سنگاپور میں تیل چوری کرنے والے گروہ کے 17 ارکان گرفتار

سنگاپور میں تیل چوری کرنے والے گروہ کے 17 ارکان گرفتار

سنگاپور(آئی این پی)سنگاپور میں ایک آئل ریفائنری سے وسیع پیمانے پر تیل چوری کرنے والے ایک گروہ کے 17 ارکان کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ ہزاروں ٹن تیل والا ایک آئل ٹینکر قبضے میں لے کر کئی ملین ڈالر کی نقد رقوم بھی ضبط کرلی گئی ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق حکام نے بتایا کہ تیل چوروں کے اس بہت بڑے گروہ کے قریب ڈیڑھ درجن ارکان کو حراست میں لینے کے علاوہ ان کی ملکیت 2.3 ملین امریکی ڈالر کے برابر نقد رقوم بھی قبضے میں لے لی گئیں۔ پولیس کی طرف سے رات گئے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد کی عمریں 30 اور 60 برس کے درمیان ہیں اور انہیں سنگاپور کی سٹی اسٹیٹ میں مختلف مقامات پر مارے گئے چھاپوں کے دوران حراست میں لیا گیا۔ملزمان پر الزام ہے کہ وہ کئی مہینوں سے تیل کی بین الاقوامی تجارت کرنے والی بہت بڑی اینگلو ڈچ کمپنی شیل کی ایک ریفائنری سے وسیع پیمانے پر تیل چوری کر رہے تھے۔

اس سلسلے میں شیل کمپنی کی طرف سے سنگاپور کی پولیس کو ایک شکایت گزشتہ برس اگست میں درج کرائی گئی تھی۔ اس شکایت کے بعد پولیس ماہرین مسلسل در پردہ تفتیش میں مصروف تھے اور یہ گرفتاریاں انہی تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی ہیں۔پولیس نے جو آئل ٹینکر اپنے قبضے میں لیا ہے اس پر 12 ہزار ٹن تیل لادا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مشتبہ ملزمان کے تمام بینک اکانٹ بھی منجمد کر دیے گئے ہیں۔ اس بارے میں شیل کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ گرفتار شدگان میں سے کچھ متعلقہ ریفائنری میں کام کرنے والے اس کمپنی کے اپنے ملازمین ہیں، جو چوروں کے ساتھ ملی بھگت سے اس جرم کا ارتکاب کر رہے تھے۔اے ایف پی نے لکھا ہے کہ ان ملزمان نے مبینہ طور پر یہ تیل مغربی سنگاپور میں پولا بوکوم کے صنعتی علاقے سے شیل کی ایک ریفائنری سے چوری کیا تھا۔ یہ جگہ دنیا بھر میں شیل کے صاف تیل کی پیداوار کے اہم ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ اس برطانوی ڈچ کمپنی نے اس کے علاوہ چوری کیے گئے تیل سے متعلق مزید کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔سنگاپور کے بارے میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ دنیا بھر میں تیل کی تجارت کے اہم ترین مراکز میں سے ایک ہے۔ مشرق وسطی سے بھیجا گیا زیادہ تر برآمدی تیل سنگاپور سے ہوکر ہی مشرقی ایشیائی ممالک تک پہنچتا ہے۔ اسی لیے اس شہری ریاست میں دنیا کی بہت سی بڑی بڑی تیل کمپنیوں نے اپنی ریفائنریاں قائم کر رکھی ہیں۔

مزید : عالمی منظر