حالات کی ستم ظریفی نے مصری خاتون کو لوہاربننے پر مجبورکردیا

حالات کی ستم ظریفی نے مصری خاتون کو لوہاربننے پر مجبورکردیا

قاہرہ(این این آئی)مصرمیں ایک 26 سالہ خاتون اسماء السید کو حالات کی ستم ظریفی لوہار کا پیشہ اپنانے پر مجبور کردیا،عرب ٹی وی کے مطابق اسماء نے شمالی مصرکی مشرقی گورنری میں اسمائنے ایک ورکشاپ بنا رکھی ہے جہاں وہ لوہے کے مختلف اوزار ڈھالتی ہیں۔ اسماء کا کہناتھا کہ لوگ اس پر اعتماد کرتے ہیں اور وہ اپنے گاہکوں کو مایوس نہیں کرنا چاہتیں۔ اگر میں نے شادی کی تو میرے گاہک ختم ہوجائیں گے۔انہوں نے کہا کہ لوہے کا کام اس کے لیے نیا نہیں بلکہ وہ بچپن سے اس پیشے سے وابستہ ہیں۔اس کے والد ایک لوہار تھے اور وہ انہیں گھر میں یہ کام کرتا دیکھتی تھیں۔ اسے بھی یہ پیشہ پسند آیا اور اس نے اپنے والد سے کہا کہ وہ اسے اس پیشے کی تعلیم دلوائیں۔اسماء کا کہنا تھا کہ پہلے تو والد نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔ ان کے خیال میں لوہے کا کام خواتین کے بس کی بات نہیں۔ اس میں جسمانی مشقت بھی زیادہ کرنا پڑتی ہے تاہم اسماء کے مسلسل اصرار کے بعد انہیں اپنی بیٹی کو یہ کام سکھانا شروع کردیا۔ایک سول کے جواب میں اسماء السید نے کہا کہ اس نے لوہارکا پیشہ اس لیے اپنایا تاکہ وہ خاندان کی معاشی ضروریات پوری کرسکیں۔

وہ شادی نہیں کرنا چاہتی کیونکہ شادی کی صورت میں اس کا یہ پیشہ بھی اس سے چھوٹ جائے گا اور گھر کا چولہا چلانے کے لیے کوئی متبادل نہیں ہوگا۔

مزید : عالمی منظر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...