یمن کی پیپلز کانگریس کا حوثیوں سے علی صالح کی میت واپس کرنے کا مطالبہ

یمن کی پیپلز کانگریس کا حوثیوں سے علی صالح کی میت واپس کرنے کا مطالبہ

صنعاء(این این آئی)یمن کی جنرل پیپلز کانگریس نے ایران نواز حوثی گروپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقتول سابق صدر علی عبداللہ صالح کا جسد خاکی واپس کرے اور گرفتار کیے گئے تمام افراد کو رہا کیا جائے۔عرب ٹی وی کے مطابق یمن کی سیاسی جماعت کی جانب سے حوثیوں سے یہ اس نوعیت کا پہلا باضابطہ مطالبہ ہے۔پیپلز کانگریس کے اجلاس کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں جماعت کے عبوری صدر صادق ابو راس نے کہا کہ ہم حوثیوں سے مقتول صدر علی صالح کا جسد خاکی واپس کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس کیساتھ ساتھ گرفتار کیے گئے پیپلز کانگریس کے تمام کارکنوں اور رہ نماؤں کو بھی فوری طور پررہا کیا جائے۔پیپلز کانگریس کے وفد نے اقوام متحدہ کے یمن کے لیے معاون خصوصی کے نائب معین شریم سے سے ملاقات کی۔ خیال رہے کہ معین شریم ان دنوں حوثیوں کے ساتھ بات چیت کرکے انہیں اقوام متحدہ کی زیرنگرانی بات چیت میں شمولیت پرآمادہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔پیپلز کانگریس کی ویب سائیٹ پر پوسٹ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جماعت کی قیادت نے مقتول صدر علی عبداللہ صالح کی میت واپس کرنے کا مطالبہ کرنے کے ساتھ حوثیوں پر زور دیا ہے کہ وہ گرفتار کیے گئے تمام کارکنان کو فوری طور پر رہا کریں۔

پیپلز کانگریس کی طرف سے علی عبداللہ صالح کے گرفتار بیٹے صلاح عبداللہ صالح کے بارے میں معلومات فراہم کرنے اور اس کی صحت کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔بیان میں اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کے ذریعے احمد علی عبداللہ صالح پرعاید کردہ پابندیاں اٹھائے۔

اسرائیلی فوجی کے قتل کے الزا م میں سزاکاٹنے والے فلسطینی کے جیل میں 35سال مکمل

اسرائیلی جیل میں بے گناہ سڑنے والے کریم کی سزاختم ہونے میں پانچ سال باقی،والدہ بیٹے کی رہائی کی منتظر

مقبوضہ بیت المقدس(این این آئی)اسرائیلی فوجی کے قتل کے الزام میں 40سال قید کی سزاکاٹنے والے فلسطینی شہری کو جیل میں 35برس بیت گئے،عرب ٹی وی کے مطابق اسرائیلی کے ہاتھوں 1948 میں قبضے لی گئی فلسطینی اراضی کے شمالی تکون میں عارہ اور عرعرہ نامی دیہات کے درمیان علاقے میں ایک تین منزلہ مکان واقع ہے۔ اس مکان میں 85 سالہ فلسطینی خاتون (حجّن بی) صْبحیہ یونس اپنی کرسی پر بیٹھے دن بھر سڑک پر آتے جاتے راہ گیروں کو تکتی رہتی ہیں۔بوڑھی خاتون کے چہرے پر نمایاں آثار اپنے اندر ایک تاریخ رکھتے ہیں جس کو کتابیں بیان نہیں کر سکتی ہیں۔ کیونکہ صبحیہ یونس کا بیٹا کریم یونس 35 برسوں سے اسرائیلی جیلوں میں قید ہے۔صبحیہ خاتون نے بتایاکہ قابض اسرائیلی فوج نے اْن کے گھر پر دھاوا بول دیا اور فوجیوں نے کریم کی تلاش شروع کردی۔ میں نے اْنہیں آگاہ کیا کہ وہ گھر پر نہیں ہے۔ اْن دنوں وہ اپنی یونی ورسٹی کے نزدیک بئر السبع میں سکونت پذیر تھا۔ صبحیہ کے مطابق اسرائیلی فوج نے یونی ورسٹی پر چھاپہ مارا اور کریم کو اْس کی کلاس کی نشست پر سے گرفتار کر لیا۔ اْس دن سے لے کر آج تک کریم پابندِ سلاسل ہے۔اسرائیلی عدالت کریم کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ سنا چکی ہے۔ اسرائیلی جیل حکام نے کریم کو 75 روز کے لیے سْرخ لباس پہنا دیا قبل اس کے کہ سزا میں کمی کر کے اْسے عمر قید یعنی 40 برس کی جیل میں تبدیل کر دیا جائے۔ کریم پر ایک اسرائیلی فوج کو ہلاک کرنے کا الزام ہے۔ کریم نے اسرائیلی جیلوں میں رہتے ہوئے دو کتابیں لکھ ڈالیں۔ ابھی اس کے سامنے 5 برس کی قید اور ہے جس کے بعد 40 برس کی عمر قید اختتام کو پہنچ جائے گی۔

مزید : عالمی منظر