاک چین جوائنٹ چیمبر

ماربل اور گرینائٹ صنعت کو چینی ٹیکنالوجی سے، فروغ دیا جا سکتا ہے، صدر پاک ...

لاہور(کامرس رپورٹر)پاکستان کی ماربل اور گرینائٹ صنعت کو جدید چینی ٹیکنالوجی سے ہمکنار کر کے عالمی منڈی میں فروغ دیا جا سکتا ہے ۔ یہ بات پاک چین جوائینٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ایس ایم نوید نے مجلس قائمہ برائے چائنہ افئیرز کے چیئرمین اور سابق صدر پاک چائنہ جوائینٹ چیمبر کے سابق صدر، مسٹر وانگ زہائی کے ساتھ ایک خصوصی اجلاس کے دوران کہی۔ اس موقع پر ایس ایم نوید نے کہا کہ ملک کے قیمتی ماربل ذخائر سے مستفید ہونے کیلئے ضروری ہے کہ اس سیکٹر میں ماربل کے پہاڑوں کو توڑنے کیلئے جدید ٹیکنالوجیر کواستعمال کیا جائے۔ جس میں بالخصوص چین کی معاونت کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔انہوں نے اس سلسلے میں سی پیک منصوبے کے تحت ماربل انڈسٹریل پارکس کے قیام کی تجویز بھی پیش کی اور کہا کہ اس سلسلے میں پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی(پاسڈک ) کو فعال بنا یا جائے۔اُنہوں نے کہا کے جدید چینی ٹیکنالوجی سے ماربل مینوفیکچرنگ کا عمل کم خرچ اور معیاری شکل اختیا کر سکتا ہے جس سے بین الاقوامی منڈیوں میں موجود ماربل کی مانگ میں پاکستان بھی اپنا حصہ حاصل کر سکتا ہے ۔ ایس ایم نوید نے بتایا کہ اس وقت بھی پاکستانی ماربل کو عالمی منڈیوں میں پسند کیا جاتا ہے لیکن پرانی ٹیکنالوجی کے استعمال کے باعث سستی قیمت لگائی جاتی ہے۔ اُنہوں نے آگاہ کیا کہ پاکستان میں قیمتی ماربل ذخائر پاکستان کے تمام صوبوں میں پائے جاتے ہیں ، بلوچستان میں خضدار، لورالئی ، لسبیلااور چاغی کے مقام پر جبکہ خیبر پختونخواہ میں مالا کنڈ، مردان ،ہزارہ،پشاور اور کوہاٹ میں اعلی معیار کا ماربل تیار ہو رہا ہے۔

ایس ایم نوید نے کہا کہ ماربل انڈسٹری کی ترقی میں حائل مشکالات کا جائزہ لینے اور ان پر قابو پانے کیلئے حکومت کو چاہئے کہ وزارت صنعت و پیداوار کے ماتحت ادارے ’’پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی‘‘ کو متحر ک اور مستحکم بنائے۔ اُنہوں نے مزید بتایا کہ پوری دنیا میں ماربل کی مجموعی پیداوار میں سے 50% ماربل، کان کنی کے دوران ضائع ہو جا تاہے جبکہ پاکستان میں کان کنی کی پرانی تیکنیک کی وجہ سے ضائع ہونے والے ماربل کی شرح 73% ہے، اُنہوں نے کہا کہ بلاسٹنگ کی جگہ جدید وائر کٹنگ تکنیک کو متعارف کرایا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایس ایم نوید نے پاکستانی حکومت کی جانب سے سرمایہ کاروں کیلے بنائی گئی خصوصی پالیسیوں اور رعایات کے بارے میں بھی آگاہ کیا ۔ اُنہوں نے کہا کہ اس وقت ماربل اینڈ گرینائٹ کی عالمی صنعت 62 بلین ڈالر کے قریب ہے جبکہ اس میں پاکستان کا حصہ 1% سے بھی کم ہے جو کہ پالیسی سازوں کیلئے تویشناک بات ہونی چاہئے۔ مسٹڑ وانگ زہائی نے ایس ایم نوید کی فراہم کرد معلومات کو چین کے متعلقہ اداروں تک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ وہ چین کی ماربل مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی کو پاکستان میں متعارف کرانے کی تجویز چینی ماربل کمپنیوں کے سامنے رپیش کریں گے۔ مسٹر وانگ نے پاکستان میں جدید تکنیک کے ساتھ ساتھ ریسرچ اینڈ ٹریننگ سنٹرز کے قیام کی بھی تجویز دی۔

مزید : کامرس